اسلام نے ایک بار پھر سوپر پاور کے غرور کو خاک میں ملا دیا اسلام ، دشمن کے مقابلے میں عسکری طاقت بڑھانے کا حامی عزیز اللہ سرمست۔
گلبرگہ 20 مارچ : ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران امریکہ اور اسرائیل پر بھاری پڑ جائے گا ایران نے نہ صرف پلٹ کر اسرائیل پر وار کیا بلکہ امریکی فوجی اڈوں کو تہس نہس کر دیا اس خیال کا اظہار سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست صدر حضرت صوفی سرمست اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ نے کیا ہے وہ حضرت صوفی سرمست اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ میں جنگ بدر کا پیغام عالمی تناظر میں کے زیر عنوان خطاب کررہے تھے رمضان المبارک کے دوران جنگ بدر پر یہ ان کا چھٹا خطاب تھا
عزیز اللّٰہ سرمست نے مزید کہا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جدید ترین عصری اور دفاعی میزائل اور راڈر ٹکنالوجی کو ناکام بنا دیا اور دنیا کو احساس دلایا کہ غزہ پر بمباری کرنے والے اسرائیل پر بھی بمباری ہو سکتی ہے عزیز اللہ سرمست نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلام نے سوپر پاؤر طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے آج امریکہ اور اسرائیل کا غرور بھی خاک میں مل گیا ہے عزیز اللہ سرمست نے سورہ انفال کی آیت نمبر 60 کے حوالے سے کہا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے گھوڑے ان کے مقابلے کیلئے مہیا رکھو تاکہ تم اللہ کے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوفزدہ کرسکو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہیں ہوگا عزیز اللّٰہ سرمست نے مزید کہا کہ اس آیت مبارکہ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں عسکری طاقت کو بڑھایا جانا چاہیئے اس آیت پر عمل سے مسلمانوں کی وسیع و عریض خلافتیں قائم ہوئیں فتوحات حاصل ہوئے مسلمانوں کی بڑی بڑی خلافتیں اس لئے بکھیر گئیں کہ انہوں نے اس آیت کو فراموش کر دیا عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ مسلمانوں نے قران مجید کی اس آیت کو فراموش کر دیا اور اسلام دشمن ملکوں نے اس پر عمل کیا آج جنگی ساز و سامان میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی دھن پائی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ عسکری طاقت میں اضافہ نہ کرنا ملت کو متحد رکھنے میں ناکامی اور دشمنوں سے بے خبری عیش پرستی مسلمانوں کی خلافتوں کے زوال کے اسباب ہیں صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد یورپی عیسائیوں نے مسلمانوں کے سائنسی علوم اور قرآنی علوم سیکھ کر نئی جنگی حکمت عملی تیار کی عزیز اللہ سرمست نے کہا کہ مسلم ملکوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کو فتح اس وقت تک ہوتی رہی جب تک کہ ان کی ایمانی قوت فیصلہ کن ثابت ہوئی اور جب سے مسلم ممالک یورپ و امریکہ سے خریدے گئے اسلحہ پر انحصار کرنے لگے وہ کوئی جنگ جیت نہیں سکے عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ سورہ الانفال میں یہ اصول دیا گیا کہ اسلامی سلطنت اتنی مضبوط ہوکہ دشمن طاقتیں اس پر حملہ کرنے کی ہمت نہ دکھائیں اسی صورت میں اسلامی ریاست آزاد اور خود مختار رہ سکتی ہے قرآنی اصول کے مطابق اسلامی ریاست دشمنوں کے مقابلے میں مسلسل اپنی جنگی طاقت بڑھاتی رہے تاکہ دشمن اسلامی ریاست سے خوفزدہ رہے اور اس میں حملہ کرنے کی ہمت ہی نہ رہے عزیز اللہ سرمست نے کہا کہ 57 مسلم ممالک میں ایران ایک ایسا ملک ہے جو ہمیشہ اس احساس میں جیتا رہا کہ اس پر کسی بھی وقت حملہ ہوسکتا ہے اس لئے اسے اپنی بقا کیلئے جنگی تیاری کرنی ہوگی ایران نے عیش و عشرت کے بجائے اپنی تیل کی دولت کو جدید سے جدید ترین میزائل اور ڈرون بنانے میں خرچ کرتا رہا عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کی وجہ سے ایران کی کرنسی ہمیشہ گرتی رہی اسی وجہ سے ایران جنگی جہاز خریدنے سے قاصر رہا لیکن اس نے میزائل و ڈرون ٹکنالوجی میں اسرائیل اور امریکہ سے بھی آگے رہنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں آج وہ اسرائیل اور امریکہ کا نہ صرف مقابلہ کررہا ہے بلکہ ان دونوں کو پسپا بھی کررہا ہے عزیز اللہ سرمست نے جنگ بدر کے حوالہ سے ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اپنے حوصلے بلند رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں سورہ الانفال کی آیت نمبر 60 میں مسلمانوں کیلئے بہت بڑا پیغام ہے کہ وہ کس طرح خوف و دہشت کے ماحول سے باہر نکلیں اور اپنے جان و مال کے تحفظ اور اپنی بقا کیلئے حکمت عملی اختیار کریں
Comments
Post a Comment