جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔۔۔ ماحول کی حفاظت کی پکار۔۔ ازقلم : ڈاکٹر احتشام نداف۔( سر سید احمد خان اردو ہائی اسکول، شولاپور )
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔۔۔
ماحول کی حفاظت کی پکار۔
ازقلم : ڈاکٹر احتشام نداف۔
( سر سید احمد خان اردو ہائی اسکول، شولاپور )
اردو کے عظیم شاعر ساحر لدھیانوی نے امن کی پکار کرتے ہوئے کیا خوب کہا تھا:
" جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے"
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے'جنگ کیا مسئلوں کا حل ہے۔
آج موجودہ دور میں امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ یہ مشرق وسطیٰ کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اس جنگ سے جہاں ہم ایک طرف ماحولیاتی تباہی اور دوسری طرف توانائی کے شدید بحران (تیل اور گیس کی قلت) کا شکار ہیں۔یہ مصرعہ محض شاعری نہیں بلکہ اِنسانیت کی بقاء کا واحد راستہ بن چکا ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں، بلکہ ان علاقوں کا ماحولیاتی نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔
دنیا انگشتِ بدنداں ہے کہ تیل و گیس اور گریٹر اسرائیل کے لیے مسلط کی جانے والی اس جنگ میں ایران کے جیالے نہ صرف بڑی بے جگری سے منہ توڑ جواب دے رہے ہیں بلکہ سپر پاور امریکہ اور اسرائیل کو اپنے گھٹنوں پر لاچکے ہیں۔ عرب ممالک اس سے ہوش کے ناخن لے سکتے ہیں جو مکمل طور پر امریکہ اور اسرائیل پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔
جنگ صرف ملکوں کو تباہ نہیں کرتی بلکہ ماحولیاتی نظام کو بھی تہ وبالہ کر دیتی ہے۔ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی، اس کا براہِ راست اثر ہماری فضا، پانی' اور مٹی پر ہوتاہے۔
بمباری سے نکلنے والا دھواں اور کیمیائی مادے ہماری فضاء کو اِتنا زہریلی کر دیتے ہیں کہ سانس لینا محال ہو جاتا ہے۔ جنگی مشینری سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ زمین کے درجہ ٔ حرارت میں اظافے کا سب سے بڑا ذریعہ بن رہی ہے۔ ایک جنگی جیٹ طیارہ ایک گھنٹے کی پرواز میں اِتنا ایندھن جلاتا ہے جو سینکڑوں گاڑیوں کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔ یہ توانائی کی بہت بڑی بربادی ہے۔ جدید میزائل، ٹینک اور لڑاکا طیارے فضا میں ٹنوں کےحساب سے زہریلی گیسیں خارج کرتے ہیں۔ یہ گیسیں اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور گلوبل وارمنگ میں اِضافے کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ بمباری سے جنگلات میں لگنے والی آگ اور تیل کے رساؤ (Oil spills ) کی وجہ سے آبی حیات کی تباہی وہ نقصانات ہیں جن کی تلافی میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ تابکاری اور کیمیائی ہتھیار وں کے اثرات دہائیوں تک زمین کو بنجر رکھتے ہیں، جس سے زراعت اور خوراک کا تحفظ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اگر ہم واقعی زمین کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں کچھ ضروری اقدامات کرنے ہونگے۔
جیسے کہ سیاسی طور پر تنازعات کو اسلحے کے بجائے سفارت کاری اور مزاکرات کے ذریعے حل کرنا۔ معاشی طور پر جنگی بجٹ میں کٹوتی کر کے وہ رقم گرین انرجی پروجیکٹس (سولر اور وِنڈ) پر خرچ کرنا. اور بالخصوص بین الاقوامی قوانین بنانا جن کے تحت جنگ کے دوران ماحولیاتی تباہی کو "جنگی جرم" قرار دیا جائے۔
وقت آگیا ہے کہ عالمی طاقتیں اور عام انسان یہ سمجھ لیں کہ جیت کسی کی بھی ہو، شکست صرف انسانیت اور ماحولیاتی نظام کی ہوتی ہے۔ اگر ہم نے ہتھیار وں کی دوڑ نہ روکی تو کل ہمارے پاس نہ سانس لینے کو پاکیزہ ہوا ہوگی اور نہ ہی گھر روشن کرنے کو بجلی۔
ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بارود کی بو نہیں بلکہ صاف ستھرا ماحول اور روشن مستقبل دینا ہوگا۔ اسی لئے ہر ذی شعور انسان کی یہی پکار ہونی چاہئے کہ۔۔۔
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔۔۔
از: ڈاکٹر احتشام نداف
( سر سید احمد خان اردو ہائی اسکول، شولاپور )
Comments
Post a Comment