رمضان: تاریخ کے آئینے میں امن، عدل اور برداشت کا پیغامتحریر: سید فاروق احمد قادری۔
رمضان: تاریخ کے آئینے میں امن، عدل اور برداشت کا پیغام
تحریر: سید فاروق احمد قادری۔
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جاری ہے۔ ہم ابھی 17 رمضان کے عظیم دن سے گزرے ہیں جب تاریخِ اسلام کی پہلی بڑی معرکہ آرائی جنگِ بدر پیش آئی۔ اس جنگ میں تعداد اور وسائل کے لحاظ سے مسلمان کمزور تھے، مگر اللہ کی مدد سے حق کو فتح نصیب ہوئی۔ قرآن کریم نے اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
“وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ” (آل عمران: 123)
یعنی اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی حالانکہ تم کمزور تھے۔
اس کے بعد رمضان ہی کے مہینے میں 20 رمضان کو فتح مکہ کا عظیم واقعہ پیش آیا۔ یہ تاریخِ انسانیت کا ایک بے مثال منظر تھا۔ رسولِ اکرم ﷺ فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوئے۔ وہی لوگ سامنے تھے جنہوں نے برسوں ظلم کیے، جنگیں مسلط کیں اور آپ ﷺ کو اپنے وطن سے ہجرت پر مجبور کیا تھا۔ مگر طاقت کے باوجود آپ ﷺ نے انتقام نہیں لیا بلکہ فرمایا:
“آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔”
یہی اسلام کا اصل چہرہ ہے — معافی، رحمت اور امن۔
رمضان کے آخری عشرے میں ایک اور دردناک واقعہ بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔ 21 رمضان کو حضرت علیؓ پر عبدالرحمن ابنِ ملجم نے زہریلی تلوار سے حملہ کیا۔ زخمی ہونے کے باوجود حضرت علیؓ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ ظلم نہ کیا جائے۔ یہاں تک فرمایا کہ جو کھانا مجھے دیا جاتا ہے وہی اسے بھی دیا جائے۔ یہ عدل و اخلاق کی وہ مثال ہے جو دنیا کی تاریخ میں کم ملتی ہے۔
یہ واقعات نئی نسل کو یہ سبق دیتے ہیں کہ اسلام صرف عبادت کا دین نہیں بلکہ عدل، انسانیت اور امن کا نظام بھی ہے۔ قرآن کریم صاف کہتا ہے:
“إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (النحل: 90)
یعنی اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔
اسلام نے صرف روحانی تعلیمات ہی نہیں دیں بلکہ ایک مکمل فلاحی نظام بھی قائم کیا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں بیت المال اور عوامی وظائف و پنشن کا باقاعدہ نظام قائم ہوا۔ آج دنیا کی جدید ریاستیں جس فلاحی نظام پر فخر کرتی ہیں اس کی بنیادیں صدیوں پہلے اسلامی ریاست میں رکھی جا چکی تھیں۔
لیکن افسوس کہ آج کی عالمی سیاست میں اسلام کو اکثر دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مسلمانوں پر مختلف لیبل لگا دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا لفظ ہی سلامتی اور امن سے نکلا ہے۔ قرآن واضح اعلان کرتا ہے کہ کسی بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل قرآن اور سیرتِ رسول ﷺ کی اصل تعلیمات کو سمجھے۔ رمضان کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت ہو یا کمزوری، فتح ہو یا آزمائش — اسلام کا راستہ ہمیشہ عدل، صبر اور امن کا راستہ ہے۔
رمضان کی یہی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام تلوار کا نہیں بلکہ اخلاق، انصاف اور انسانیت کا دین ہے۔
Comments
Post a Comment