جھٹیاں کیسے گذاریں۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔


جھٹیاں کیسے گذاریں۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
   
  صحت و تندرستی اور فرصت یہ دو بڑی نعمتیں ہیں لیکن اکثر لوگ اسکے بارے میں کوتاہی اور لاہرواہی برتے ہیں اور اسکی قدر نہیں کرتے حالانکہ یہ دونوں نعمتیں آدمی کو دنیاوی و اخروی زندگی کو کامیاب بنانیکے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں لیکن انسان انکا صحیح استعمال نہیں کرتا اور انھیں ضائع کردیتا ہے جیساکہ حدیث شریف میں بھی بیان کیا گیا ہے 
  اور یہ نعمتیں آدمی کے پاس ہمیشہ قائم و باقی نہیں رہتی اسلئے حدیث شریف میں ان نعمتوں کے ختم اور زائل ہونے سے پہلے انکی قدردانی کرتے ہوئے انکو عبادت میں اور اپنی اخروی زندگی کو کامیاب بنانے میں استعمال کرنیکی ترغیب دی گئی ہے 
  آج کے سائنس و ٹکنالوجی کے اس دور میں انسان اپنی دنیاوی زندگی میں اس قدر مشغول و منہمک ہوگیا ھیکہ اسکے پاس اپنے رب کی عبادت کرنے اور شریعت کو سیکھنے اور سمجھنے کے لئے اسکے پاس وقت اور فرصت نہیں ہے بلکہ سارا وقت اور ساری صلاحیتیں دنیاوی زندگی کو پرعیش اور راحت اور آرام دہ بنانے میں صرف ہورہی ہیں اور یہ نظریہ اور یہ سوچ مسلمانوں کے لئے بڑے نقصان اور خسارے کی ہے اسلئے کہ وہ جانتا اور مانتا ھیکہ دنیا کی زندگی اور اسکا یہ عیش و آرام مختصر عارضی اور وقتی اور ختم ہونے والا ہے اصل آخرت کی لامحدود زندگی ہے جسکی تیاری کے لئے اللہ تعالی ہمیں دنیا میں بھیجا ہے اسلئے انسان کو اپنے مقصد حیات کو کبھی بھولنا نہیں چاہئے 
   دین پر عمل پیرا ہونے اور دینداری کو اپنانے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ دینی تعلیم و تربیت سے ناواقفیت ہے عصری درسگاہوں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کو دینی تعلیم و تربیت کے بہت کم موقع ملتے ہیں اسطرح عصری نصاب تعلیم اور اسکا ماحول کفر و شرک اور اسلامی تہذیب و اخلا
ق کے بالکل خلاف ہوتاجس سے مسلمان طلبہ بھی متاثر ہوجاتے ہیں اور اسلامی عقائد و نظریات اور اسلامی تہذیب و اخلاق کے بارے میں شک و شبہے میں پڑ جاتے ہیں اور آگے چل کر یہی چیزیں انکے دین بیزاری اور دین اسلام سے ارتداد کا سبب بن جاتی ہیں اسلئے والدین اور سرپرستوں کو اپنی اولاد کو دیندار بنانیکی فکر کرنی چاہئے اسطرح دینداری کیساتھ اپنے گھر کے ماحول کو دینی بنانیکی فکر کرنی چاہئے اسلئے کہ انسان پر ماحول کا اثر زیادہ پڑتا ہے اسلئے کہ انسان جس ماحول اور جس معاشرے میں رہتا ہے لازمی طورپر اسکے اثر کو اپناتا اور قبول کرتا ہے 
  مدارس والے ان چھٹیوں کے اوقات میں کم و بیش دنوں کے لئے مختصر طورپر دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہیں اور انکے اسلامی عقائد و افکار اور اسلامی تہذیب کی اصلاح و درستگی اور دین کی بنیادی اور ضروری باتوں کی تعلیم کیساتھ انکے تربیت کا بھی انتظام کیا جاتا ہے 
  اسطرح دعوت و تبلیغ میں عصری تعلیم گاہوں کے طلبہ کرام کے لئے ان چھٹیوں میں کم و بیش ایام کے لئے جماعتیں نکالی جاتی ہیں تاکہ انکے اندر دینی مزاج پیدا ہوجائے اور وہ دینداری کیساتھ داعی بھی بن جائے جو ہر ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے 
   اسلئے والدین اور سرپرست حضرات سے درخواست ھیکہ چھٹیوں کے ان اوقات میں اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر کریں اسلئے کہ آج عالمی اور ملکی طور پر اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے اسطرح مسلمانوں کو دینداری اختیار کرنیسے اور انھیں اپنی اسلامی تہذیب کو اپنانے سے روکنے اسطرح انھیں اپنے دین سے دور کرنے اور انھیں اپنے دین اور اپنی تہذیب سے متنفر کرانیکی کوششیں چل رہی ہیں لیکن دشمنان اسلام اپنی ان ناپاک کوششوں میں ان شاء اللہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے 
   اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے ______ جتنا کہ دباوگے اتناہی وہ ابھرے گا 
   اسلئے ہرایک مسلمان کو اپنے ساتھ اپنی اولاد کے دینداری کی فکر کرنی چاہئے 
   اللہ تعالی دین اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور پورے عالم میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب کو عام فرمائے 


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