مشرقِ وسطیٰ جنگ : امریکہ نے کیا کھویا اور ایران نے کیا پایا؟(امریکہ کااخلاقی دیوالیہ پن: سفارتی دھوکہ دہی سے جنگی جرائم تک)۔ ازقلم: اسماء جبین فلک۔
مشرقِ وسطیٰ جنگ : امریکہ نے کیا کھویا اور ایران نے کیا پایا؟
(امریکہ کااخلاقی دیوالیہ پن: سفارتی دھوکہ دہی سے جنگی جرائم تک)
ازقلم: اسماء جبین فلک۔
فروری 2026 کا آخری ہفتہ عالمی تاریخ کے اوراق میں ایک ایسے لرزہ خیز، فیصلہ کن اور درخشاں باب کے طور پر درج ہو چکا ہے جس نے عالمی استکبار کے غرور کو خاک میں ملا کر مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی، سیاسی اور نظریاتی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا ہے۔ 28 فروری 2026 کو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہ راست سرپرستی اور صیہونی ریاست اسرائیل کی ملی بھگت سے، ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک انتہائی بزدلانہ، ظالمانہ اور وسیع عسکری مہم کا آغاز کیا جسے 'آپریشن ایپک فیوری' کا نام دیا گیا۔ اس ننگی امریکی جارحیت کا بنیادی اور استعماری مقصد ایران میں نام نہاد اقتدار کی تبدیلی لانا، ایرانی قوم کے دفاعی اور جوہری بازو کو کاٹنا اور خطے میں امریکی و اسرائیلی ناجائز تسلط کو درپیش خطرات کا خاتمہ تھا۔ تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مادی طاقت کے نشے میں چور فرعونی طاقتوں نے حق اور استقامت کی للکار کو دبانے کی کوشش کی ہے، انہیں ہمیشہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس ہمہ گیر جنگ کے عمیق تجزیے سے یہ ناقابلِ تردید حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ بظاہر جدید ترین ٹیکنالوجی اور اندھی طاقت کے زعم میں مبتلا امریکہ نے اس معرکے میں اپنی رہی سہی عالمی ساکھ، اخلاقیات اور معاشی بالادستی کھو دی ہے، جبکہ اپنی بقا، غیرت اور نظریے کی جنگ لڑنے والے عظیم الشان ایران نے قربانیوں کے لازوال عزم سے عالمی بساط پر ایک ناقابلِ شکست قوت کے طور پر خود کو منوا لیا ہے۔
امریکہ نے اپنی عسکری مہم جوئی کا آغاز انتہائی سفاکانہ اور تباہ کن انداز میں کیا، جس میں ایرانی زیر زمین تنصیبات کو خاکستر کرنے کے لیے 5000 پاؤنڈ وزنی جدید ترین بنکر بسٹر بموں اور ایف 15، ایف 16، اور ایف 35 طیاروں کا بے دریغ اور غیر انسانی استعمال کیا گیا، جبکہ امریکی تاریخ کا طویل ترین اور تباہ کن میزائلوں کا حملہ بھی اسی جنگ کا حصہ تھا۔ امریکی جارحیت کا سب سے لرزہ خیز اور اندوہناک ہدف ایران کی اعلیٰ ترین نظریاتی و عسکری قیادت تھی؛ صیہونی اور امریکی گٹھ جوڑ کے تحت کیے گئے بزدلانہ میزائل حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، وزیر دفاع امیر نصیر زادہ، اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور سمیت متعدد عظیم رہنماؤں کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ امریکہ نے اپنی دانست میں یہ سمجھا تھا کہ قیادت کو شہید کر کے وہ ایرانی نظام کو مفلوج اور قوم کو مایوس کر دے گا، لیکن یہیں امریکہ کی سب سے بڑی تزویراتی اور نفسیاتی شکست کا آغاز ہوا۔ ان عظیم شہادتوں کے فوراً بعد ایران کا ریاستی یا دفاعی ڈھانچہ قطعی طور پر منہدم نہیں ہوا، بلکہ ایک نئی اور متحرک قیادت کی کونسل کے فوری قیام نے دنیا کو یہ حیران کن پیغام دیا کہ ایران کا اسلامی اور مزاحمتی نظام کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں بلکہ ایک مضبوط، ناقابلِ شکست اور مستحکم ادارہ جاتی و نظریاتی بنیاد پر استوار ہے۔ یہ بے مثال ادارہ جاتی استقامت دراصل امریکہ و اسرائیل کے اقتدار کی تبدیلی کے استعماری اور خام خواب کی سب سے بڑی اور عبرتناک موت تھی۔
