الوداع خواجہ معین الدین ٹیلر۔۔۔ ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
چلا گیا آج وہ سادہ دل انسان،
خدمت جس کی تھی پہچان، تھا جس کا ایمان۔
گلیوں میں اب بھی گونجتی ہے اس کی صدا،
ہر چہرے پہ چھائی ہے جدائی کی فضا۔
نہ دولت کا غرور، نہ عہدوں کا نشہ،
لوگوں کے دل جیتنا ہی تھا اس کا پیشہ۔
ٹیلر تھا مگر حوصلہ بلند تھا اس کا،
سیاست کے میدان میں بھی نام تھا اس کا۔
ہر محفل میں سچ کی آواز بن جاتا تھا،
بحثوں میں بھی حق کا ساتھ نبھاتا تھا۔
دوستوں کی محفل آج اداس بیٹھی ہے،
ہر آنکھ اشکبار، ہر دل روتا ہے۔
اب خاموش ہیں وہ راہیں، وہ بیٹھکیں ساری،
جہاں ہوتی تھی باتیں، محبت بھری پیاری۔
بچے سنبھالے ہوئے ہیں اب گھر کا نظام،
باپ کی محنت کا رکھتے ہیں وہ احترام۔
چھوڑ کر سب کو وہ رب کے پاس چلا گیا،
یادوں کا خزانہ ہمارے پاس دے گیا۔
اللہ کرے جنت الفردوس میں ہو ان کا مقام،
یہی ہے دعا، یہی ہے دل کا پیام۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
Comments
Post a Comment