ہم نے اپنی عبادتوں میں کیا کھویا، کیا پایا؟ سید فاروق احمد قادری۔
ہم نے اپنی عبادتوں میں کیا کھویا، کیا پایا؟
سید فاروق احمد قادری۔
رمضان المبارک کا آخری جمعہ آ چ تیسرے عشرے چند دن باقی رہ گئے پہلا عشرہ رحمت کا تھا، دوسرا عشرہ مغفرت کا، اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں: ہم نے اپنی عبادتوں میں کیا کھویا اور کیا پایا؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔”
رمضان کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ دل کی اصلاح، گناہوں سے توبہ اور اللہ کے قریب ہونا ہے۔ اس مہینے میں ہم نے نمازیں پڑھیں، قرآن کی تلاوت کی، تراویح ادا کی اور صدقہ و خیرات کیا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زندگی میں حقیقی تبدیلی آئی؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
رمضان تاریخِ اسلام میں بھی عظمت رکھتا ہے۔ اسی مہینے میں غزوۂ بدر پیش آیا جس میں حق کو باطل پر فتح نصیب ہوئی۔ اسی مہینے میں فتحِ مکہ کا عظیم واقعہ پیش آیا۔ اور اسی مہینے میں ایک مقدس رات شبِ قدر عطا کی گئی جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک 27ویں رات کا زیادہ امکان ہے، لیکن اصل تعلیم یہی ہے کہ پورے آخری عشرے میں عبادت بڑھائی جائے۔ اسی لیے اعتکاف کی سنت بھی اسی عشرے میں رکھی گئی تاکہ انسان دنیا سے کٹ کر مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔
اب رمضان کے اختتام سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے:
اگر ہماری نمازیں بڑھ گئیں، قرآن سے تعلق مضبوط ہوا اور دل نرم ہو گیا تو ہم نے بہت کچھ پا لیا۔
لیکن اگر رمضان گزر گیا اور ہماری عادتیں نہ بدلیں تو ہم نے بہت کچھ کھو دیا۔
آئیے آخری دنوں اور راتوں کو غنیمت سمجھیں، شبِ قدر کی تلاش کریں، توبہ کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہماری عبادتوں کو قبول فرمائے اور ہمیں جہنم سے نجات عطا کرے۔
Comments
Post a Comment