ایسا کہاں سے لاوں کہ تجھ سا کہیں جسے - مسجدوں مدرسوں اور ضرورت مندوں کا محسن رخصت ہوا - تحریر : عمران جمیل۔


ایسا کہاں سے لاوں کہ تجھ سا کہیں جسے - 
مسجدوں مدرسوں اور ضرورت مندوں کا محسن رخصت ہوا - 
تحریر: عمران جمیل۔
9325229900 

     شہرِ عزیز کے مشہور و معروف دینی و صنعتی خانوادے، حنیف سائزنگ ورکس امرٹیکسٹائل گروپ کے تمام مکینوں کی پانچ فروری کی جمعرات کی پوری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹتی رہی.. ہر آنکھ اشک بار تھی... ہر دل کسی انجانے اندیشے سے دھڑک رہا تھا کہ کہیں کوئی ایسی انہونی خبر نہ آ جائے جسے قبول کرنے کی ہمت کسی کے بھی دل میں نہ ہو.. 
گزشتہ تین دنوں میں مستحقین پر صدقات و خیرات کی کثرت کر دی گئی تھی... دعائیں کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی صرف اس آخری اُمّید کے سہارے کہ ممبئی کے سیفی ہاسپٹل سے یعقوب سیٹھ کی صحت یابی کی اطمینان بخش کوئی خبر آجائے... 
مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا.. یعقوب سیٹھ کی اچانک ناسازیٔ طبعیت کے غم میں ڈوبا ہوا یہ خانوادہ ابھی دعا اور اُمّید کے درمیان معلق ہی تھا کہ شبِ جمعہ تقریباً دو سے ڈھائی بجے کے درمیان دل کو جھنجھوڑ دینے والی خبر آئی کہ اللہ غفور و رحیم نے یعقوب سیٹھ کو اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا.... انا للہ وانا الیہ را جعون...

زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بَس میں موت
آدمی مجبور ہے اور کس قَدَر مجبور ہے

06 فروری 2026 بروز جمعہ نمازِ جمعہ بعد جب نئے گھر سے مرحوم یعقوب سیٹھ کے آخری دیدار کے لیے لوگ قطار در قطار کھڑے ہوئے اور پھر اُن کے آخری سفر میں قبرستان تک کاندھا دینے کا وقت آیا تو خواجہ سیٹھ کمپاؤنڈ سے ورلی روڈ تک ہزاروں لوگوں کا ہجوم موجود تھا.. ہر سمت ایک گہری خاموشی طاری تھی مگر اس خاموش فضاء میں اُن کی پیاری اولادوں کی ، بھائیوں اور قریبی رشتے داروں کی بےآواز سسکیاں یقیناً شامل تھیں جنہیں ہر حساس دل نے محسوس ہی کیا ہوگا.. 
نمازِ جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت کی وجہ سے امین عشرت ہال بھی ناکافی ثابت ہوا.. میّت میں موجود تقریباً ہر چہرہ حیرت زدہ تھا اور ہر دل اس اچانک جدائی کے صدمے سے سکتے کی کیفیت میں ڈوبا ہوا تھا.. انتقال سے دو تین دن پہلے تک وہ بالکل صحت مند تھے.. نمازوں کے لئے رمضانی مسجد جانا ، کاروبار کی نگرانی میں وقت دینا ، دوست و احباب کے ساتھ عصر یا عشاء کی نمازوں کے بعد مل بیٹھنا، اکثر و بیشتر اپنے دسترخوان کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے لئے کشادہ رکھنا، اور گھر کے سبھی بچوں کو تفریحاً ذاتی فارم ہاوس پر لے جانا یا شہر میں ہی بچوں کو کچھ من چاہا دلا دینا ...روزمرہ کے یہ تمام معمولات وہ ہمیشہ کی طرح خوش اسلوبی سے نبھا رہے تھے.. 
انتقال سے دو دن پہلے معمول کے مطابق نئی تعمیر ہورہی جامع مسجد دیانہ کی در و دیواروں کی مضبوطی کے لئے پانی دے کر گھر پہنچے اور پیٹ میں شدید درد کی شکایت پر انہیں فاران ہاسپٹل میں داخل کیا گیا.. ڈاکٹر اویس فارانی صاحب نے بروقت مخلصانہ مشورہ دیا کہ اللہ سے اچھی اُمّید رکھتے ہوئے اُنہیں ممبئی لے جانا ہی بہتر ہے... بیٹے طفیل احمد اور شعیب احمد اپنے دوست ڈاکٹر مبشر ڈاکٹر ریاض احمد، داماد انیس احمد اور بھتیجے محمد رضوان کے ساتھ آپ کے بھائی محمد شریف اور گھر والوں سے مشورہ کرکے علاج کی غرض سے آناً فاناً ممبئی پہنچ گئے… مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا... 
