صرف ایک ہی کتاب کی اتباع کرو یعنی قرآن۔ ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی، مہاراشٹرا۔


صرف ایک ہی کتاب کی اتباع کرو یعنی قرآن۔ 
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی، مہاراشٹرا۔

سورۃ الاعراف۔ اعراب یہ لفظ جمع ہے یعنی عرافہ کی جس کا مفہوم ہوتا ہے بلند چیز بلند مقام جس کی وجہ سے وہ پہچان آجائے یعنی وہ بلندی جو ایک پہچان بن جائے اسی سے عارف، معروف، متعرف، تعرف یہ سب چیزیں یعنی وہ بلندی ہیں جو نشان ایک پہچان کے طور پر بن جائے۔

كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ‎﴿٢﴾‏
 
یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، پس اے محمدؐ، تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو یاد دہانی ہو اور نصیحت ہو۔

 اس کتاب کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جا رہا، کہ آپ کے سینے میں آپ کے دل میں کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف کا احساس نہیں ہوگا یہ ایک ایسی بات ہے جس کو ہم حال اور مستقبل اور ماضی تینوں کے دائرے میں رکھتے ہوئے اس آیت کے حصے کو سمجھ سکتے ہیں ایک تو یہ ہے کہ آپ کو تنگی نہیں محسوس ہونی چاہیے یہ اس کا ایک مفہوم ہے دوسرا یہ ہے کہ اس کے جو نتائج ہیں اس پران کے نزول کے نتائج یہ ہیں کہ اس کے اوپر سلیقے سے اچھی طرح سے کوئی بھی شخص عمل کرتا ہے ظاہری طور پہ وہ چیزیں دشوار ہو سکتی ہیں کئی مرتبہ حالات ایسے آتے ہیں، کہ لگتا ہے کہ ہم یہ راہ اختیار کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا حالانکہ ان کے مطابق چلیں تو ڈائریکشن اس میں بدلنے پڑتی ہے تو ایسے صورتوں میں یہ ہے کہ جب ہم اس کے مطابق چلتے ہیں نتیجہ ہمارے لئےاطمینان کا سبب ہوتا ہے۔
 یہ بھی ہم لوگوں کی زندگی کا ایک عجیب سلسلہ ہے کئی مرتبہ ہم بہت ساری چیزیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں پھر ان کو حاصل کر لینے کے بعد پھر ایک بیچینی انسان کے اندر شروع ہوتی ہے پھر وہ نئی منزل کی تلاش میں چل پڑتا ہے تو یہ کشمکش کی صورت انسان کے ذہن میں پیدا ہوتی رہتی ہے اسی چیز کی وضاحت یہاں کی گئی ہے کہ اس نازل شدہ کتاب پر اس کے احکام پر عمل کیا جائے گا تو انسان کی زندگی میں پریشانیاں بلکل بھی نہیں ہوں گی دل و دماغ بلکل مطمئن اور بلکل پرسکون اور اطمینان بخش رہںگے ۔ زندگی کی دوڑ میں ہماری ترقی کے لئے جو بھی ہم ہو سکتا ہے، انتخاب کرتے ہیں۔ تاکہ وہ تمام چیزیں جو انسان کو مطلوب ہیں میسرآجائیں گی دوسرا مقصد یہاں یہ بھی بیان کر دیا گیا ہے اس کے فوائد کیا ہیں۔ یہ بنیادی مقصد ہے ۔ اس قرآن کے ذریعے لوگوں کو سمجھاؤ ۔
قرآن کے آیات کے ذریعے سے لوگوں کو آگاہ کریں یہاں پہ انذار کا لفظ ہے ۔ انذار کا مطلب ہے کسی کو قبل از وقت اس بات کا احساس دلایا جائے کہ جو بات صحیح یا غلط جو بھی ہم کرنے جارہے ہیں ان پر عمل کرنےسے جو بھی ان کے نتائج آنے والے ہیں۔ اس کے نتائج سے آگاہ کرنا جیسے جب بچوں کو ہم یہ کہتے ہیں بیٹا تم محنت سے پڑھو گے نہیں تو امتحان کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے محنت سے جی لگا کے کام نہیں کرو گے تو نتیجا اچھا نہیں ہوگا تو یہ اسی طرح کی انذار وارننگ کی بات ہے کہ یہ ایک اصول کی ذمہ داری ہے، کہا گیا ہے، کہ اس کتاب کویعنی قرآن پڑھیں گے اس پر عمل کریں گے اپنا اطمینان قلب حاصل کریں گے اور مزید دوسروں کو اس کے بارے میں آگاہ بھی کرتے رہیں گے اور اسکے فوائد بتاتے بھی رہیں گے اسی آیت کا ایک اور بھی آخری حصہ ہے۔
 " وَذِكْرَ لِلْمُؤْمِنِينَ" 
 یہ نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے یہاں پرلفظ ذکرہ اس کے ایک مفہوم یاد دیانی کے لئے بھی آتا ہے کہ کئی مرتبہ ایسے حالات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اپنے کوائف ہماری جو کنڈیشنز، کیفیت ہوتی ہے، بہت سارے ایسے مسائل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہم نسیان کا شکار ہو جاتے ہیں بھول جاتے ہیں پسے پشت ڈال دیتے ہیں۔ جو ایک بات چلی آتی ہے تو بار بار اس میں نئی نئی چیزیں آتی رہتی ہیں۔
