افسانچہ : بے لگام گھوڑا۔۔ از قلم : الطاف آمبوری۔
افسانچہ: بے لگام گھوڑا۔
از قلم : الطاف آمبوری۔۔ 9952391661
گلی کے موڑ پر ہر شام ایک ہی شور اٹھتا تھا۔ فرقان اپنی موٹرسائیکل کو ایسے دھاڑتا ہوا نکالتا جیسے پوری بستی کو بتانا چاہتا ہو کہ وہ رفتار کا مالک ہے۔ اس کی ماں روزانہ سمجھاتی، مگر وہ مسکرا کر گھر سے نکل جاتا۔ اسے لگتا تھا کہ تیز چلانا ہی جوانی کی پہچان ہے۔
اس کا دوست فرحات کئی بار کہہ چکا تھا، *“فرقان، یہ موٹرسائیکل بے لگام گھوڑا نہیں۔ لگام ڈھیلی ہو تو دوڑاتا نہیں، گرا دیتا ہے۔”*
فرقان ہنسی میں بات ٹال دیتا۔
ایک رات بارش نے سڑک کو چمکا دیا تھا۔ فرقان پہلے سے زیادہ رفتار پر نکلا۔ موڑ آیا، رفتار نہیں رکی، بس ایک لمحے کی پھسلن، ایک بے اختیار جھٹکا اور پھر اندھیرا۔
ہوش آیا تو اسپتال کی صفائی سے بھری روشنی اور اس کی ماں کی بھیگی ہوئی آنکھیں سامنے تھیں۔ فرحات اس کے پاس بیٹھا خاموشی سے دعائیں پڑھ رہا تھا۔
چند ہفتوں بعد فرقان اسکول کے سامنے آہستہ آہستہ موٹرسائیکل چلاتا نظر آیا۔ ہیلمٹ پہنے، رفتار قابو میں، آنکھوں میں ایک نئی سنجیدگی۔
فرحات نے ہنستے ہوئے پوچھا، *“تو اب گھوڑا بے لگام نہیں رہا؟”*
فرقان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، *“نہیں یار۔ اب لگام میرے ہاتھ میں ہے، اور عقل میرے ساتھ ہے۔”*
سبق وہی تھا، مگر سمجھ اب دل میں اتر چکی تھی۔ *نئی نسل کو رفتار نہیں، ذمہ داری مضبوط بناتی ہے۔ موٹرسائیکل تبھی ساتھ دیتی ہے جب سوار اپنی حد پہچان لے۔*
Comments
Post a Comment