بہرحال تدفین میں شریک ہزاروں افراد کے سوگوار چہروں کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ کوئی رسمی شرکت بالکل بھی نہیں تھی.. یہ اُس عزت، اُس محبت اور اُن احسانات کا اظہار تھا جو یعقوب سیٹھ نے عمر بھر لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا تھا...
یعقوب سیٹھ سے ہر خاص و عام کی یہ بےلوث محبت یونہی پیدا نہیں ہو گئی تھی.. دنیا جانتی ہے کہ اللہ پاک نے اُنہیں مال و دولت سے خوب نوازا تھا مگر وہ دولت میں جتنے امیر تھے اُس سے کہیں بڑھ کر وہ دل کے رئیس تھے.. سخاوت اُن کے مزاج کا حصہ تھی اور بلا تفریق پریشان حال لوگوں کے دکھ درد بانٹنا اُن کی فطرت تھی.. 
  کمال پورہ ہو یا مولانا کمپاؤنڈ، خواجہ سیٹھ کمپاؤنڈ ہو یا جاوید شبراتی چوک کا علاقہ، بالے سیٹھ کمپاؤنڈ کے قریب کا علاقہ ہو جہاں اُن کی حنیف سائزنگ ورکس، امر ٹیکسٹائل اور دیگر کارخانے قائم تھے ان تمام جگہ کے لوگوں کے مسائل حل کرنا، مجبور و مقروض لوگوں کا قرض ادا کر دینا، کسی کے ڈوبتے ہوئے کاروبار کو سہارا دے دینا، یا رشتے داروں کے حقوق کو نہایت احسن طریقے سے ادا کرنا یہ سب اُن کی زندگی کے معمولات میں شامل تھا.. 
مشاہدہ تو یہی ہیکہ یعقوب سیٹھ جیسے دل کے غنی اور درد مند انسان شہر میں خال خال ہی نظر آتے ہیں.. جو شخص لوگوں کے لیے درد کا درماں بن جائے بھلا لوگ اُس سے بےلوث محبت کیوں نہیں کریں گے؟ یہی وہ طاقتور مومن ہوتا ہے جو اللہ کو بے حد عزیز ہوتا ہے.. جس کے ذریعے ہمیشہ خیر ہی خیر تقسیم ہوتی رہی ہو... 
اور سچ تو یہ ہے کہ ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن کی یہ بشارت ہے.. 
“یاد رکھو! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے.. یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے.. ”
(سورۂ یونس)
میری یہ تحریر محض ایک شخص کی جدائی کا اظہار نہیں ہے بلکہ ایک ایسے گذرتے ہوئے دَور کی گواہی ہے جس میں انسان انسان کے کام آتا تھا.. اور یعقوب سیٹھ بلا شبہ اخلاقی زوال کی طرف بڑھتے اس مِٹنے دَور کی جیتی جاگتی مثال تھے...
ہمارا مشاہدہ رہا ہیکہ شہرِ عزیز میں بڑے اور خوش حال خاندانوں میں جھگڑے اور فساد اُس وقت پیدا ہونے لگتے ہیں جب گھر کا سربراہ انصاف کرنا اور حق بات کہنا چھوڑ دیتا ہے.. آپسی کھینچا تانی اُس وقت شروع ہونے لگتی ہے جب گھر کا سربراہ جانب دار ہونے لگتا ہے.. مگر نہ صرف میں نے بچپن سے اپنے یعقوب خالو کی انصاف پسندی اور حق بیانی کو قریب سے دیکھا ہے بلکہ یعقوب سیٹھ کے رشتے داروں، پڑوسیوں، اور اُن کے کاروبار و گھر میں کام کرنے والوں کا بھی یہی تجربہ رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ انصاف اور صداقت کو اپنا شعار بنایا تھا... 
