سحر و افطار : برکت اور اعتدال کا درس۔ از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔
سحر و افطار: برکت اور اعتدال کا درس۔
از قلم نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ اپنی رونقوں اور برکتوں کے ساتھ جاری و ساری ہے ویسے تو یہ سارا مہینہ ہی حسین ہے مگر
سحر و افطار، روزے کے دو ایسے حسین لمحات ہیں جن میں اللہ کی خاص رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ سحری محض کھانے کا انتظام نہیں بلکہ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے، جس میں برکت ہے اور جو دن بھر کی عبادت اور صبر کے لیے قوت فراہم کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سحری کیا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔" (بخاری، مسلم)۔ گویا سحری صرف جسمانی توانائی کا ذریعہ نہیں بلکہ روحانی تقویت اور سنتِ نبوی پر عمل کرنے کا موقع بھی ہے۔
اسی طرح، افطار کا وقت قبولیتِ دعا کا لمحہ ہوتا ہے۔ سارا دن بھوک اور پیاس میں گزارنے کے بعد جب روزہ دار اللہ کے دیے ہوئے رزق سے افطار کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر گزاری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کھجور سے افطار فرماتے تھے اور ہمیں بھی سادگی، سنت کی پیروی اور اعتدال اپنانے کا درس دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا: "روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔" (بخاری، مسلم)۔
افسوس کہ آج سحر و افطار کے وقت اعتدال اور سادگی کی جگہ اسراف اور تکلفات نے لے لی ہے۔ افطار کے وقت دسترخوان طرح طرح کے کھانوں سے بھر دیے جاتے ہیں، اور اسراف کا ایسا مظاہرہ ہوتا ہے کہ غریبوں اور محتاجوں کا حق نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ رمضان میں تقویٰ، صبر اور دوسروں کی بھوک و پیاس کا احساس بیدار ہونا چاہیے۔
سحر و افطار ہمیں صرف کھانے کے آداب نہیں سکھاتے بلکہ یہ ہمیں شکر، قناعت، سادگی، اور غریبوں کے درد کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ اگر ہم ان دو لمحات کو عبادت، دعا، اور سادگی کے ساتھ گزاریں تو یقیناً ہمارے روزے کی برکت دوچند ہو جائے گی اور رمضان کا حقیقی مقصد پورا ہو سکے گا۔ ہ
Comments
Post a Comment