عیدالفطر کی حقیقت و فضیلت۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
عیدالفطر کی حقیقت و فضیلت۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
دین اسلام میں عیدیں دو ہیں ان میں سے ایک عیدالفطر ہے جو ماہ رمضان کے مکمل ہونے کے بعد یکم شوال المکرم کو منائی جاتی ہے اور یہ سنہ ھ 2 میں مشروع ہوئی اور یہ عید اس امت کی خصوصیت ہے
رمضان المبارک کا مہینہ جو بڑی اہمیت و فضیلت والا مہینہ ہے جسمیں اعمال کا اجر و ثواب دیگر مہینوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور اس ماہ مبارک میں اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت عام ہوتی ہے اور اللہ تعالی کثرت سے لوگوں کو جھنم سے خلاصی و نجات عطا فرماتے ہیں اور اس مہینے کی ایک خاص خصوصیت اور عمل اعتکاف ہے جسپر نبئ کریم نے وفات تک مداومت فرمائی اور اسکا خاص مقصد شب قدر کی تلاش ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جیساکہ سورہ قدر میں اسکو بیان کیا گیا ہے یعنی اگر کسیکو یہ رات نصیب ہوجائے اور وہ اسکو عبادت میں گذار دے تو گویا اس نے ہزار مہینوں سے زیادہ عرصہ عبادت میں گذار دیا
اسطرح روزے دار کو افطار کرانے کے مستقل فضائل ہیں اور یہ مہینہ دعاووں کے قبولیت کا مہینہ ہے خاصکر افطار کے وقت اور روزے دار کو براہ راست اللہ تعالی اجر و ثواب عطا فرماتے ہیں یا روزہ رکھنے کی وجہ سے اسے اپنی خوشنودی اور رضامندی عطا فرماتے ہیں اسلئے مسلمان ان سارے فضائل کو مد نظر رکھتے ہوئے انکو حاصل کرنے کے لئے پورا مہینہ دنیاوی مشاغل و مصروفیات سے یکسو ہوکر اللہ تعالی کی عبادت میں گذار دیتے ہیں
ان عبادتوں ذکر و اذکار دعا و مناجات اور نیک اعمال کا کرنا یہ کسی انسان کے بس میں نہیں ہے جب تک اللہ تعالی کی طرفسے توفیق نہ ہو اور اسکی توفیق کا عطا ہونا یہ اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہے اور اس نعمت عظمی کے عطا ہونے پر بندے کے ذمہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا واجب و ضروری ہے تو نماز عیدالفطر اس نعمت عظمی کے شکریے کا عملی نمونہ ہے
اسطرح پورا مہینہ بندہ روزہ رکھتا ہے اور روزے کی حالت میں ان تمام حلال اور جائز چیزوں سے بھی رکتا ہے جو غیر رمضان میں اسکے لئے حلال و جائز ہوتی ہیں تو ماہ رمضان کے اختتام پر اسکو فطری خوشی ہوتی ہے تو نماز عیدالفطر یہ اسکے خوشی کے اظہار کا بھی طریقہ ہے اسلئے کہ حدیث شریف میں ھیکہ روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ایک افطار کے وقت اور دوسری جب وہ قیامت کے روز اپنے رب سے ملاقات کریگا
اسلام نے نفس اور شیطان کی پیروی کرنے سے منع فرمایا ہے اسلئے کہ یہ دونوں اسکے کھلے دشمن ہیں جو اسکو اللہ تعالی اور اسکے رسول کی مخالفت اور انکے ناراضگی کے کاموں کی طرف لے جاتے ہیں اسلئے شریعت نے اسکو ایسے کاموں کے کرنے کا حکم فرمایا جو اسکی روحانی طاقت کو بڑھا دیتے ہیں اور اسکو اللہ تعالی اور رسول اللہ کے قریب کردیتے ہیں اسلئے خوشی ہو یا غمی ہر حال میں بندے کو ایسے احکامات کی تعلیم دی ہے جو اسکو اسکے رب اور اسکے رسول سے قریب کردے اور اسکے ایمان و اسلام میں اضافہ کردے اسلئے اس نعمت عظمی کے عطا ہونے پے ہمیں اپنے خوشی کے اظہار کا طریقہ بھی بتلا دیا کہ نعمت کے عطا کرنے والے کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور ہر حال اور ہر جگہ پر اسکی بڑائی کبریائی اور عظمت بیان کرے یعنی تکبیرات کہے اسلئے عیدالفطر کا چاند نظر آتے ہی صبح عید کی نماز کھڑی ہونے تک ہر جگہ گھر مسجد اور راستے میں بھی تکبیر کہنے کا حکم دیا گیا ہے
اسطرح اپنی اس خوشی میں اپنے غریب اور مسکین مسلمان بھائیوں کو بھی شریک کرنے کا حکم دیا ھیکہ عید کی نماز کو جانے سے پہلے صدقہ فطر کے ادا کرنیکا حکم فرمایا تاکہ اس عید اور خوشی کے دن کوئی غریب اور مسکین بھی عید کی خوشی سے محروم نہ رہ پائے
عید کے روز مسلمان آپسمیں ایکدوسرے سے ملتے ہیں مصافحہ کرتے ہیں اور ایکدوسرے کو عید کی مبارکبادیاں دیتے ہیں اور اعمال کے عنداللہ قبولیت کی دعائیاں دیتے ہیں ( تقبل اللہ منا و منکم )
اللہ تعالی رمضان المبارک میں ہمارے کئے ہوئے اعمال کو قبول فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے اور جھنم سے ہمیں خلاصی اور نجات عطا فرمائے اور پوری امت مسلمہ کو عیدالفطر کی خوشیاں اور برکتیں نصیب فرمائے
مولوی شبیر عبدالکریم تانبے
Comments
Post a Comment