گھر والوں کے لیے اگر کوئی مہنگی یا اچھی چیز لاتے تو اپنے یہاں کام کرنے والوں کے لیے بھی وہی چیز پسند کرتے تھے.. اسی انصاف پسندی اور حق بیانی کا نتیجہ تھا کہ اُن کے گھر میں کبھی نااتفاقی کی بےبرکتی داخل نہ ہو سکی... محبت بھرے سائبان میں آخر وقت تک آپکی فیملی اور چھوٹے بھائی محمد شریف کی فیملی مل جل کر رہے...آپکی شریک حیات یعنی میری خالہ اور محمد شریف کی شریکِ حیات چونا بھٹی کے خورشید ماسٹر کی بیٹی یعنی میری خالہ کی دیورانی برسوں سے بہنوں کی طرح مل جل کر رہتے ہیں.. بڑے بھائی محمد یوسف، چچا لالہ بھیا کرانہ والے، دوسرے چچا مجید احمد، چچا زاد بھائی محمد عبداللہ ببّو بھائی، محمد اسحاق رمضانی ٹیلر الغرض پورا خانوادہ آج تک نہ صرف مل جل کر رہتا ہے بلکہ ہر معاملے میں یعقوب سیٹھ کی سربراہی کو دل سے قبول کرتا رہا.... 
   مال و دولت سے بڑھ کر اعلی کردار، انصاف پسندی اور درد مندی کی یہی وہ وراثت ہے جو یعقوب سیٹھ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں......
محترم قارئین.. آپ کو بتاتا چلوں کہ محمد یعقوب محمد حنیف کا آبائی گھر مولانا ورکشاپ اور لالہ بھیا کرانہ والے کے بالکل سامنے سڑک سے لگا ہوا تھا... اسی کے بالمقابل مولانا کمپاؤنڈ واقع ہے...اُس وقت کے مولانا کمپاؤنڈ کو ہم ایک ایسا چھوٹا سا "محلّہ" بھی کہہ سکتے ہیں جہاں کے چاروں بزرگوں کے خاندان کے ہر گھر دین اور اخلاص کی خوشبو سے آباد تھے.... 
آج سے پانچ چھ دہائیاں پہلے ہمارے شہر کے تقریباً ہر گھر اور ہر خاندان میں جو دینی ماحول رہا کرتا تھا دین کی نسبت سے جو رشتے اور دوستیاں استوار رہا کرتی تھیں وہ محض رسمی تعلقات نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ محبت و اخلاص سے گندھی ایسی مضبوط بنیادیں ہوتی تھیں کہ زمانے کے بگڑتے ہوئے حالات بھی انہیں کبھی کھوکھلا نہیں کر پاتے تھے. .. 
اسی دینی ماحول کے ایک اہم ساتھی محمد حنیف صاحب تھے ..۔ رمضانی مسجد سے وابستہ تبلیغی جماعت کے حلقے میں مولانا محمد اسحاق، عمر رمضان، محرم علی، مصطفیٰ سیٹھ بیڑی والے، محمد صالح لالہ مقادم، محمد اسماعیل پان والے اور دیگر اہلِ خیر اُن کے رفقا میں شمار ہوتے تھے.. یہ محض رمضانی مسجد کے ساتھی نہ تھے بلکہ پنچایتی معاملات کے شریک اور خیر کے کاموں میں ہم قدم دوست تھے.. گھر خاندان کا کوئی بھی نزاعی معاملہ ہو محمد حنیف صاحب کی بے باکی اور حق گوئی مثال سمجھی جاتی تھی.. 
چنانچہ انہی دینی بنیادوں اور باہمی اعتماد کی وجہ سے محمد حنیف کے بیٹے، محمد یعقوب کا نکاح مولانا محمد اسحاق کی پوتی یعنی حاجی محمد صالح کی صاحبزادی سے طے پایا.. اُن دنوں شہر کے زیادہ تر گھرانے دولت یا نام و نمود سے پہلے دین داری اور خاندان کی ساکھ کو اولیّت دیتے تھے اور یوں رشتے صرف دو افراد کے نہیں بلکہ دو دینی مزاجوں کے درمیان قائم ہوجایا کرتے تھے.. 
یہی اوصاف گویا وراثت کی صورت یعقوب سیٹھ کی شخصیت میں منتقل ہوئے تھے.. سچ ہی تو ہے، پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ جاتے ہیں۔
میرے ماما اسرائیل صالح اپنے بہنوئی یعقوب سیٹھ کے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہم لوگ رمضانی مسجد میں شبینہ مدرسہ پڑھا کرتے تھے۔ اُس زمانے میں دکانوں اور مکانوں میں عموماً پیلے بلب کی مدھم روشنی ہوا کرتی تھی، ٹیوب لائٹ کہیں کہیں دکھائی دیتی تھی.. ایک رات مدرسے میں اچانک بجلی چلی گئی اور اندھیرا پھیل گیا۔ بچے اپنا اپنا سبق پڑھتے ہوئے رک گئے تھے.. 
