فضول رسموں کے بجائے مدارسِ دینیہ کی مدد کیجیے۔۔ از قلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
فضول رسموں کے بجائے مدارسِ دینیہ کی مدد کیجیے۔
از قلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
آج ہمارے معاشرے میں ایک افسوسناک رجحان یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ شادیوں، تقریبات اور مختلف خرافات میں لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ محض دکھاوے، رسم و رواج اور وقتی خوشی کے لیے بے دریغ مال لٹایا جاتا ہے۔ حالانکہ انہی پیسوں کا اگر صحیح جگہ استعمال کیا جائے تو وہ دین کی خدمت اور آنے والی نسلوں کی اصلاح کا عظیم ذریعہ بن سکتا ہے۔
مدارسِ دینیہ وہ مقدس ادارے ہیں جہاں قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہی مدارس ایسے علماء، حفاظ اور داعیانِ دین تیار کرتے ہیں جو معاشرے میں دین کی روشنی پھیلاتے ہیں اور لوگوں کی صحیح رہنمائی کرتے ہیں۔ اگر یہ مدارس مضبوط ہوں گے تو دین بھی مضبوط ہوگا اور ہماری آئندہ نسلیں بھی صحیح اسلامی تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں گی۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم فضول رسومات اور خرافات میں اپنا مال ضائع کرنے کے بجائے مدارسِ دینیہ کی مدد کریں۔ مدارس پر خرچ کیا گیا مال دراصل دینِ اسلام کی بقا اور اشاعت پر خرچ ہوتا ہے، جو ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہے۔
یاد رکھیے! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر انسان سے اس کے مال کے بارے میں ضرور سوال فرمائیں گے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ بندہ اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکے گا جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ اس لیے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارا مال کن کاموں میں خرچ ہو رہا ہے: کیا وہ صرف دکھاوے اور رسموں میں ضائع ہو رہا ہے یا دین کی خدمت میں لگ رہا ہے؟
اگر ہم اپنے مال کا کچھ حصہ بھی مدارسِ دینیہ کے لیے وقف کر دیں تو یہ نہ صرف دین کی مضبوطی کا ذریعہ بنے گا بلکہ ہمارے لیے آخرت میں نجات اور اجرِ عظیم کا سبب بھی ہوگا۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ فضول خرچی اور بے مقصد رسموں سے بچیں اور اپنے مال کو ایسے کاموں میں لگائیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں ہمارے لیے فائدہ مند ہوں۔ مدارسِ دینیہ کی مدد کرنا دراصل دین کی بنیادوں کو مضبوط کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت کی راہ ہموار کرنا ہے۔
Comments
Post a Comment