مجاہدِ تعلیم: الحاج ڈاکٹر محمد طاہر شیخ، ایک روشن عہد کا باب بند ہوا - "موت اس کی زمانہ کرے جسے یاد". ازقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔


مجاہدِ تعلیم: الحاج ڈاکٹر محمد طاہر شیخ، ایک روشن عہد کا باب بند ہوا  - 
 "موت اس کی زمانہ کرے جسے یاد".
ازقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔

شیش گر برادری کا یہ وہ سپوت تھا جو آئینے کی طرح صاف دل، روشن ذہن اور بے لوث خدمت کے جذبے سے مالامال تھا۔ نرم نازک نقش و نگار کی طرح نرم نازک دل 
الحاج ڈاکٹر محمد طاہر شیخ ،وہ سادہ مزاج، باکردار، منکسر المزاج اور قوم و ملت کا ہمدرد جس نے اپنی پوری زندگی تعلیم کی شمع جلانے اور مستقبل کی نسلوں کے مقدر روشن کرنے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ یہ وہ مردِ مجاہد تھا جس کے بارے میں بے ساختہ زبان پر حدیثِ معنی خیز آتی ہے: "موت اُس کی زمانہ کرے جسے یاد"۔
تعلیم کی مشعل بردار زندگی، عام گھرانے میں آنکھ کھولنے والے ڈاکٹر طاہر شیخ نے شدید معاشی تنگیوں میں علم حاصل کیا۔ انہی مراحل نے ان کے دل میں یہ عہد راسخ کر دیا تھا کہ“جو مشکلات میں نے جھیلی ہیں، آنے والی نسلوں کو ان سے محفوظ رکھنا ہے۔” اللہ نے ان کی نیتوں میں برکت عطا کی اور انہیں سرکاری شعبے میں ویٹرنری ڈاکٹر کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں ملیں۔ لیکن تبادلے کہیں بھی رہے ہوں،شھر
و جامع مسجد کا آنگن، اور قوم و ملت سے محبت انہوں نے کبھی نہیں چھوڑی۔ایمرجنسی کے زمانے میں حکومت نے ان کو پابند اور محدود کرنے کی بھی کوشش کی وہ ملازمت سے استعفیٰ دینے اور بیرون ضلع تبادلہ پر راضی ہو گئے مگر اپنے تعلیمی فلاحی مشن سے نہیں ہٹے 
تعلیم کے ماسٹر مائنڈ… شہر کا اصل ڈیفینڈر۔ شہر میں جہاں جہاں تعلیم کا کوئی چراغ روشن ہوا، اس کی لو میں ڈاکٹر طاہر شیخ کی محنت، اخلاص اور فکر ضرور شامل رہی۔ شہر کے تعلیمی ڈھانچے کو بدلنے والی جو "ماسٹر مائنڈ" ٹیم تھی، اس کا سب سے مضبوط دفاعی ستون ڈاکٹر طاہر شیخ تھے۔ چھٹی کے دن احباب جہاں بیٹھتے، گفتگو کا موضوع صرف ایک ہوتا تعلیم، ادارے، مستقبل کے تعلیمی خواب، اور قوم کی بیٹیوں کا روشن کل۔
دخترانِ ملت کی تعلیم کا عظیم سفر۔انتہائی نامساعد حالات میں جس ادارے نے دخترانِ ملت کے تعلیمی مستقبل کو سنوارا،،انجمن خدمتِ خلق۔۔اس کی بنیاد کے منظر، پس منظر میں کھڑے افراد میں ڈاکٹر طاہر شیخ کا کردار مرکزی اور فیصلہ کن تھا۔ آج یہی ادارہ نہ صرف مہاراشٹر بلکہ قومی سطح پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔اس کی فارغ التحصیل سینکڑوں طالبات دنیا کے کئی ممالک میں خدمات انجام دے رہی ہیں،زندگی بسر کر رہیں ہیں اور ان کی کامیابی کے پیچھے کہیں نہ کہیں مرحوم کا خواب اور کوشش شامل ہے۔ اقراء ایجوکیشن سوسائٹی۔۔۔ ایک قومی تعلیمی شناخت، ایک روشن حقیقت، اقراء ایجوکیشن سوسائٹی جیسے عظیم ادارے کی بنیاد میں بھی وہی ہاتھ شامل ہے جس نے ہمیشہ قوم کے لئے خواب نہیں، عمل کا عزم پیدا کیا۔اس سوسائٹی کی کامیابیوں کی داستان میں مرحوم کی فکری رہنمائی اور تجویز کردہ حکمتِ عملی نمایاں ہے۔ علم و آگہی کا سیّاح، تعلیم اُن کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ملک گیر سطح پر جہاں کوئی تعلیمی سیمینار، کتاب میلہ یا کانفرنس ہوتی مرحوم اپنی ٹیم کے ساتھ لازماً شریک ہوتے۔اردو و فارسی کے اشعار، احادیث نبوی، مراٹھی و انگریزی اقوال۔۔ان کے حافظے کی تیزی اور مطالعے کی وسعت، اخبار بینی ،کتابوں کا مطالعہ بریکینگ نیوز ،اپنی مثال آپ تھی۔سیاست سے دور… لیکن سیاسی بصیرت کے حامل، وہ حقیقت ، نرم گفتار، بے نیاز اور پاکیزہ ذہن کے مالک تھے۔ کسی پر رعب جمانا ان کی سرشت میں نہ تھا۔سیاسی بصیرت کے باوجود کبھی کسی سیاسی لالچ میں نہ آئے۔ برادری کی خدمت۔ اتحاد کی روشن تاریخ۔
شیش گر (منیار) برادری کی سماجی، معاشی اور اخلاقی ترقی کے لئے ان کا کردار سنگِ میل ہے۔
ضلعی اور ریاستی سطح پر فعال عہدوں پر رہ کر اجتماعی شادی کمیٹی اور افہام و تفہیم کمیٹی کے ذریعے انہوں نے سینکڑوں خاندانوں کو جوڑ کر ایک سنہری تاریخ رقم کی۔ غموں نے توڑا نہیں…بلکہ مزید مضبوط کیا۔جوان سال بیٹے کی جدائی ہو یا شریکِ سفر کی رخصت، مرحوم کا حوصلہ بکھرا نہیں۔وہ ٹوٹے نہیں… بلکہ شہر شہر، قریہ قریہ تعلیم کے چراغ روشن کرتے رہے۔ یہی ان کا کمال تھا۔ یہی ان کی میراث ہے۔ آج بہ روز بدھ ٢١ رمضان المبارک ١١ مارچ ٢٠٢٦ کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔۔
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے تمام کارہائے نمایاں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ان کے بچھائے ہوئے تعلیمی و سماجی اداروں سے
ہمیشہ خیر کی ہوائیں چلتی رہیں،انہیں قبر میں راحت، نور اور رحمت عطا ہو، اور لواحقین کو صبرِ جمیل و اجرِ عظیم سے نوازے۔
آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