خانوادۂ بدر کی چار روزہ عید تقریبات: علم و ادب کا پُر وقار سنگم اور خاندانی یگانگت کا مثالی مظاہرہ - بیت بازی کے معرکے میں مردوں کی ٹیم فاتح، سیرت کوئز میں ڈاکٹر مجاہد اللہ خان کی فیملی نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی؛ بزرگوار الحاج مصدق اللہ خان کا آئندہ بھی انعامی مقابلوں کے انعقاد کا اعلان۔



خصوصی رپورٹ (شعیب اللّه خان) خانوادۂ بدر نے اپنی دیرینہ اور پُر وقار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے امسال بھی عید الفطر کے چاروں ایام کو یادگار بنا دیا۔ ادبی، ثقافتی اور مذہبی رنگوں سے سجی ان تقریبات نے نہ صرف خاندانی اتحاد کو جلا بخشی بلکہ نئی نسل کو اپنی تہذیب اور علمی جڑوں سے جوڑنے کا اہم فریضہ بھی انجام دیا۔ ان تمام علمی و تفریحی سرگرمیوں کا محور خاندانی ہم آہنگی اور بچوں و نوجوانوں میں ذوقِ مطالعہ پیدا کرنا تھا۔
پہلا دن: روحانی آغاز اور روایتی اجتماع
تقریبات کا باقاعدہ آغاز عید کے پہلے روز (21 مارچ) معاذ عدیل خان (ابن آیت اللہ خان) کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی نورانیت نے پوری محفل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ روایت کے مطابق تمام خاندان مرحوم موثق اللہ خان صاحب کے مکان پر یکجا ہوا۔ جہاں سے تمام افرادِ خانہ روایتی جوش و خروش کے ساتھ ایک قافلے کی صورت میں نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے عیدگاہ روانہ ہوئے۔ نماز سے واپسی پر ایک پُر تکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جس میں خاندان بھر کے افراد نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد پیش کی اور بزرگوں نے بچوں میں عیدی تقسیم کر کے خوشیوں کو دو چند کر دیا۔
دوسرا دن: بیت بازی کا شعری معرکہ
عید کے دوسرے روز (22 مارچ) کی میزبانی کے فرائض الحاج مصدق اللہ خان صاحب نے انجام دیے۔ ضیافتِ طعام کے بعد ایک پُروقار ادبی نشست سجی، جس کا مرکز "بیت بازی" کا دلچسپ مقابلہ تھا۔ اس مقابلے میں مردوں اور مستورات کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ لفظی معرکے اور اشعار کے تبادلے نے شرکاء کو خوب محظوظ کیا۔ کڑے مقابلے کے بعد مرد حضرات کی ٹیم نے اپنی شعری گرفت اور حاضر دماغی کی بدولت برتری ثابت کرتے ہوئے یہ جیت اپنے نام کی۔
تیسرا دن: سیرت النبی ﷺ کوئز اور علمی تجلیات
تیسرے روز (23 مارچ) تمام اہل خانہ ڈاکٹر مجاہد اللہ خان صاحب کے گھر جمع ہوئے۔ یہاں پُر تکلف عشائیہ کے بعد "سیرت النبی ﷺ کوئز" کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف فیملی گروپس نے پوری تیاری کے ساتھ حصہ لیا۔ اس نشست کا مقصد خاندان کے بچوں اور نوجوانوں کو حضور اکرم ﷺ کی زندگی کے روشن پہلوؤں سے آگاہ کرنا تھا۔ علمی معلومات کے اس کڑے مقابلے میں ڈاکٹر مجاہد اللہ خان کی فیملی نے پہلی پوزیشن حاصل کر کے اپنی برتری ثابت کی۔
چوتھا دن: فی البدیہہ تقاریر اور فکری نشو و نما
عید کا چوتھا روز (24 مارچ) ڈاکٹر نعمان اللہ خان صاحب کے گھر ایک پُر وقار دعوت کے نام رہا۔ اس موقع پر ایک منفرد "فی البدیہہ تقریری مقابلہ" اور "جنرل نالج کوئز" کا انعقاد کیا گیا، جس نے شرکاء کے علمی ذوق کی تسکین کی۔ نوجوانوں نے مختلف موضوعات پر فی البدیہہ اظہارِ خیال کر کے اپنی خطابت اور اعتماد کا لوہا منوایا۔ ان تمام تقریبات کو خاندان کی معزز شخصیات واثق اللہ خان نوید صاحب، لیکچرار عرفان اللہ خان صاحب، انجینئر جنید اکرام خان صاحب، انجینئر آیت اللہ خان صاحب اور عبداللہ خان صاحب کی بھرپور سرپرستی اور موجودگی نے مزید وقار بخشا۔
مثالی نظامت اور اختتامی دعا
تقریبات کی شاندار کامیابی میں جہاں مشاہد اللہ خان اور جواد افضل خان کی انتظامی محنت شامل تھی، وہیں شعیب اللہ خان کی نظامت نے پوری محفل کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ انہوں نے اپنی شگفتہ بیانی، برجستگی اور فصاحت و بلاغت کے ذریعے نہ صرف پروگرام کے تسلسل کو برقرار رکھا بلکہ اپنے پُر اثر اور ادبی لب و لہجے سے حاضرین کے دل جیت لیے۔ اس چار روزہ جشنِ عید کا باقاعدہ اختتام ممتاز عالمِ دین مولانا کامران اللہ خان اشاعتی کی رقت آمیز اور پُر اثر دعا پر ہوا۔ بزرگوار الحاج مصدق اللہ خان صاحب نے تمام کاوشوں کو سراہتے ہوئے آئندہ بھی ایسے علمی مقابلوں کے انعقاد کا اعلان کیا تاکہ خاندان میں فکری و لسانی شعور برقرار رہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