رمضان صرف کھانے پینے کی رونق نہیں بلکہ اصلاحِ نفس کا عظیم پیغام۔از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)

رمضان صرف کھانے پینے کی رونق نہیں بلکہ اصلاحِ نفس کا عظیم پیغام۔
از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
موبائل: 9325217306

رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے جس کا انتظار ہر صاحبِ ایمان بے چینی سے کرتا ہے۔ یہ مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مہینے میں قرآن مجید کو نازل فرمایا اور امت مسلمہ پر روزوں کو فرض کیا تاکہ انسان کے اندر تقویٰ، صبر اور ضبطِ نفس کی صفات پیدا ہوں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ اس لئے فرض کیا گیا ہے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ گویا رمضان کا اصل مقصد انسان کے اندر اللہ کا خوف، اپنی زندگی کا محاسبہ اور اپنے کردار کی اصلاح پیدا کرنا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے دور میں رمضان کے حقیقی پیغام کو ہم نے بڑی حد تک نظر انداز کر دیا ہے۔
خاص طور پر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے رمضان المبارک کو صرف سحری و افطار کی رنگینیوں تک محدود کر دیا ہے۔ افطار کے دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے، بازاروں کی چمک دمک، رات بھر کی تفریحی مصروفیات اور سوشل میڈیا پر کھانوں کی نمائش کو رمضان کی رونق سمجھ لیا گیا ہے۔ گویا رمضان کا مطلب صرف یہ رہ گیا ہے کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے بعد شام کو بھرپور انداز میں کھانے پینے کا اہتمام کیا جائے۔
یہ طرزِ فکر دراصل رمضان کے اصل مقصد سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم قرآن اور سنت کی روشنی میں رمضان کو سمجھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ مہینہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے جو انسان کو اندر سے بدلنے کے لئے آیا ہے۔
روزہ انسان کو ضبطِ نفس سکھاتا ہے۔ جب ایک مسلمان پورا دن حلال چیزوں سے بھی اپنے آپ کو روک لیتا ہے تو اس کے اندر یہ قوت پیدا ہونی چاہئے کہ وہ حرام کاموں سے بھی اجتناب کرے۔ اگر روزہ رکھنے کے باوجود انسان جھوٹ بولے، غیبت کرے، فضول مشغلے اختیار کرے اور اپنی نگاہوں اور زبان کی حفاظت نہ کرے تو پھر روزے کی روح باقی نہیں رہتی۔
نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کریں تو قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں، لیکن اگر یہی نوجوان وقتی لذتوں اور غیر سنجیدہ مشاغل میں الجھ جائیں تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ اس لئے رمضان المبارک نوجوانوں کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی زندگی کا رخ درست کریں اور اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کریں۔
رمضان ہمیں صبر اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ جب انسان بھوک اور پیاس کی شدت کو محسوس کرتا ہے تو اس کے دل میں غریبوں اور محتاجوں کے لئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں صدقہ و خیرات کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کی جا سکے اور اجتماعی ہمدردی کو فروغ دیا جا سکے۔
اسی طرح رمضان قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا بھی مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلمان قرآن کی تلاوت، تدبر اور فہم کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان اس مہینے میں قرآن کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں تو ان کی زندگی میں ایک مثبت انقلاب آ سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو رمضان کے اصل مقصد سے روشناس کرائیں۔ مساجد کے منبروں سے، تعلیمی اداروں میں اور گھروں کے ماحول میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ رمضان صرف کھانے پینے کی رونق کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔
اگر نوجوان اس مہینے کو غفلت اور فضول مشاغل میں گزار دیں تو وہ اس کی بے شمار برکتوں سے محروم رہ جائیں گے۔ لیکن اگر وہ اس مہینے کو عبادت، علم، اخلاق کی اصلاح اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے میں گزاریں تو یہی رمضان ان کی زندگی بدل سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ خصوصاً نوجوان اس حقیقت کو سمجھیں کہ رمضان انہیں صرف بھوکا پیاسا رکھنے کے لئے نہیں آتا بلکہ انہیں ایک بہتر انسان بنانے کے لئے آتا ہے۔
اگر ہم نے اس مہینے کے پیغام کو سنجیدگی سے قبول کر لیا تو یقیناً ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی، اور یہی رمضان المبارک کا اصل مقصد بھی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