اڑان۔ (افسانہ) ازقلم :راشیدہ یاسمین، سکلیشپور، ہاسن کرناٹک۔
اڑان۔ (افسانہ)
ازقلم :راشیدہ یاسمین،
سکلیشپور، ہاسن کرناٹک۔
سیل نمبر 9035972491
ایک زمانہ تھا
جب زویہ جو بھی کہتی، غلط سمجھ لی جاتی،
جو بھی کرتی، اس پر انگلی اٹھائی جاتی۔
وہ ہنستی تو کہا جاتا ڈرامہ ہے۔
وہ روتی تو کہا جاتا کمزوری ہے۔
وہ خاموش رہتی تو الزام ملتا مغرور ہے۔
اس کی ہر کیفیت جرم بن جاتی۔
نہ کسی نے اس کے زخموں پر مرہم رکھا،
نہ کسی نے پوچھا
“زویہ، تم ٹھیک تو ہو؟”
وہ تنہا تھی…
بھیڑ میں بھی،
محفل میں بھی،
اپنوں کے درمیان بھی۔
کہیں جاتی تو سرگوشیاں ہوتیں:
“اس کے آنے سے منحوسی چھا گئی ہے،
نظَر لگ گئی ہے…”
جیسے وہ بدقسمتی کی علامت ہو،
جیسے خوشی اس سے روٹھ گئی ہو۔
غم کا بوجھ اٹھائے
جب کسی کے دروازے پر جا پہنچتی،
تو ایک گھونٹ پانی بھی نصیب نہ ہوتا۔
سننے کو ملتا
“ہمارا گھر کوئی دھرم چھتر ہے،
یہاں تو کوئی بھی آ جاتا ہے!”
جیسے اس کا درد عام سا ہو،
جیسے اس کی تکلیف بے معنی ہو۔
وہ لوٹ آتی…
آنکھوں میں آنسو،
دل میں خاموش چیخیں،
اور ہونٹوں پر زبردستی کی مسکراہٹ۔
راتیں اس کی گواہ ہیں—
وہ راتیں
جب زویہ تکیے میں منہ چھپا کر روتی،
اور خود سے وعدہ کرتی
“میں ٹوٹوں گی نہیں…
میں ہاروں گی نہیں…”
اس نے اپنے آنسوؤں سے حوصلہ سینچا،
اپنے زخموں سے طاقت کشید کی،
اور اپنی تنہائی کو استاد بنا لیا۔
لوگ جو کہتے تھے
“یہ کچھ نہیں کر پائے گی…”
یہ منحوس ہے
وہی لوگ آج
زویہ کا نام
فخر سے لینے لگے۔
وقت نے پلٹا کھایا۔
آج وہ
ہندوستان کے ہر کونے میں پہچانی جاتی ہے،
ہر زبان پر اس کی محنت کی کہانی ہے،
ہر دل میں اس کے لیے عزت ہے۔
جو کبھی
ایک بوند کو ترسی تھی،
آج عزت کے سمندر میں کھڑی ہے۔
وہ اب بھی وہی ہے—
سادہ، خاموش، سچی۔
مگر اب فرق یہ ہے
کہ وہ خود پر یقین رکھتی ہے۔
زویہ مسکرا کر کہتی ہے
“مجھے توڑنے والوں کا شکریہ،
مجھ سے جلنے والوں کا شکریہ،
میرے دشمنوں کا شکریہ…
تم سب نے مجھے وہ بنا دیا
جو میں آج ہوں۔
اگر تم نہ ہوتے
تو میں خود کو پہچان نہ پاتی۔”
اور پھر وہ چل پڑتی ہے—
نئی روشنی،
نیا حوصلہ،
نئی پہچان کے ساتھ۔
Comments
Post a Comment