اس جنگ میں امریکہ کا سب سے بھیانک اور ناقابلِ تلافی نقصان اس کی اخلاقی حیثیت کی مکمل اور حتمی تباہی ہے، جس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ امریکہ اب کوئی مہذب ریاست نہیں بلکہ عالمی ریاستی دہشت گردی کا سب سے بڑا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ حملہ کوئی روایتی جنگی کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ جنیوا میں ہونے والے سفارتی مذاکرات کے محض دو دن بعد کیا گیا ایک بدترین سفارتی دھوکہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ امریکہ بین الاقوامی قانون اور سفارتی اخلاقیات کا سرے سے کوئی پاس نہیں رکھتا۔ امریکی اخلاقی دیوالیہ پن اور درندگی کی انتہا اس وقت پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوئی جب اس کی اندھی بمباری نے شہری آبادیوں اور غیر فوجی اہداف کو بے دردی سے نشانہ بنایا۔ میناب کے علاقے میں ایک لڑکیوں کے مدرسے پر ہونے والے وحشیانہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں سات سے بارہ سال کی عمر کی 160 کے قریب معصوم بچیاں شہید ہوئیں، جس نے پوری دنیا میں امریکہ کے نام نہاد انسانی حقوق کے پردے کو چاک کر کے اسے ایک جنگی مجرم کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین، انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور چین، روس، ملائیشیا سمیت متعدد ممالک نے اس وحشیانہ امریکی دہشت گردی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ دنیا کو امریکی 'جنگل کے قانون' کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر ہزاروں بے گناہ افراد شہید ہوئے، جس نے امریکہ کو تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں ایک ظالم اور غاصب طاقت کے طور پر ہمیشہ کے لیے درج کر دیا ہے۔
دوسری جانب، ایران نے دفاعی محاذ پر وہ شاندار اور بے مثال غیر متناسب حکمت عملی اپنائی جس نے پوری دنیا کی معیشت اور امریکی غرور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ ایرانی قیادت کی شہادت کے بعد، محض ایک جذباتی ردعمل کے بجائے، ایران نے کمال تدبر اور تزویراتی گہرائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھے جانے والے 'آبنائے ہرمز' کو تجارتی اور استعماری جہازوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا۔ آبنائے ہرمز کی یہ بندش کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا؛ یہ ایران کا ایک ایسا ماسٹر اسٹروک تھا جس نے واضح کیا کہ اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرنے والے دنیا کے 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے بہاؤ پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے۔ ایران کے مقامی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے خوف سے عالمی جہاز رانی مفلوج ہو کر رہ گئی، اور تقریباً 400 بحری جہاز خلیج عمان کے پانیوں میں بے بسی کے عالم میں پھنس گئے۔ اس جرات مندانہ اور پیشگی سوچی سمجھی دفاعی حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد کا ہوشربا اضافہ ہوا اور قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر کے 119.50 ڈالر تک جا پہنچیں۔ ایران نے مغربی دنیا کو یہ عملی اور تلخ سبق سکھا دیا کہ وہ بغیر کسی روایتی بحریہ یا امریکی طرز کے مہنگے جنگی بیڑوں کے، محض اپنی جغرافیائی پوزیشن اور مقامی دفاعی صلاحیتوں کے زور پر عالمی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی مکمل طاقت رکھتا ہے، اور ایرانی قوم کا معاشی و عسکری قتل عام اب پوری دنیا، خاص طور پر مغربی ممالک کی معاشی تباہی کے بغیر ہرگز ممکن نہیں ہے۔
