صحافت پر اردو اشعار کی کہکشاں - ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
صحافت پر اردو اشعار کی کہکشاں -
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
صحافت ایک انقلابی شعبہ ہے،جس کوثا بت کرنے کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف یہ دیکھ لیاجائے کہ دنیا میں جتنے انقلاب پسند قائدین گزرے ہیں، ان کاتعلق صحافت سےرہایانہیں۔ تو پتہ چلے گاکہ مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لعل نہرو، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، حسین احمد
مدنی اور دیگر کئی شخصیات کاتعلق صحافت سے مضبوط رہاہے۔مغربی قائدین بھی صحافت سے چمٹے رہے ہیں بلکہ انھوں نے بھی صحافت کے توسط سے اپنے سیاسی،علمی وتعلیمی مقاصد حاصل کئے ہیں۔
آج ہم اسی صحافت سے متعلق کچھ گفتگوکریں گے اور اردو ادب میں صحافت پر کی گئی شاعری کی مثالیں بھی پیش کی جائیں گی۔
صحافت کیاہے؟:۔صحافت کی تعریف مستعار لیتاہوں۔ کہاجاتاہے کہ ”صحافت عربی زبان سے نکلاہوا لفظ ہے جس کی اصل صحیفہ اورصحف ہے جس کے لفظی معنی کتاب اور جریدہ(اخبار/رسالہ) کے آتے ہیں۔ صحافت کا مفہوم یوں ہے،اخبارات و رسائل اور خبر رساں اداروں کے لئے خبروں اور خبروں پر تبصروں وغیرہ کی تیاری کو صحافت کا نام دیا جاتا ہے“ایک اور مقام پر صحافت کی تعریف یوں کی گئی ہے ”سماج اور وقت کے تناظر میں لوگوں کومعلومات دے کر انہیں باخبر کرنا ہی صحافت کامقصد ہے۔ صحافت صرف خشک اطلاعات نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کوبیدارکرتی ہے، انہیں فیصلے کرنے اور سوچنے کے قابل بناتی ہے“ (بحوالہ ”اردو میڈیا، کل آج کل۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز۔ صفحہ 63)
اقبال ساجد کہتے ہیں ؎
بے خبر دنیا کو رہنے دو خبر کرتے ہوکیوں
دوستو میرے دکھوں کومشتہر کرتے ہوکیوں
زرد صحافت یا پیلی صحافت (Yellow journalism):۔ ویکی پیڈیا کے مطابق زردصحافت دراصل صحافت کی ایک پست ترین شکل ہے جس میں کسی خبر کے سنسنی خیز پہلو پر زور دینے کے لیے اصل خبر کی شکل اتنی مسخ کر دی جاتی ہے کہ اس کا اہم پہلو قاری کی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ یہ اصطلاح انیسویں صدی کی آخری دہائی میں وضع ہوئی۔ جب نیویارک کے اخبارات کے رپورٹر اپنے اخبار کی اشاعت بڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر وحشت ناک اور ہیجان انگیز رپورٹنگ کرتے تھے۔ یہ اشاعتی جنگ (Circulation War) اس وقت عروج پر پہنچی جب بعض اخبارات نے کیوبا میں ہسپانوی فوجوں کے مظالم کی داستانیں خوب نمک مرچ لگا کر شائع کیں اور امریکی رائے عامہ کو سپین کے خلاف اس قدر برانگیختہ کر دیا کہ امریکا اور سپین کی جنگ تقریباً ناگزیر ہو گئی۔ زرد صحافت کی اصطلاح دراصل اس سنسنی خیز کامک سیریل سے ماخوذ ہے جو Yellow kid کے عنوان سے امریکی اخبارات میں شائع ہوتا تھا۔
خورشید احمد ملک نے زردصحافت پر عمدہ شعر کہاہے، ملاحظہ کیجئے ؎
موسم گل یہ تری زرد صحافت کیسی
پھول معصوم ہیں پھولوں سے سیاست کیسی
فرضی خبر:۔ فرضی خبر ایک قسم کی پیلی صحافت (yellow journalism) ہے۔ کسی بھی خبر کی تشہیر کے لیے اس کو جان بوجھ کر عوام میں تلبیس اطلاعات (Disinformation) کی صورت پھیلایا جاتا ہے، جس کو روایتی چھاپنے اور نشر کے خبر رساں ذرائع اور سماجی رابطوں کی ویب گاہ کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاتا ہے لیکن یہاں غور طلب بات یہ بھی ہے کہ اس فرضی خبر کی آڑ میں اصل خبر پر بھی شکوک پیدا کیے جاتے ہیں (بحوالہ ویکی پیڈیا)۔ وسیم ؔ بریلوی کاکہاگیامقطع ملاحظہ کیجئے۔ جس میں ”بری خبر“ یا کہہ سکتے ہیں فرضی خبر کی بابت کہاجارہاہے کہ ؎
