ہم بھی نکلے ہیں تلاشِ لیلۃُ القدر میں۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
ہم بھی نکلے ہیں تلاشِ لیلۃُ القدر میں۔
ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
ہم بھی نکلے ہیں تلاش لیلتہ القدر میں
خدایا! سب کچھ لکھ دے ہمارے مقدر میں
ہم بھی نکلے ہیں تلاشِ لیلۃُ القدر میں
اشکوں کی روشنی لیے دل کے سمندر میں۔
سجدوں کی خوشبو، لبوں پہ درود و سلام ہے۔
اک نور سا اتر رہا ہے رات کے منظر میں۔
اے ربِّ کریم! تیری رحمت کا آسرا ہے ہمیں
تو ہی تو جلوہ گر ہے ہر اک لمحۂ سحر میں۔
بخش دے خطائیں، مٹا دے گناہوں کی سیاہی
اپنی عطاؤں کا رنگ بھر دے ہمارے دفتر میں۔
ماں باپ کو عزت، گھر کو سکون و برکت عطا کر
اپنا کرم برسا دے ہمارے بھی مقدر میں۔
امتِ محمدؐ پہ کرم کی نظر فرما دے
امن و سکون بھر دے آسمان و بحر و برّ میں۔
ہم بھی تیرے در کے سوالی، خالی نہ لوٹائیں
دامن پھیلا ہے امیدوں کا تیرے ہی در پر میں۔
ہم بھی نکلے ہیں تلاشِ لیلۃُ القدر میں
خدایا! سب کچھ لکھ دے ہمارے مقدر میں۔
عقیل خان بیاولی۔
اقصیٰ نگر مہرون جلگاؤں
Comments
Post a Comment