القرضُ مقراضٌ للمحبّة۔۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
القرضُ مقراضٌ للمحبّة۔
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک
MA BEd
8904317986
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔
محترم حاضرین!
آج میں ایک نہایت حکمت بھرا جملہ آپ کے سامنے رکھتی ہوں:
"القرضُ مقراضٌ للمحبّة"
یعنی قرض محبت کو کاٹ دینے والی قینچی ہے۔
یہ دنیا کے تجربات کا نچوڑ ہے۔
جب دو دل محبت میں بندھے ہوتے ہیں تو ان کے درمیان خلوص، ہمدردی اور احترام ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی قرض کا معاملہ آتا ہے، یہی محبت آزمائش میں پڑ جاتی ہے۔
قرض لینے والا سوچتا ہے: ابھی وقت ہے، بعد میں دے دوں گا
اور قرض دینے والا دل میں محسوس کرتا ہے: شاید مجھے بھلا دیا گیا ہے
یوں آہستہ آہستہ شکایت جنم لیتی ہے،
شکایت سے بدگمانی،
اور بدگمانی سے فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔
اسلام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ:
قرض لینے میں احتیاط کرو
اور اگر لو تو وقت پر ادا کرو
اور اگر دو تو نرمی اور وسعتِ قلب کے ساتھ دو
کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ
مال بھی سلامت رہے اور دل بھی سلامت رہیں۔
✍️ چند اشعار
قرض کی زنجیر میں جب دل گرفتار آ گیا
پیار کا نازک سا رشتہ بھی بیکار آ گیا
بات تھی چھوٹی مگر دل تک پہنچ بیٹھا اثر
یوں لگا جیسے محبت پر ہی وار آ گیا
دے کے قرض احسان کا چرچا نہ کر اے دوست تُو
ورنہ رشتوں میں بھی پھر اک دراڑ آ گیا
خلاصہ:
محبت کو بچانا ہے تو قرض کے معاملے میں حکمت، صبر اور دیانت اختیار کریں۔
Comments
Post a Comment