بیدر کی تاریخی فصیلوں اور قندقوں کی خستہ حالی: ایک المیہ۔
بیدر : 27/ مارچ (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) بیدر،جو ریاست کرناٹک کا ایک نہایت قدیم اور تاریخی شہر ہے،اپنی عظمتِ رفتہ،بلند و بالا فصیلوں اور مضبوط قلعہ بندی کے باعث ہمیشہ سے شہرت رکھتا آیا ہے۔یہ شہر اپنی قدیم تہذیب،ثقافت اور شاندار تعمیرات کی وجہ سے دکن کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔بیدر کی فصیل بند ساخت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ماضی میں یہ شہر دفاعی اعتبار سے کتنا مضبوط اور مستحکم تھا۔
اس تاریخی شہر کے اطراف بڑی منظم انداز میں گہری اور وسیع قندقیں(کھائیاں)بنائی گئی تھیں،جن کا مقصد دشمنوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔یہ قندقیں اس دور کی بہترین دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھیں اور ان میں پانی بھر کر انہیں مزید ناقابلِ عبور بنایا جاتا تھا۔یہ قندقیں نہ صرف شہر کی حفاظت کا ذریعہ تھیں بلکہ اس زمانے کی انجینئرنگ اور منصوبہ بندی کا بھی ایک شاندار نمونہ ہیں۔
مگر افسوس کہ آج وہی تاریخی قندقیں شدید غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہو چکی ہیں۔ان میں اس قدر گندگی جمع ہو چکی ہے کہ بیان کرنا مشکل ہے۔جگہ جگہ کوڑا کرکٹ،پلاسٹک اور دیگر فضلہ جمع ہو کر نہ صرف بدبو کا باعث بن رہا ہے بلکہ ماحول کو بھی آلودہ کر رہا ہے۔ان قندقوں میں پانی کا بہاؤ ختم ہو چکا ہے اور وہ تعفن زدہ جوہڑوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
مزید برآں،ان قندقوں کے اندر اور اطراف بڑے بڑے درخت اور جھاڑیاں اگ آئی ہیں،جنہوں نے نہ صرف ان کی اصل ساخت کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ان کی تاریخی حیثیت کو بھی متاثر کیا ہے۔یہ درخت اور خود رو پودے قندقوں کی دیواروں کو کمزور کر رہے ہیں،جس سے مستقبل میں ان کے مکمل طور پر تباہ ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہ تو محکمہ آثار قدیمہ اس جانب سنجیدگی سے توجہ دے رہا ہے اور نہ ہی ضلع انتظامیہ اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھا رہی ہے۔اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ قیمتی تاریخی ورثہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے،جو نہ صرف بیدر بلکہ پورے ملک کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر ان قندقوں کی صفائی،بحالی اور حفاظت کے لیے اقدامات کریں۔ماہرینِ آثار قدیمہ کی نگرانی میں ان کی مرمت کی جائے،درختوں اور جھاڑیوں کو ہٹایا جائے اور انہیں ان کی اصل حالت میں واپس لانے کی کامیاب کوشش کی جائے۔ساتھ ہی عوام میں بھی شعور بیدار کیا جائے تاکہ وہ اس تاریخی ورثے کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔
اگر ہم نے آج اس تاریخی ورثے کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔بیدر کی یہ فصیلیں اور قندقیں صرف پتھر اور مٹی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ،شناخت اور تہذیب کا زندہ ثبوت ہیں،جن کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔مرکزی و ریاستی حکومت کی۔
Comments
Post a Comment