نثری نظم "خاموش گلیاں"۔ از قلم : رہبر تماپوری۔


نثری نظم
" خاموش گلیاں "
از قلم : رہبر تماپوری۔

شام کی نرم روشنی میں، آسمان پر چمکتے ستارے ایک خاموش شخص کو بچپن کی گلیوں میں لے جاتے ہیں۔ وہ پگڈنڈی پر چلتا ہے، انہی راستوں پر جہاں ہنسی کی بازگشت تھی۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ خاموش گلیاں کیسے شور کے شہر میں چھپ گئیں۔ گھر کیا ہوتا ہے؟ میری ماں کہتی تھیں کہ گھر بس چار دیواروں پر ایک چھت ہوتا ہے۔ انسان کو اس شور میں سکون کی ضرورت ہے، اور وہ سکون انہی خاموش گلیوں میں ملتا ہے۔ آج بھی میرا دل انہی یادوں کو ڈھونڈتا ہے، کیونکہ یہ گلیاں ہی اصل سکون کا گھر ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