شیخاپور کی فضائیں تکبیر و تہلیل سے معطر: عید الفطر کا فقید المثال اور روح پرور اجتماع۔
ظہیرآباد 21/ مارچ(نمائندہ) ریاست تلنگانہ کے تاریخی قصبہ شیخاپور میں عید الفطر کا تہوار اپنی تمام تر رعنائیوں، ملی وقار اور روایتی شان و شوکت کے ساتھ منایا گیا۔ مقامی عیدگاہ میں فرزندانِ اسلام کا ایک بحرِ بیکراں امنڈ آیا، جہاں ہزاروں قدوسی صفت انسانوں نے ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر بارگاہِ ایزدی میں ناصیہ فرسائی کی اور بندگی کا حق ادا کیا۔ عید کی نماز ٹھیک 9 بجے ادا کی گئی۔
نمازِ عید کے پروقار انعقاد سے قبل حضرت مولانا ایوب مولوی صاحب نے مجمعِ کثیر سے ایک فکر انگیز اور رقت آمیز خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص فصیح و بلیغ اور دلنشین پیرایۂ بیان میں نفوسِ قدسیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ماہِ صیام کی پرنور ساعتوں میں ہم نے جس تقویٰ، طہارت اور ضبطِ نفس کی ریاضت کی ہے، وہ محض ایک ماہ کا عارضی قیام نہیں بلکہ ایک ابدی مشعلِ راہ ہے۔ نیکیوں کا یہ تسلسل سال کے بارہ مہینے ہماری زندگیوں کا جزوِ لاینفک ہونا چاہیے تاکہ ہم ایک مثالی اور صالح معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں۔
مزید انہوں نے صدقہِ فطر کی شرعی نزاکتوں اور اس کے معاشی ثمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے حاضرین کے دلوں کو گرمایا اور نصیحت کی کہ
عید کی مسرتیں اس وقت تک ادھوری ہیں جب تک ہم اپنے معاشرے کے بے کس، مفلوک الحال اور پس ماندہ طبقات کو اپنی خوشیوں میں شامل نہ کر لیں۔ ہر صاحبِ ثروت پر لازم ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ فطرہ ادا کرے، تاکہ کوئی بھی تہی دست عید کی خوشیوں سے محروم و تشنہ نہ رہے۔اسی طرح سے
نمازِ عید کی امامت کے فرائض حافظ محمد حاجی مولوی صاحب خیری نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ انجام دیے۔ بعد ازاں جناب محمد حامد مولوی صاحب نوری نے عربی زبان میں ایک جامع اور فصیح خطبہ پڑھا۔ خطبے کے اختتام پر جب بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ بلند ہوئے تو رقت انگیز منظر دیدنی تھا۔ امتِ مسلمہ کی سربلندی، ملک کی سالمیت، باہمی اخوت اور عالمِ اسلام کے استحکام کے لیے کی جانے والی دعاؤں پر عیدگاہ کی فضا "آمین" کی صداؤں سے معمور ہو گئی۔ واضح رھےکہ اس موقع پر
مثالی انتظامات اور حسنِ انتظام :
عیدگاہ کمیٹی کے متحرک و فعال صدر جناب محمد عظیم الدین صاحب اور اراکینِ کمیٹی کی شبانہ روز محنت اور براہِ راست نگرانی میں تمام انتظامات اپنی مثال آپ تھے۔ عیدگاہ کی دلکش تزئین و آرائش اور صفائی و ستھرائی کے جملہ امور موذن محمد غوث الدین اور موذن محمد عبدالوحید کی مستعدی سے پایہِ تکمیل کو پہنچے۔ حسنِ انتظام اور بہتر حکمتِ عملی کی بدولت ہزاروں کے مجمع میں ایک مثالی نظم و ضبط دیکھنے کو ملا، جس پر مقامی مقتدر حلقوں اور عمائدینِ شہر نے کمیٹی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔۔۔
Comments
Post a Comment