وسیمؔ ذہن بناتے ہیں تو وہی اخبار
جو لے کے ایک بھی اچھی خبر نہیں آتے
جھوٹی صحافت:۔ جھوٹی صحافت (Lying press)بہ طور گالی استعمال کی جانے والی سیاسی اصطلاح ہے جسے زیادہ تر جرمن سیاسی تحریکیں مطبوعہ صحافت اور وسیع تر ذرائع ابلاغ کے لیے استعمال کرتا ہے، جب یہ یقین ہو کہ خبروں کی رو داد کی پیش کشی میں سچائی
کے لیے جستجو کی زبر دست کمی ہے۔جوشؔ ملیح آبادی کا کہناہے ؎
ہر سانس دے رہی ہے خبر کائنات کی
پھر بادہ ء جمال سے یوں بے خبر ہیں ہم
جناب معین شاداب نے اپنے ایک مضمون میں منفی خبروں کی بابت لکھاہے ”اخباروں میں مثبت خبریں کم ہوتی ہیں جب کہ منفی خبروں کے دفتر کے دفتر ہوتے ہیں۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ اخبار ناپسندیدہ واقعات اور لہو لہو مناظر کا دستاویز اور انسانی زندگی کے المناک پہلووں کا استعارہ یا اشاریہ بن گئے ہیں“اور انھوں نے اپنی بات کواردو اشعارکے ذریعہ مضبوط بناکرپیش کیاہے اور درج ذیل اشعار پیش کئے ہیں۔ ؎
گمنام ایک لاش کفن کو ترس گئی
کاغذ تمام شہر کے اخبار بن گئے
عشرت دھولپور
بم پھٹے لوگ مرے خون بہا شہر لٹے
اور کیا لکھا ہے اخبار میں آگے پڑھیے
ظہیر غازی پوری
ہرایک لفظ سے چنگاریاں نکلتی ہیں
کلیجہ چاہئے اخبار دیکھنے کے لئے
راحت اندوری
مجھ کو اخبار سی لگتی ہیں تمہاری باتیں
ہر نئے روز نیا فتنہ بیاں کرتی ہیں
بشیر مہتاب
اصطلاح کاوسیع پیمانے پر استعمال:۔ حالانکہ اس اصطلاح کا آغاز جرمنی سے ہوا تھا، تاہم اس کو مقبولیت 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کی وجہ سے ملی۔ اسے مقبول بنانے کے پیچھے ”متبادل دائیں“ارکان اور شعلہ بیان شخصیات رہی ہیں جیسے کہ رچرڈ اسپنسر، جو نیشنل پولیسی انسٹی ٹیوٹ (این پی آئی) کے صدر کے عہدے پر قائم رہے۔ یہ امریکا میں سفید فاموں کی فکر سازی کا ادارہ ہے۔ دیگر سر کردہ شخصیات نے جو اس اصطلاح کا استعمال کیا ہے، ان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی تھے۔ کو کلیو لینڈ، اوہائیو کی ریالی میں اس اصطلاح کا استعمال کیے تھے۔(بحوالہ ویکی پیڈیا)
ناصر کاظمی کہتے ہیں ؎
کچھ نئے لوگ آنے والے ہیں
گرم اب شہر میں خبر ہے یہ
منٹوکا بیان صحافت سے متعلق:۔سعادت حسن منٹوکہتے ہیں ”ہندوستان میں سینکڑوں کی تعداد میں اخبارات و رسائل چھپتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ صحافت اس سرزمین میں ابھی تک پیدا ہی نہیں ہوئی ہے“لیجئے صاحب قصہ ہی تمام ہوگیا۔ صحافت ہندوستان میں پیدا ہی نہیں ہوئی۔ جب کہ اکبر الہٰ آبادی ایک شعر میں کہتے ہیں ؎
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
اکبرالہٰ آباد ی جج کے عہدے پر فائز تھے اور توپ کے مقابل اخبار کواہمیت دیتے تھے۔ جب کہ منٹو کی بصیرت صحافت کو بہت آگے دیکھتی تھی۔گویا کسی نامعلوم شاعر نے منٹو کے اسی خیال کی اپنے اس شعر میں ترجمانی کی ہے ؎
صحافی ہوگیا مرحوم، صحافت مرگئی کب کی
قلم اب جرأت اظہا ررائے کو ترستا ہے
راحت اندوری بھی کچھ اسی طرح سوچتے ہیں ؎
بن کے اک حادثہ بازار میں آجائے گا
جو نہیں ہوگا وہ اخبار میں آجائے گا
گلزارکاتجربہ ایسا ہے کہ ؎
ناخدا دیکھ رہا ہے کہ میں گرداب میں ہوں
اور جو پُل پہ کھڑے لوگ ہیں اخبار سے ہیں
اکبر الہ آبادی بھی صحافت کی اس روش سے نالاں ہیں، فرماتے ہیں ؎
چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں
اخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے
مگر ساحر لدھیانوی کی فکرمندی کچھ یوں ہے ؎
عدل گاہیں تو دور کی شے ہیں
قتل اخبار تک نہیں پہنچا
دوسری جانب ریاست کرناٹک کے معروف شاعر خلیل مامون کہتے ہیں ؎
ایسے مر جائیں کوئی نقش نہ چھوڑیں اپنا
یاد دل میں نہ ہو، اخبار میں تصویر نہ ہو
