لیلۃُ الجائزہ ایک عظیم اور بابرکت رات ہے۔۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
لیلۃُ الجائزہ ایک عظیم اور بابرکت رات ہے۔
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
لیلۃُ الجائزہ ایک عظیم اور بابرکت رات ہے، جو دراصل ماہِ رمضان کی عبادتوں کا انعام ہے۔ اس رات کی فضیلت ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں اور بھی واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ"
(سورۃ البقرہ: 185)
یعنی تم روزوں کی گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ رمضان کے اختتام پر اللہ کی حمد، شکر اور ذکر میں مشغول ہونا چاہیے۔
احادیث میں آتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں"
(صحیح بخاری)
علماء کرام فرماتے ہیں کہ عید سے ایک رات پہلے (لیلۃ الجائزہ) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کی عبادتوں کا اجر عطا فرماتا ہے، اس لیے اسے "انعام کی رات" کہا جاتا ہے۔
لہٰذا اس مبارک رات میں ہمیں چاہیے کہ:
سچی توبہ اور استغفار کریں
نوافل ادا کریں
تلاوتِ قرآن کریں
دل سے دعائیں مانگیں
یہ غفلت یا فضول کاموں میں گزارنے کی رات نہیں، بلکہ اپنے رب کو راضی کرنے کا سنہری موقع ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں لیلۃ الجائزہ کی قدر کرنے، اس میں اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے اور اپنی رحمتوں سے نوازنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲
Comments
Post a Comment