گناہوں سے توبہ: رمضان کا انعام۔۔ از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔)


گناہوں سے توبہ: رمضان کا انعام۔
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔)

رمضان المبارک محض روزے رکھنے اور عبادات میں اضافہ کرنے کا مہینہ نہیں بلکہ یہ اللہ کی طرف رجوع کرنے، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرنے اور ایک نئی پاکیزہ زندگی شروع کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ایمان والو! اللہ کے حضور خالص توبہ کرو۔" (التحریم: 8)۔ رمضان کا ہر دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اللہ کی رحمت ہمارے ہر گناہ سے زیادہ وسیع ہے اور اگر ہم سچے دل سے توبہ کریں تو وہ ہمیں معاف کر دے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (بخاری، مسلم)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان ہمیں صرف ظاہری عبادات کی نہیں بلکہ باطنی پاکیزگی کی بھی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم روزہ رکھ کر بھی جھوٹ، غیبت، حسد، فحش کلامی اور دیگر گناہوں سے نہ بچیں تو ہمارا روزہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے مترادف ہوگا۔
توبہ صرف زبانی "استغفار" کہنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سچا عہد ہے کہ آئندہ ہم گناہوں سے بچیں گے، اپنی اصلاح کریں گے اور اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں گے۔ رمضان ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور اپنی خطاؤں کو پہچاننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جو شخص اس مبارک مہینے میں سچے دل سے اللہ سے معافی مانگ لے اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
آج جب کہ دنیا گناہوں کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے، رمضان کی برکتیں ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ ہم اللہ کی رحمت کے طلب گار بنیں، اس کے در پر جھکیں اور اپنے ماضی کی لغزشوں کو توبہ کے آنسوؤں سے دھو ڈالیں۔ اللہ کی بارگاہ میں پلٹنے کے لیے اس سے بہتر موقع شاید ہمیں دوبارہ نہ ملے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