تاریخ کے جھروکوں سے۔ فضائے بدر پیدا کر ۔ ازقلم : محمد ناظم ملی۔ تونڈاپوری۔
تاریخ کے جھروکوں سے۔
فضائے بدر پیدا کر ۔
ازقلم : محمد ناظم ملی۔ تونڈاپوری۔
سیروتاریخ کےمحققین نےواضح طور پر لکھا ہیکہ حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے migration ھجرت مدینہ کے بعدسےہی قریش نے مدینہ پرحملہ کی تیاریاں شروع کردی تھیں عبداللہ ابن ابی کو انھوں نے لکھ بھیجا تھا تم محمد کا کام تمام کردو ورنہ قریش کے ہاتھوں تمھاری خبرلی جائنگی دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے تو درست ہوگا کہ قریش مکہ مدینہ میں خلفشار کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے اور باہر سے یہ حملہ اور ہونے کے لیے پر توڑ رہے تھے دشمنی کی حد ہو گئی کہ یہ اللہ کے ماننے والوں کو زمین پر پنپتا ہوا دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے جیسا کہ اج بھی چند خیال بد مزاج انسانیت کے دشمن زمین کے کسی حصے پر مسلمانوں کو ہنستا کھیلتا ترقی کرتا ہوا دیکھنا ہی نہیں چاہتے بہرحال اس طرح کی تمام باتوں کا علم حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورے کیے یار غار صدیق اکبر اور اسی طرح جانثاران انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح سے اطمینان دلایا سعد ابن معاذ نے عرض کیا ہم تو ہر حالت میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ کے ہمراہ ہیں اپ جس سے معاہدہ فرمائیں ہمارا اس سے معاہدہ اپ جس کو نا منظور فرمائے ہم بھی اس کو کبھی گلے سے نہیں لگائیں گے ہمارے مال کا استعمال اپ اپنی مرضی سے کرے یہ ہماری خوشی اور مسرت کا باعث ہوگا مال کا جو حصہ اپ ہم سے لیں گے ہمیں وہ زیادہ پسند ہوگا اس مال سے جو ہمارے پاس اپ چھوڑیں گے ہم کو اپ حکم دیں گے ہم اس کی تعمیل میں پس و پیش نہ کریں گے ہم برق غماد کے چشمے تک اپ کے ساتھ چلیں گے اگر اپ نے حکم دیا کہ سمندر میں چھلانگ لگا دے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے مقداد بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم وہ نہیں ہیں کہ قوم موسی کی طرح یہ کہہ دیں. فاذهب انت وربك فقاتلا انا ههنا قاعدون
کہ ہم اپ کے دائیں بائیں اگے پیچھے ہر طرح قتال کریں گے جب اصحاب نبی کے ان ملے جلے جذبات کو حضور ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا اور دیکھا تو اپ کا ضیابار چہرہ چمک اٹھا
12 رمضان سن دو ہجری کو رسول رحمت تقریبا اپنے جلوں میں 313 جانثار صحابہ کو لے کر نکلے جنگی ساز و سامان تو کجا سواری کے لیے جانور بھی نہیں تھے پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے ایک زبیر بن عوام کی سواری اور ایک مقدار ابن اسود کی سواری اونٹ کل 70 تھے ایک ایک اونٹ پر دو دو تین تین ادمی باری باری سے سوار ہوتے تھے خود حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی اور حضرت مرثد غنوی رضی اللہ عنہم ایک اونٹ پر باری باری بیٹھتے مکہ کا یہ بے سر و سامان قافلہ محض اپنے پروردگار کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے قریش کے ایک ہزار کے لشکر وہ بھی ہر طرح الات حرب و ضرب سے لیس تھے کے مقابلے پر جا نکلے نامی گرامی امراءقریش عباس عتبہ بن ربیعہ حرث بن عامر نضر ابن حارث ابو جہل امیہ وغیرہ روزانہ دس دس اونٹ ذبح کر کے لشکر کی دعوتیں کرتے تھے گویا دونوں کے درمیان کسی طرح کا کوئی جوڑ ہی نہیں تھا مگر ہر زمانے میں ایمان والوں کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے اور یہی ان کے کامیاب ہونے کے لیے اصل سرمایہ ہے کہ وہ کبھی اپنے رب کی ذات سے مایوس نہیں ہوتے دنیاوی ساز و سامان پر کبھی نگاہ نہیں رکھتے ان کا ایمان کہتا ہے کامیابی تو خدا ہی عطا کرتا ہے ساز و سامان تو بس ایک کمزور سا سبب ہے چنانچہ بدر میں بھی یہی ایمانی طاقت مسلمانوں کا اصل سرمایہ تھی نتیجہ بھی ایسے ہی رہا بدر کی رات کی گریہ و زاری اپنے رب کے سامنے نصرت و امداد کے لیے دعائے اپنے رب کو اپنی کمزوریاں بتلا کر قادر مطلق کی طرف سے امداد کے لیے اہ اہ سحر گاہی نالہ نیم شبی کرتے ہوئے سرکار کی زبان پر تھا يا ربي ان تهلك هذه الاصابه لن تعبد يوم القيامه