یعقوب بھیاجن کی عمر اُس وقت بمشکل دس گیارہ برس رہی ہوگی اُس وقت اُن کے مالی حالات زیادہ مستحکم نہیں تھے مگر وہ فوراً دوڑ کر قریبی کرانہ دکان پر گئے اپنی جیب سے پیسے نکالے اور چار پانچ موم بتیاں خرید لائے.. 
چند لمحوں میں اُن موم بتیوں کی مدھم سی روشنی مسجد میں پھیل گئی، اور مدرسے کے در و دیوار پھر سے کلامِ پاک کی تلاوت سے گونج اٹھے.. میرے ماما کہتے ہیں کہ “ یعقوب بھیا تو تب خود بچے ہی تھے ناں اگر وہ موم بتیاں نہیں بھی لاتے تو بھلا کون اُن سے باز پرس کرتا؟”
 دیکھا جائے تو یہی تو اُن کی اصل بڑائی تھی.. عمر میں بچے مگر احساسِ ذمہ داری میں کئی بڑوں سے بھی بڑے تھے .. اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا اُن کی فطرت میں بچپن ہی سے شامل تھا۔ شاید اسی خیرخواہی اور عجز و انکساری سے مزین زندگی نے آگے چل کر اُنہیں کاروبار کی دنیا میں بھی ممتاز کیا.. 
گھر کے چار پانچ لوم پر سخت محنت کرتے ہوئے، نظم و ضبط اور معاملہ فہمی کو اپنا شعار بناتے ہوئے انہوں نے ہزار کھولی شبراتی چوک سے آگے اپنا پہلا کارخانہ قائم کیا۔ یہ محض کاروبار کا آغاز نہ تھا بلکہ ایک ایسے مزاج کا عملی اظہار تھا جو بچپن ہی سے اندھیروں میں چراغ جلانا جانتا تھا.... 

یوں تو یعقوب سیٹھ مسجدوں مدرسوں میں دل کھول کر خرچ کیا ہی کرتے تھے..مگر اُن کے انتقال کو جب ہفتہ بھر گذرا تو گھر والوں کو ایک اور حقیقت پتہ چلی کہ آس پاس کے کئی دیہاتوں میں مدرسوں میں زیرِ تعلیم کئی بچوں کی فیس بناء کسی نام و نمود کے وہ عرصے سے باقاعدگی سے ادا کرتے رہے تھے... 
یہ وہ نیکی تھی جو زندگی میں بھی پردے میں رہی، اور وفات کے بعد بھی ثوابِ جاریہ بن کر اُن کی خاموش خدمت کی گواہی دیتی ہے..
  کاروباری ترقی کوئی راتوں رات ہونے والا کرشمہ تو نہیں ہوتی ہے ناں ... یہ ایک مسلسل، صبر آزما اور بتدریج طے ہونے والا سفر ہوتا ہے.. یعقوب سیٹھ کی کاروباری پیش رفت ہو یا اُنکی سادگی بھری زندگی ہو یا اُن کے دھیمے لب و لہجے، سنجیدہ گفتگو اور بردبار طرزِ عمل میں جھلکتا ہوا اطمینانِ قلب ہو یہ سب وہ قیمتی اثاثے ہیں جو ہر کسی کے حصّے میں نہیں آتے.. یہ نعمتیں عموماً اُنہی کو نصیب ہوتی ہیں جنہیں زندگی کے ہر موڑ پر شریکِ حیات کا سمجھداری اور اخلاص سے بھرا ساتھ میسر ہوتا ہے.. 
ڈی۔ایڈ فرسٹ ایئر مکمل کرنے کے بعد سن 1983 میں میری خالہ آپ کی منکوحہ بنیں.. تب سے لے کر آج تک انہوں نے نہ صرف اپنے شوہر کا ہر مرحلے پر بھرپور ساتھ دیا بلکہ گھر اور خاندان کے معاملات میں بھی خالو ہی کی طرح انصاف پسندی اور اعتدال کو اپنا شعار بنائے رکھا۔.. خوش قسمتی یہ رہی کہ اُنہیں دیورانی بھی انہی اوصاف سے متصف ملیں... چنانچہ دونوں کاروباری بھائیوں کو کبھی گھر کے معاملات میں الجھ کر اپنی توجہ بٹانے کی نوبت نہیں آئی.. ظاہر سی بات ہیکہ جب گھر کا سکون محفوظ رہا تو کاروبار نے خود بخود وسعت اختیار کر لی.. 
