اہلِ خانہ کے روزے مکمل کرنے میں خاتونِ خانہ کا کردار(دینی و اخلاقی تناظر میں ایک مضمون)۔ از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ)


اہلِ خانہ کے روزے مکمل کرنے میں خاتونِ خانہ کا کردار
(دینی و اخلاقی تناظر میں ایک مضمون)
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ) 

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک بابرکت مہینہ ہے۔ یہ مہینہ عبادت، صبر، تقویٰ اور باہمی محبت و ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ اس مہینے میں مسلمان روزہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ایک گھر کے تمام افراد کے روزے سکون اور آسانی سے مکمل ہوں، اس کے پیچھے عموماً ایک عظیم کردار پوشیدہ ہوتا ہے اور وہ کردار خاتونِ خانہ کا ہوتا ہے۔

اسلام نے عورت کو محض ایک گھریلو فرد نہیں بلکہ گھر کے نظام کی نگہبان اور تربیت گاہ کی معلمہ قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"المرأة راعية في بيت زوجها وهي مسؤولة عن رعيتها"
(بخاری و مسلم)
یعنی عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ گھر کے نظام کو سنبھالنے اور اہلِ خانہ کی دینی و اخلاقی تربیت میں عورت کا کردار نہایت اہم ہے، خصوصاً رمضان المبارک میں۔


روزہ رکھنے کے لیے سحری نہایت اہم سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تسحروا فإن في السحور بركة"
(بخاری)
یعنی سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔

اکثر گھروں میں یہ منظر عام ہوتا ہے کہ خاتونِ خانہ سب سے پہلے بیدار ہوتی ہے، سحری تیار کرتی ہے اور اہلِ خانہ کو محبت سے جگاتی ہے۔ اس کی یہ محنت اور خلوص دراصل پورے گھر کے روزوں کی تکمیل کا سبب بنتا ہے۔ اگر سحری کا اہتمام نہ ہو تو بہت سے لوگ کمزوری یا سستی کی وجہ سے روزہ رکھنے میں دشواری محسوس کر سکتے ہیں۔
         افطار کے وقت روزہ دار کو سکون اور خوشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاتونِ خانہ اس وقت بھی بڑی محبت اور ذمہ داری سے افطار کا انتظام کرتی ہے۔ کھجور، پانی اور دیگر غذاؤں کا انتظام کرکے وہ گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : 
"من فطر صائماً كان له مثل أجره"
(ترمذی)
یعنی جو کسی روزہ دار کو افطار کرائے اسے بھی روزہ دار کے برابر اجر ملتا ہے۔

اس حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو خاتونِ خانہ جو روزانہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے افطار تیار کرتی ہے، وہ دراصل عظیم اجر کی مستحق بنتی ہے۔
        رمضان صبر کا مہینہ ہے۔ گھر کے کام کاج، بچوں کی دیکھ بھال، کھانا پکانا اور دیگر ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے خاتونِ خانہ روزہ بھی رکھتی ہے۔ اس کے باوجود وہ اکثر صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اس کا یہ رویہ گھر کے دیگر افراد کو بھی صبر اور برداشت کا درس دیتا ہے۔
         خاتونِ خانہ اگر چاہے تو گھر کو ایک چھوٹا سا مدرسہ اور عبادت گاہ بنا سکتی ہے۔ وہ بچوں کو قرآن پڑھنے کی ترغیب دیتی ہے، نماز کی یاد دہانی کراتی ہے اور رمضان کی فضیلت کے بارے میں بتاتی ہے۔ اس طرح گھر کا ماحول دینی اور روحانی بن جاتا ہے۔

حضرت علیؓ کا قول ہے "اپنے بچوں کو صرف دنیا ہی نہیں بلکہ دین بھی سکھاؤ، کیونکہ دین ہی اصل کامیابی ہے۔"
          رمضان کے دنوں میں خاتونِ خانہ اکثر اپنی خواہشات کو پیچھے رکھ کر اہلِ خانہ کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔ کبھی بچوں کی پسند کا کھانا بنانا، کبھی شوہر کی ضرورت کا خیال رکھنا، یہ سب اس کی محبت اور ایثار کی علامت ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک کامیاب اور پُرسکون رمضان کا بڑا حصہ خاتونِ خانہ کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔

          رمضان المبارک میں اہلِ خانہ کے روزے مکمل کرنے میں خاتونِ خانہ کا کردار نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے۔ اس کی محنت، صبر، محبت اور دینی شعور گھر کے ہر فرد کے لیے سہولت اور برکت کا باعث بنتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ اہلِ خانہ بھی اس کی قدر کریں، اس کے کام میں ہاتھ بٹائیں اور اس کی خدمات کو محض معمولی نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک عظیم عبادت اور خدمت کے طور پر دیکھیں۔ اگر گھر کی عورت نیک، صابر اور دین دار ہو تو وہ اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے اور رمضان کی برکتوں کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