مگر رساؔچغتائی اپنے محبوب کی بابت کیا کہتے ہیں، ملاحظہ کیجئے گا ؎
اس نے زنجیر کرکے رکھاہے
ہم سے وہ بے خبر رہے گاکیا
مخمور سعیدی کے خوف کوبھی پڑھ لیجئے ؎
سرخیاں خون میں ڈوبی ہیں سب اخباروں کی
آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے
حبیب جالب کے یہ دوشعرجمہوری لیکن ظالم حکومت کے عین خلاف ہیں ؎
خوب آزادی صحافت ہے
نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے
دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن
یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے
ان کی ایک اور نظم بھی بڑی خوب ہے،جس کو پڑھتے ہوئے کئی مناظر آنکھوں میں گھوم جاتے ہیں۔ طویل نظم سے کچھ حصے یہاں دئے جارہے ہیں ؎
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
تنگ کر دے غریب پر یہ زمیں
خم ہی رکھ آستان زر پہ جبیں
عیب کا دور ہے ہنر کا نہیں
آج حسن کمال کو ہے زوال
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
کیوں یہاں صبح نو کی بات چلے
کیوں ستم کی سیاہ رات ڈھلے
سب برابر ہیں آسماں کے تلے
سب کو رجعت پسند کہہ کر ٹال
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
نام سے پیشتر لگا کے امیر
ہر مسلمان کو بنا کے فقیر
قصر و ایواں میں ہو قیام پذیر
اور خطبوں میں دے عمرؔ کی مثال
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
آمریت کی ہم نوائی میں
تیرا ہمسر نہیں خدائی میں
بادشاہوں کی رہنمائی میں
روز اسلام کا جلوس نکال
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
چند اور شعراء کے صحافت سے متعلق اشعار کامطالعہ کریں۔ ہم یہیں پر اپنی بات کا اختتام یہ کہتے ہوئے کرتے ہیں کہ اردو ادب نے صحافت کی صورتحال کو بیان کرنے میں بخل سے کام ہر گز نہیں لیاہے۔ شعرائے کرام کے ہزاروں اشعار صحافت پر بہ آسانی مل جاتے ہیں۔ کوئی ایسا شاعر نہیں گزرا ہے جس نے صحافت پر شعر نہ کہے ہوں چاہے ان کاتعلق قدماء سے ہویا جدید شعراء سے۔ اس تعلق سے ایک اور دلچسپ انکشاف یہ ہوتاہے کہ کئی شعراء شاعر ہونے کے علاوہ ان کی زندگی کے بیشتر سال صحافت کی خدمت میں گزرے ہیں۔ بہر حال رہے نام اللہ کا۔
ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافی
جو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گے
فیض احمد فیض ؔ
ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے
کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا
ادا جعفری
وہ اپنی ہی صحافت میں نیاہے
مقابل میرے جو آکے کھڑا ہے
میرؔبیدری
دس بجے رات کو سو جاتے ہیں خبریں سن کر
آنکھ کھلتی ہے تو اخبار طلب کرتے ہیں
شہزاد احمد
رات کے لمحات خونی داستاں لکھتے رہے
صبح کے اخبار میں حالات بہتر ہو گئے
نصرت گوالیاری
کچھ حرف و سخن پہلے تو اخبار میں آیا
پھر عشق مرا کوچہ و بازار میں آیا
عرفان صدیقی
ذرابات کرنا،ہمیں یاد کرنا
چلے گا کبھی جب صحافت کا جادو
میرؔبیدری
عشق اخبار کب کا بند ہوا
دل مرا آخری شمارہ ہے
فرحت احساس
خود اپنایہ ہونے سے ہی ڈررہی ہے
صحافت، سیاست تلے مررہی ہے
میرؔبیدری
چہرے پہ جو لکھا ہے وہی اس کے دل میں ہے
پڑھ لی ہیں سرخیاں تو یہ اخبار پھینک دے
شہزاد احمد
کچھ خبروں سے اتنی وحشت ہوتی ہے
ہاتھوں سے اخبار الجھنے لگتے ہیں
بھارت بھوشن پنت
اخبار میں روزانہ وہی شور ہے یعنی
اپنے سے یہ حالات سنور کیوں نہیں جاتے
محبوب خزاں
کھلے گا ان پہ جو بین السطور پڑھتے ہیں
وہ حرف حرف جو اخبار میں نہیں آتا
رؤف خیر
عرصے سے اس دیار کی کوئی خبر نہیں
مہلت ملے تو آج کا اخبار دیکھ لیں
آشفتہ چنگیزی
رات بھر سوچا کیے اور صبح دم اخبار میں
اپنے ہاتھوں اپنے مرنے کی خبر دیکھا کیے
محمد علوی
........ختم شد......
Comments
Post a Comment