 ہمارے لئے ایک پہلو اس حصے کا یہ ہے دوسرا یہ ہے کہ جو پہلے سے اللہ تعالیٰ نے مختلف کتابیں مختلف اقوام پر اتاری تھیں ان اقوام نے اگر ان کو بھلا دیا ہے تو اثرنو میں ایک یاد دیہانی آ چکی ہے قرآن مجید ، اب اس یاد دیہانی کے مطابق ہمیں صحیح راستے پر چل پڑنا چاہیے اور پھر اسی راستے پر چلیں گے تو یقیناََ ، ہم اطمینان قلب مکمل حاصل کرتے چلے جائیں گے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرمائی ہے کہ یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی اتاری گئی ، تو یہاں دونوں رخ ہیں کہ اس کو سمجھنے اور اس کے عمل کرنے میں اس کے مطابق عمل کرنے میں کسی تنگی یا گھٹن کا احساس ہوگا تو یہاں یہ بھی ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اگر اللہ کے احکامات کو سمجھنے یا اس کے عمل کرنے میں کہیں ہم بار محسوس کر رہے ہیں یہ تنگی اور گھٹن ہے تو پھر یہ ہماری اپنی ہی خرابی یا کمی ہے، دل بس میں نہیں ہے ہم محبت سے، قرآن سے ربط یعنی تعلق نہیں جوڑ رہے ہیں ، ورنہ یہ احکامات اللہ کے ایسے ہیں کہ جس کو اگربنا رکاوٹ کہتے ہیں کہ اس میں کسی طرح کی گھٹن اور تنگی نہیں ہے بہ شرط کہ ان کو اس انداز سے جوڑا جائے تو اس میں کبھی بھی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے اور اگرہوتی ہے تو یہ ہماری اپنی کمی ہے کہ شاید ہم نے ابھی انہیں پورے طور سےاپنایا نہیں اپنے سینے کو اپنے دل و دماغ کو اتنا کھولا ہی نہیں ہے کہ اس کتاب کو سمجھ سکیں۔ مشکل یہ ہے کہ ہم قرآن پڑھتے ضرور ہیں مگر صرف ثواب کے خاطر اور اس طرح نہیں دیکھتے کہ اس میں زندگی جینے کے قوانین ہیں، جس کو اپنانے پر ہماری راہیں ہموار ہو جائیں گی ۔ 
 دوسری چیز جو بہت اہم ہے ہمارے سمجھنے کے لئے کہ جو یہ کہا گیا ہے کہ اس کے ذریعے پیشگی آگاہی کا کام کریں جیسا کہ انذار کے معنی ہوتے ہیں کہ کسی چیز کے کسی بات کے کسی عمل کے جو نقصانات ہیں ان کو قبل از وقت آگاہ کر دیا جائے یعنی وارننگ دے دی جائے کہ دیکھو اگر ایسا کروگے تو اس کا یہ نتیجہ ہوگا اور جو بھی پیغام اللہ کے آئے ہیں ان کو اس رخ سے اگر ہم دیکھیں یا جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر واضح کیے ہیں ۔ اگر ہم اس کو اپنی زندگی میں لے کے آتے ہیں تو ہماری راہیں ہموار ہوں جائینگی۔ اس اندازکو لانے والے کی ، دو صفات بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ وہ نظیر یعنی وارننگ دینے والے ہوتے ہیں اور بشارت دینے والے ہوتے ہیں بشیر ہوتے ہیں اچھے کام جو قرآن ہمیں بتاتا ہے یا جو بھی آسمانی کتاب ہو۔
 ہم اس وقت قرآن کی بات کریں تو ان اچھے نتائج ان اچھے اعمال سے جو اللہ کی بتائے ہوئے احکامات ہیں ان پر عمل کر کے جو اچھے نتائج ہیں وہ خوش خبری بھی بتائی جاتی ہیں۔ اور جن کاموں سے قرآن ہمیں روکتا ہے ان پر چلنے سے اور ان پر عمل کرنے سے ان کے خلاف عمل کرنے کی تنبیہ بھی دی جارہی ہے وارننگ بھی دی جاتی ہے تو یہ دو ہی راستے ہوتے ہیں بنیادی طور سے کتاب ھدایت میں کہ یہ کروگے تو یہ خوش خبری ہے اور ایسا نہیں کروگے تو یہ نقصان آتے ہیں اس میں جو آخری حصّہ ہے یہ بہت اہم ہے یعنی یہ کام جو ہے، گر تم کرو گے تو کس طرح سے غلط نتائج نکل سکتے ہیں۔
ان سب سے بچنے کے لیے ، صرف ایک کتاب ھدایت کو فالو کرو، تاکہ مختلف لوگوں کے تعین کردہ راستوں میں بھٹک نہ جاؤ۔
اس کے لیے اسی ایک کتاب کو جو دی گئی ہے یہی ایک واحد کتاب ہے جو حضور صلی اللہ علیہ کو دی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو دیی، تمام تنبیہات کو اسی کتاب سے جوڑ دیا گیا ہے۔

