کونوا ربانیین ولا تکونوا رمضانیین — ربانی یعنی رب چاہی زندگی گزارنے والے بنو رمضانی نہیں رمضان کے بعد بھی بندگی کا تسلسل۔۔۔ از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی۔۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)


کونوا ربانیین ولا تکونوا رمضانیین —
 ربانی یعنی رب چاہی زندگی گزارنے والے بنو رمضانی نہیں
 رمضان کے بعد بھی بندگی کا تسلسل۔۔
از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی۔۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
موبائل نمبر: 9325217306

ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی علمی و دینی حلقوں میں ایک معروف نام ہیں۔ آپ پیشہ کے اعتبار سے مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ عربی زبان و ادب کے ممتاز مدرس، سنجیدہ محقق اور صاحبِ قلم ادیب ہیں۔ دینی و عصری علوم کے فروغ، عربی زبان کی ترویج، اور معاشرتی و اصلاحی موضوعات پر آپ کے مضامین مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ علمی و دعوتی سرگرمیوں کے ذریعہ نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں اور معاشرے میں دینی بیداری پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے ہیں۔

رمضان المبارک اسلام کا نہایت عظیم، بابرکت اور روحانی مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں رحمتوں کی بارش ہوتی ہے، مغفرت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور بندوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا خصوصی موقع عطا کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کا نزول بھی اسی مبارک مہینے میں ہوا، اسی لئے اس مہینے کی عظمت اور فضیلت بے حد و حساب ہے۔ رمضان دراصل انسان کی روحانی تربیت، نفس کی اصلاح اور زندگی کو اللہ کی اطاعت کے سانچے میں ڈھالنے کا مہینہ ہے۔

اسلامی تعلیمات میں روزے کی غرض و غایت صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں ہے بلکہ اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ قرآن کریم میں واضح فرمایا گیا: “لعلکم تتقون” یعنی روزوں کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر تقویٰ، خدا خوفی اور پرہیزگاری پیدا ہو۔ روزہ انسان کو صبر، برداشت، ضبطِ نفس اور احساسِ ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ جب انسان دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے تو اسے معاشرے کے محروم اور نادار افراد کا احساس بھی ہوتا ہے اور اس کے اندر ہمدردی اور ایثار کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔

رمضان کا مہینہ دراصل عبادت، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کا مہینہ ہے۔ اسی لئے اس مہینے میں مساجد آباد نظر آتی ہیں، قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام بڑھ جاتا ہے، تراویح اور دیگر عبادات میں لوگوں کی دلچسپی نمایاں ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ صدقہ و خیرات کرتے ہیں، مستحقین کی مدد کرتے ہیں اور معاشرے میں خیر خواہی اور بھلائی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ دور میں رمضان کے حقیقی مقصد کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ خصوصاً نوجوانوں کے طرزِ عمل میں ایک عجیب تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بہت سے نوجوانوں نے رمضان کو گویا “ماہِ پکوان” سمجھ لیا ہے۔ سحری اور افطاری کے وقت انواع و اقسام کے کھانوں سے مزین دسترخوان کو ہی رمضان کی اصل رونق سمجھ لیا گیا ہے۔ افطاری کی تیاریوں میں اس قدر مصروفیت ہوتی ہے کہ اصل روحانیت اور عبادت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا مقصد سادگی، قناعت اور روحانی ارتقاء ہے، نہ کہ اسراف اور نمود و نمائش۔ جب افطار کے دسترخوان پر ضرورت سے زیادہ کھانے جمع کئے جاتے ہیں اور اس میں مقابلہ بازی کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے تو رمضان کی اصل روح مجروح ہو جاتی ہے۔ اسلام ہمیں اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہم رمضان کو محض کھانے پینے کے تہوار میں تبدیل نہ کریں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو سمجھیں۔

رمضان میں ایک خوش آئند پہلو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے لوگ نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، ذکر و اذکار میں مشغول رہتے ہیں اور صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عبادت صرف رمضان ہی کے لئے مخصوص ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کی اطاعت صرف ایک مہینے تک محدود رہنی چاہئے؟ یہی وہ نکتہ ہے جسے علماء نے ایک مختصر مگر بامعنی جملے میں بیان کیا ہے: “کونوا ربانیین ولا تکونوا رمضانیین” یعنی رب والے بنو، صرف رمضان والے نہ بنو۔

اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کی بندگی اور اطاعت کسی خاص مہینے تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ پورے سال جاری رہنی چاہئے۔ افسوس کہ رمضان کے ختم ہوتے ہی بہت سے لوگوں کی عبادات میں بتدریج کمی آ جاتی ہے۔ مساجد جو رمضان میں آباد ہوتی ہیں، عید کے بعد خالی ہونے لگتی ہیں۔ قرآن کی تلاوت کم ہو جاتی ہے، صدقہ و خیرات کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے اور انسان دوبارہ اسی بے فکری اور غفلت کی زندگی میں واپس چلا جاتا ہے۔

یہ طرزِ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے رمضان کے پیغام کو صحیح طور پر نہیں سمجھا۔ رمضان دراصل ایک تربیتی کورس ہے جو ہمیں پورے سال کے لئے تیار کرتا ہے۔ اگر رمضان کے بعد ہماری زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی باقی نہیں رہتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس مہینے سے حقیقی فائدہ حاصل نہیں کیا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کو اپنی زندگی کی اصلاح کا نقطۂ آغاز بنائیں۔ رمضان میں جو عادتیں ہم اپناتے ہیں جیسے نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت، ذکر و اذکار، صبر، بردباری، صدقہ و خیرات اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، انہیں رمضان کے بعد بھی جاری رکھیں۔ یہی حقیقی معنوں میں “ربانی” بننے کا راستہ ہے۔

خصوصاً نوجوان نسل کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان اگر رمضان کو محض تفریح، سحری پارٹیوں اور افطاری کے پکوانوں تک محدود کر دیں تو وہ اس عظیم مہینے کی روح سے محروم رہ جائیں گے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ رمضان کو اپنی شخصیت کی تعمیر، اخلاق کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بنائیں۔

آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ رمضان کا نہیں بلکہ بندوں کا رب ہے، اور اس کی بندگی سال کے بارہ مہینوں میں مطلوب ہے۔ رمضان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت کے مطابق ڈھالیں اور ہر حال میں اس کی رضا کو مقدم رکھیں۔ اگر ہم رمضان کے بعد بھی اپنی عبادات، نیکیوں اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھ سکیں تو یہی اس مبارک مہینے کی حقیقی کامیابی ہوگی۔ یہی وہ پیغام ہے جو “کونوا ربانیین ولا تکونوا رمضانیین” کے بامعنی جملے میں پوشیدہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