عسکری محاذ پر بھی، ایران نے امریکی فضائی برتری کے باوجود اپنی بے مثال مزاحمتی قوت کا لوہا منوایا اور ثابت کیا کہ امریکی فوجی اب خطے میں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ایران نے خلیجی ممالک، بالخصوص کویت کی ایک شہری بندرگاہ پر قائم امریکی عارضی آپریشن سینٹر پر انتہائی درست اور اچانک میزائل حملہ کر کے 6 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور 18 کو شدید زخمی کر دیا، جس نے امریکی تحفظ کی خامیوں اور ان کی نام نہاد ناقابلِ تسخیر ہونے کی فرسودہ حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ مجموعی طور پر اس تنازعے میں 15 سے زائد امریکی فوجی مارے گئے اور 230 سے زائد زخمی ہوئے، جس نے امریکی عوام اور فیصلہ سازوں پر یہ خوف طاری کر دیا کہ ایران کے خلاف جنگ کوئی یکطرفہ کھیل نہیں ہے۔ اس جنگ کی آگ نے مشرق وسطیٰ میں بیٹھے امریکی اتحادیوں بلخصوص عربوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان کے محلات امریکی تحفظ کی چھتری کے باوجود ایرانی غضب کے سامنے ریت کی دیوار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
سب سے اہم اور فیصلہ کن پہلو یہ ہے کہ اس مسلط کردہ جنگ نے خطے میں موجود 'محورِ مقاومت' کو خوفزدہ یا کمزور کرنے کے بجائے اسے بقا، انتقام اور نظریاتی یکجہتی کے ایک نئے، شدید اور ناقابلِ تسخیر مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایران کی عظیم الشان قیادت کے پاکیزہ خون نے دراصل اس پورے مزاحمتی بلاک کے لیے ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ یمن کے غیور حوثیوں، لبنانی حزب اللہ اور عراقی مزاحمتی تنظیموں نے خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی مفادات پر بے خوف اور مسلسل حملے کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس حق و باطل کے معرکے میں ایران تنہا نہیں ہے، اور محور مقاومت اب ایک ایسی متحد علاقائی قوت بن چکا ہے جو کسی بھی سامراجی دباؤ کو تسلیم کرنے سے قطعی انکاری ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ فروری 2026 میں شروع ہونے والی یہ جنگ محض ہتھیاروں کا ٹکراؤ نہیں تھی، بلکہ یہ نظریات اور حق و باطل کی تزویراتی جنگ تھی۔ امریکہ نے اپنی ریاستی دہشت گردی اور جدید ٹیکنالوجی سے بلاشبہ تباہی پھیلائی، لیکن اس کے بدلے اس نے اپنی عالمی قانونی ساکھ، سفارتی وقار اور عالمی معیشت کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر لیا۔ اس کے برعکس، ایران نے اپنی بے مثال قربانیوں، نظریاتی پختگی اور شاندار غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے ذریعے خود کو مشرق وسطیٰ کی ایک ایسی ناگزیر اور مقتدر قوت کے طور پر منوا لیا ہے جس کی مرضی اور سلامتی کے بغیر اب اس خطے کا امن اور عالمی معیشت کا استحکام ایک ناممکن خواب بن چکا ہے۔ یہ جنگ دراصل ایران کی ایک عظیم الشان نظریاتی فتح ہے، جس نے دنیا کو امریکی جبر کے خوف سے آزاد کر کے یک قطبی تسلط کے تابوت میں آخری اور فیصلہ کن کیل ٹھونک دی ہے۔
Comments
Post a Comment