کاروباری شخص محض حساب کتاب کا ماہر نہیں ہوتا وہ عملی طور پر غیر معمولی ذہانت اور دور اندیشی کا حامل ہوتا ہے.. بڑا بیٹا طفیل احمد جب بی۔سی۔ایس مکمل کر چکا تو خالو نے بر وقت یہ فیصلہ کیا کہ اب طفیل اپنے والد اور اپنے شریف چاچا کے ساتھ شانہ بشانہ لگ کر کاروبار کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے گا.. دوسرے بیٹے سہیل احمد نے بی۔کام کیا، تیسرے بیٹے شعیب احمد ایل۔ایل۔ایم میں زیرِ تعلیم ہیں، اور چوتھا سب سے چھوٹا بیٹا فضیل احمد بی۔یو۔ایم۔ایس کر رہا ہے... سبھی بیٹے کاروبار میں اپنی اپنی ذمے داریاں بھی بخوبی نبھا رہے ہیں... ایک بیٹی نے بارہویں جماعت پاس کیا ہے تو دوسری بیٹی نے بی۔ایس۔سی مکمل کیا ہے.. یوں تعلیم، تربیت اور ذمہ داری کا ایک متوازن سلسلہ پورے گھر میں ہمیشہ قائم رہا بھتیجے طلحہ اور سالک بھی تعلیم یافتہ ہیں.. دونوں بھتیجے اپنے بڑے ابّو سے بے حد لگاو رکھتے ہیں.. 
میرے ننھیالی خاندان میں ابھی تک ہم ماما سلیم صالح کی جدائی کا زخم پوری طرح سے بھلا بھی نہیں پائے تھے کہ یوں اچانک یعقوب سیٹھ کی جدائی نے دل کو ماننے سے انکار پر مجبور کر دیا....
 
اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے



مگر شکر ہے اُس ربِ کریم کا کہ اسلامی تعلیمات آپ کے اہلِ خانہ کے مزاج میں رچی بسی ہیں.. ان شا اللہ دیر سویر صبر آہی جائیگا.. رمضان المبارک کا ایک عشرہ بھی گذر چکا ہے.. عید اور بقرعید کے تہوار بھی آئیں گے سحروافطار کا وقت ہو یا تلاوت و ذکر اذکار کا یا پھر ننھّے منّے بچوں کے ساتھ بازار سے پھل وغیرہ خریدنے کی بات ہو غرض کہ ہر موقعے پر اُن کے جملے اُنکی باتیں اور اُنکی عادتیں بلا شبہ یاد آتی رہیں گی جو بالکل فطری بات ہے.. لیکن بیوی، بیٹے بیٹیاں بہوئیں بھائی بھتیجے وغیرہ سب بخوبی جانتے ہیں کہ اب یعقوب سیٹھ سے محبت اور احترام کا اصل اظہار آنسوؤں میں نہیں بلکہ ثوابِ جاریہ کے کاموں میں ہے اور وراثت میں ملی ہوئی اُن کی خوبیوں کو زندہ رکھنے میں ہے.. 
یہ اظہار اس بات میں ہے کہ موقع بہ موقع اُن کے دوستوں عبدالصمد، محمد صابر، عبدالعزیز مولانا محمد اسحاق ، نہال مشتاق، مفتی نعیم صاحبان اور دیگر احباب کی خیر خیریت دریافت کی جاتی رہے .. لوگوں کے کام آیا جائے اور اُن اصولوں کو نبھایا جائے جن پر یعقوب سیٹھ نے اپنی پوری زندگی استوار کی تھی.. 
مجھے پورا یقین ہے کہ اُن کے چاروں بے حد فرمانبردار بیٹے تاحیات اپنی امّاں کا ایسا مثالی خیال رکھیں گے کہ انہیں کبھی تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیں گے ان شا اللہ.. یہی اُن کے والد کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا اور یہی اُن کے لیے سب سے بڑا صدقۂ جاریہ بھی بنے گا.. 
اللہ پاک یعقوب سیٹھ کی مغفرت فرمائے اُن کے سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے اُن کے درجات بلند فرمائے اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے..آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