اے سروں کو چمک دینے والے ستاروں کو جھلملاہٹ دینے والے چاند کو چمک اور سورج کو دمک دینے والے رب کریم یہ کمزور سا قافلہ میں نے تیرے بھروسے پر انہیں میدان میں اتارا ہے دو جہاں کے بادشاہ انہیں کامیابی سے ہمکنار کر دعا مانگی تھی کائنات کے سب سے عظیم انسان نے مقبول ترین شخص نے اس ذات نے جس کا کوئی ثانی نہیں اور قبول فرمایا اس رب نے جو تنہ تنہا اس سارے براہمان اور کائنات پر دسترس رکھتا ہے جس کی حاکمیت اعلی کا کائنات کا ذرہ ذرہ اقرار کرتا ہے چنانچہ میدان بدر خدا کی امداد و نصرت کا اظہار زمین و اسمان مریخ ثریا چاند و سورج اور کائنات کے ذرے ذرے نے اپنی انکھوں سے دیکھ لیا قریش جن کو پیس دینے کی بات کرتے تھے کمال ہے اس کمزور قافلے کے سامنے قریش خود پس گئے خدا نے اس کو رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا دیا خدا نے اس کو یوم البدر ہی نہیں یوم الفرقان کہہ دیا یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا دن اج 17 رمضان سن دو ہجری کو خدا کی طرف سے میدان بدر میں یہ فیصلہ سنا دیا گیا ہر انکھ جو دیکھ رہی تھی ہر کان جو سن رہا تھا فرمان الہی یہ فرما رہا تھا کہ کامیابی اور ناکامی کا دارومدار صرف اور صرف ایمان کی ہی بنیادوں پر ہونا ہے اس جہان میں بھی اور عالم اخرت میں بھی چنانچہ جب دشمن اہل حق کے مقابلے پر ایا حق و باطل نور ظلمت کفر و اسلام دو صفوں میں امنے سامنے جم گئے قران کہتا ہے
لقد كان لكم ايه في فيتين التقتا فئه تقاتل في سبيل الله واخرى كافره
یہ عجیب منظر تھا اتنی بڑی وسیع دنیا میں توحید کی قسمت صرف چند جانوں پر منحصر تھی صحیح مسلم کے بقول حضور علیہ السلام رات کو اپنے رب کے حضور دونوں ہاتھ پھیلا پھیلا کر فرما رہے تھے خدایا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اج پورا کر دے فرماتے تھے اج اگر یہ مختصر جماعت مٹ گئی تو پھر روئ زمین پر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ ہوگا یار غار نے بڑھ کر عرض کیا بس یا رسول اللہ اللہ کی مدد اگئی اور پیشن گوئی کر دی گئی
سيهزم الجمع ويولون الدبر
فتح مبین کی خوشخبری سنا دی گئی جنگ شروع ہوئ۔شیر دلانے اسلام میں سے تین اسلام کے مرد کار مرد اہن میدان میں ائے حضرت حمزہ حضرت علی اور حضرت ابو عبیدہ عتبہ حمزہ کے مقابلے میں ولید حضرت علی کے مقابلے میں اور شیبہ ابو عبیدہ کے مقابلے میں پھر دھیرے دھیرے جنگ شباب کی طرف بڑھتی رہی اور نتیجتا ناموران عرب سردار نے قریش میں سے 70 واصل جہنم ہوئے اور 70 قیدی بنا لیے گئے سب سے بڑا دشمن اسلام ابو جہل دو چھوٹے بچوں کے ہاتھوں مارا گیا اور دنیا کو یہ سبق سکھلا دیا گیا کہ دنیا میں کامیابی و ناکامی کا دارومدار انحصار نہ اعوان و انصار پر ہے نہ اولاد و اموال پر ہے بلکہ جس کی نظر رب العالمین پر ہوگی جس کا نہا خانہ دل کائنات کے خالق و مالک کی یاد سے معمور ہوگا اور جس کے دل و زبان سے یہ بات مترشح ہوگی اللہ ہی اس کائنات کا مدبر اعلی ہے اور ایمان والوں کو اسی پر یقین رکھنا چاہیے
وعلى الله فليتوكل المومنون
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
Comments
Post a Comment