جیلانی بانو؛ جنھیں نصاب میں بھی پڑھا اور زندگی میں بھی سیکھا.تحریر: عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
جیلانی بانو؛ جنھیں نصاب میں بھی پڑھا اور زندگی میں بھی سیکھا.
تحریر: عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
اردو زبان و ادب کے افق پر جب بھی خواتین افسانہ نگاروں کے درخشاں ستاروں کا ذکر ہوگا تو جیلانی بانو کا نام آب و تاب کے ساتھ جگمگاتا رہے گا۔ برصغیر کی صفِ اوّل کی قلم کار، جنہوں نے عورت کے احساس، معاشرے کی ناانصافی اور زندگی کی تلخیوں کو لفظوں کا جامہ پہنا کر ادب کو روح عطا کی۔ 1936ء میں حیدرآباد (دکن) کے ایک علمی و ادبی خانوادے میں آنکھ کھولنے والی جیلانی بانو نے جامعہ عثمانیہ سے تعلیم حاصل کی اور پیشۂ تدریس سے وابستہ رہیں۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ان کا ادبی سفر بھی جاری رہا، یہاں تک کہ وہ اپنے منفرد اسلوب اور سچے موضوعات کی بدولت پہچان بن گئیں۔ افسانہ، ناول، مضمون ،نثر کی ہر صنف ان کی قلم سے شاداب ہوئی۔ ان کے افسانے زندگی کی ننگی سچائیوں کے آئینہ دار ہیں: عورت کے سماجی مسائل،ازدواجی زندگی کی پیچیدگیاں، غربت اور طبقاتی تفاوت،
نفسیاتی الجھنیں اور انسانی رشتوں کی نزاکت۔ انہوں نے عورت کو صرف مظلوم نہیں بلکہ باشعور، باوقار اور خود اعتماد کردار کے طور پر پیش کیا۔ ان کا اسلوب سادہ، رواں، حقیقت پسندانہ اور جذبات سے لبریز مگر خطیبانہ شور سے پاک ہے۔ مکالمہ مضبوط، کردار جاندار، اور کہانی میں واعظ یا نعرہ نہیں بلکہ زندگی کی سچی تصویر۔ ان کے مشہور افسانوی مجموعے اور ناولوں میں: ایوانِ غزل، اندھیرا اجالا، مٹی کا گھر، جنگل اور جنگلی شامل ہیں۔ ان کی متعدد کہانیاں مختلف ادبی رسائل کے ساتھ ساتھ کئی ریاستوں کے نصابی کتب میں بھی شامل رہیں۔ خصوصاً ریاست مہاراشٹر کے اردو نصاب میں نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت میں جیلانی بانو کے منتخب افسانے شامل کیے گئے۔ مقصد صرف ادب پڑھانا نہیں تھا بلکہ سماجی شعور بیدار کرنا،
طلبہ کو جدید اردو افسانے سے روشناس کرانا، اور خواتین ادب کی نمائندگی کو فروغ دینا تھا۔ ان کے افسانے اس لیے بھی نصاب کا حصہ بنے کہ زبان سادہ، موضوعات تعلیمی اور عورت کی نفسیات و مسائل کے ساتھ ان کے حل بھی نمایاں ہیں۔ آج ان کے انتقال کی خبر نے ہمیں اپنے اساتذہ کی وہ یادیں لوٹا دیں، مرحوم سید فیروز برہان پوری المعروف ایف۔آر۔ سید کا ہائی اسکول میں ان کے افسانے پڑھانے کا دلنشیں انداز، اور مرحوم ڈاکٹر اکبر رحمانی جلگاؤں کی جونیئر کالج میں ان کی کہانیوں کی جیتی جاگتی تشریح۔ ہم نے بھی مرحومہ کی کہانیاں ہشتم اور نہم جماعت میں پڑھانے کی سعادت پائی۔ آج اساتذہ کرام کی وہ نصیحتیں، وہ ڈانٹ، وہ شفق سب یاد آ گئیں، جنھیں شاید آج کا طالب علم اور سرپرست سہنے کے عادی نہیں رہے۔ یہ محض ایک ادیبہ کا انتقال نہیں، بلکہ اردو افسانے کے ایک روشن باب کا اختتام ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور اردو زبان و ادب میں پیدا ہونے والے اس خلا کو جلد پُر فرمائے۔ جیلانی بانو صرف نصاب کی کہانیاں نہیں تھیں، وہ نسلوں کی تربیت، شعور کی شمع، اور عورت کی خاموش آواز تھیں ،جو لفظ بن کر بولتی رہیں،
اور ہمیشہ بولتی رہیں گی۔
Comments
Post a Comment