ماہ رمضان روحانی و اخلاقی انقلاب کا ذریعہ جامعۃ البنات کے تعلیمی سال کا اختتامی پروگرام۔ نائب صدر معلمہ فوزیہ کا فکر انگیز خطاب۔
حیدرآباد۔15/مارچ(راست)ماہ رمضان کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ یہ ہمیں مشقتوں اور خلاف طبیعت باتوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ زبان کی حفاظت کرنے اور ہر معاملے میں قناعت پسندی سے کام لینے کی تربیت دیتا ہے۔بلند مقاصد کے لیے جدوجہد اور مجاہدہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ قناعت پسندی خودداری ایثار وقربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور ہر طرح کی بری عادتوں سے اجتناب کی تاکید کرتا ہے اور ہر طرح کی مشکلات،ابتلاؤں کو سہنے اور اپنے کردار و عمل کو بہتر بنانے کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔کیونکہ کامیابی کسی مادی مقصد کو حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی کی راہ پر چلنے کا نام ہے۔ ماہ رمضان قدم قدم پر اسی انداز میں ہماری فکری تربیت کرتا ہے ان خیالات کا اظہار محترمہ فوزیہ نائب صدر معلمہ جامعۃ البنات سعید آباد نے تعلیمی سال کے اختتام پر طالبات کے خود احتسابی پروگرام کے دوران کیا۔ محترمہ فوزیہ نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک ہمیں قران مجید سے وابستگی کا سبق دیتا ہے دراصل یہ قران مجید کے نزول کا مہینہ ہے۔ شب قدر اور اعتکاف کا بڑا مقصد بھی دراصل قران مجید تک پہنچنا ہے۔اس لیے قدم قدم پر ہمیں قرآن مجید سے اپنے آپ کو مربوط کرنا ضروری ہے۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج ہماری عملی زندگی میں قرآن مجید سے زیادہ ہماری خواہشات اور ہمارے مفادات کا دخل ہے ہمارے اوپر ضروری تھا کہ ہم قرآن مجید کے پیغام کو ساری امت تک پہنچا تے۔ برادران وطن تک اس کے پیغام کو عام کرتے لیکن افسوس کے ہم خود قرآن مجید سے دور ہو گئے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی خدمت کو اولین ترجیح دیں۔ اہل تعلق غیر مسلم بھائیوں تک ان کی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ پیش کریں۔ یہ ہماری دعوتی ذمہ داری ہے۔یہ مہینہ حد سے زیادہ پروردگار عالم کا شکر ادا کرنے کا ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے تم نے اگر شکر ادا کیا تو ہم تمہیں اور زیادہ دیں گے اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔اس لیے ہم پر یہ بھی ضروری ہے کہ تقوی و پرہیزگاری اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کا شکر بھی ادا کریں۔ اپنے محسنین کا بھی شکر ادا کریں اور تا دم حیات شکر گزاری کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔قبل ازیں پروگرام کا آغاز جامعہ کی ایک طالبہ ماحیہ منکر کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ اس پروگرام کی امتیازی خصوصیت یہ رہی کہ معلمات جامعہ نے طالبات سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے خاص طور پر قرآن مجید۔ صبر۔ دعا۔ بعثت انبیاء کے مقاصد اور انفس اور آفاق میں غور و فکر اور جامعہ کی جانب سے ملنے والی تعلیم و تربیت اور ماہ رمضان المبارک کی مناسبت سے اپنی زندگی میں تبدیلی سے متعلق قیمتی سوالات کیے اور طالبات نے پورے جوش اور خروش کے ساتھ ان تمام سوالات کے بہترین جوابات دیے۔یہ ایک منفرد پروگرام تھا اور اللہ کے فضل و کرم سے بڑا نفع بخش ثابت ہوا۔اس موقع پر محترمہ عذرا نے طالبات کو ہمت اور حوصلے سے کام لینے کی تلقین کی اور ہر معاملے میں صبر کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت دی۔محترمہ ماریہ و رضیہ نے انبیائی مشن سے طالبات کو واقف کرایا اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ آخر ان کی بعثت کا مقصد کیا تھا۔ہمیں اس مقصد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اپنے سماج اور معاشرے میں بہترین بیٹی بہترین بہن بہترین بیوی اور مثالی ماں کا کردار عام کرنے کی ضرورت ہے۔محترمہ عذرا کی شب قدر سے متعلق سبق آموز نظم پر اس پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔ معلمہ نہاں نے پروگرام کی کاروائی چلائی۔اور نائب صدر معلمہ کی دعا پر اس منفرد خود احتسابی مکالماتی نشست کا اختتام عمل میں آیا۔واضح رہے کہ رمضان کے فورا بعد دوسرے سمسٹر کے امتحانات کا آغاز ہوگا بروز چہارشنبہ 11 مارچ جامعہ کا آخری تعلیمی دن تھا۔ اور یہ دن طالبات کے لیے ایک یادگار بن گیا۔
Comments
Post a Comment