اس بات کی اہمیت اس لیے بتائی جارہی ہےکہ، اکثرہم نے اپنی زندگی میں بہت سے ایسے درس اور واعظ سنے ہیں جس میں قرآن کریم کی آیات اور ان کی تعلیمات سے اتنی وارننگ یا خوشخبری نہیں دی جاتی ہیں جتنی دیگر کتب جو انسانوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں، جن کو آپ کتابوں کی دکان میں نے خود دیکھا ہے کتب خانوں میں اور بازاروں میں جن کے بہت دلچسپ نام ہوتے ہیں کہ جنت کی کنجی، دوزخ کا کھٹکہ۔
اس طرح کی چیزیں جو ہیں یہ اس آیت کے روح سے انکار ہے، اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ یہ کہہ رہا ہے کہ آپ کو جو کوئی وارننگ دینی ہے جو آگاہی دینی ہے جو چیز سمجھانی ہے جن چیزوں سے روکنا ہے، وہ اسی کتاب سے دی جائے گی چونکہ اس طرح کی توجہ کم ہوتی ہے اس لیے میں نے اس چیز کو خاص تاکید کی گئی ہے ، اور یہ غور طلب بات ہے یعنی ساری بات کیا ہے کہ قرآن کا مرکزی پیغام کیا ہے۔
 یہ کتاب جس کوہم کتاب ھدایت کہتے ہیں اس کو استعمال بھی کتاب ھدایت کے طور سے کرنا ہے تو اس کی ھدایت کے جو خوشخبری والے پہلوہیں وہ بھی قرآن سے آئیں گے اور اس کتاب پہ عمل نہ کرنے کے جو نقصانات ہیں یا من مانی زندگی یا اپنے خواہشات کی زندگی گزارنے کے جو نقصانات ہیں وہ بھی ہم اسی سے جوڑ کے بتائیں گے
 اور آخری بات جو کہی گئی ہے کہ ایمان لاچکے افراد کے لئے یہ نصیحت ہے۔ ذکرا للمومنین ، جو لوگ ایمان لاچکے ہیں یعنی وہ اللہ پر اس کے کتابوں پر، انبیاء پر ملائکہ ، پر آخرت پر ایمان لا چکے ہیں یعنی اس پرعقیدہ کیا ہے بھروسہ کیا ہے دل میں یقین کیا ہے اس پرایمان لانے کے بعد اگلا قدم ، عمل ہے۔ جواس کتاب سے جاننا ان نصیحتوں سے جاننا تو یہ ان کے لیے ایک نصیحت بھی ہے ایک یاد دہانی بھی ہے نصیحت اور یاد دہانی کے بیچ میں بھی بڑا دلچسپ رشتہ ہے کہ وہ نصیحت گم ہو جاتی ہے ذہن سے نکل جاتی ہے لوگ بھول جاتے ہیں اگر اس کی بار بار یاد دہانی نہ ہوتی رہے توہم بھول میں گم ہوجائیں گی ، دونوں چیزیں ان لوگ کے لیے جو مومنین ہیں جو ایمان لائےہیں اللہ کے اوپر اس کے کتابوں پر اور تمام دیگر چیزوں پہ ایمان لائے ہیں ۔ 
اگلی آیت کہتی ہے۔اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ‎﴿٣﴾‏ 
آپ کے رب کی طرف سے جو آپ پر اتارا گیا اس کی پیروی کریں اس کے مطابق زندگی گزاریں اور آپ اس اللہ کے سوا دوسرے بندوں، اولیاء کی اتبع نہ کریں۔ آگے اللہ فرماتا ہے کہ " تم لوگ بہت کم نصیحت لیتے ہو"۔
 پچھلی آیت میں یہ بات کہی گئی ہے کہ کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے دل کے اوپر اسطرح دل بہت مطمئن ہوگا اور دل بہت مطمئن ہونا چاہیے مزید یہ ہے کہ اسی کے ذریعے سے لوگوں کو بتانا بھی چاہیے اب پھر دوبارہ سے بات کہی جاری اسی کے مطابق زندگی بھی گزارنی ہے۔

 اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ جو بھی تمہارے اوپر تمہارے رب کے طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کے مطابق زندگی گزارو اور اپنے رب کو چھوڑ کر مزید کسی ولی کی تلاش میں مت پھرو لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم محبت میں اتنا غلو کر جاتے ہیں کہ ہم سمجھتے نہیں ہیں اور ہماری تکالیف ہماری جو بیماری ہے مرض ہے اس کے طرف اس سے واقفیت کے بنیاد ہم 
آنکھ بند کرکے ان کی پیروی کرتے ہیں ۔
آگے فرمایا گیا ہے ، قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ، تم سمجھتے بہت کم ہو نصیحت بہت کم لیتے ہو تو یہ بار بار قرآن مجید میں ایک یاد دہانی ذکر کرنے والوں کے لئے فائدے مند ہے۔ قرآن کی آیات کی یاد دیہانی کرواتے رہو یاد دیہانی انسان کو ایمان والوں کو کام آتی ہے تو قرآن مجید کا یہ اپنا بھی مزاج ہے یہ ایک بات کو مختلف پیرائے میں خاص طور پر توحید کی اور اس بات کی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، بار بار یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے لیکن ہماری بھی ایک عجیب جبلت کہہ سکتے ہیں مزاج کہہ سکتے ہیں کئی مرتبہ اللہ کے مخصوص بندوں کی محبت میں ہم اس قدرمگن ہوجاتے ہیں، ہم اپنی سمجھ بوجھ کھو دیتے ہیں کہ ان ہستیوں کو اس کے اندازمیں ہم دیکھنے لگتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں، گویا کہ ہم اسی سے اپنی تمام منتیں اور مرادیں پوری کروانے کی خواہش پران کےمرید بن جاتے ہیں، تو اس قسم کے تمام باتوں سے، چیزوں سے حرکات سے، ہمیں بہرحال ہرصورت میں بچنا چاہئے اور اللہ کی بھیجی ہوئی تمام آیات پر مکمل طریقہ سے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے دیکھیں پچھلی آیت میں جو یہ بات کہی گئی ہے کہ ذکرہ للمومنین تو یہ نصیحت ہے یاد دہانی ہے کیا جو کتاب اتاری گئی ہے واحد اکیلی آخری کتاب جو اتاری گئی ہے وہ مومنین کے لئے یاد دہانی ہے ایک نصیحت اب وہ مومن اگر ایمان لے آئے ہیں تو اگلا قدم کیا ہوا ایمان لانے کے بعد اب تم اتبع کرو تو فالو کرو جو تمہاری رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس لیے دیکھیں جہاں ایمان کا ذکرہے، ہم دیکھتے ہیں کہ زبان سے ہم الفاظ تو اداء کرتے ہیں مگر بے اثر اس لیے کہ دل سے جو بات نہیں ہوتی وہ بے اثر ہوتی ہے۔

 قرآن میں متعدد جگہوں پر، کہا گیا ہے، کے جس نے ایمان لایا اور عمل صالح کیا ان کے لئے جنت ہے۔ جہاں جہاں ایمان لانے کا ذکرہے اسی کہ ساتھ ساتھ عمل صالح جڑ کے آتا ہے، کیونکہ صرف ایمان بغیر عمل صالح کے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اگر اس کے ساتھ تقوی یعنی عمل صالح نہ جڑے ہوں، تو اسے ایمان لانا نہیں کہے گے، کیونکہ تقوی اللہ کے احکامات پر چلنے کا نام ہے اور جس چیز سے اللہ نے منع فرمایا ہے، اس سے رک جانا اورجن باتوں سے اللہ نے منع فرمایا ان کو ترک کرنا ، یہ اللہ کے احکامات ہیں جو ہر طرح کے فساد کو ختم کرتے ہیں تو جو لوگ ایمان لے آئے اب ایمان لانے کے بعد اگر انہوں نے اس کتاب کو اپنے عمل میں نہیں لائے اس کی اتبع نہیں کی تو وہ چیز وہی رک جاتی ہے تو یہاں یہ بہت اہم ہے۔ یہ حکم کا سیغہ ہے اس کو ہم ہلکے سے نہ دیکھیں قرآن کی کسی بات کو ہم ہلکے میں نہیں لے سکتے، لیکن میں مجبور ہوں اس بات کو کہنے کے لئے کہ ہم نے اس کوبہت ہلکے میں لے رکھا ہے اگر ہم نے ہلکے میں اس کو نہ لے رکھا ہوتا تو ہر جگہ ہر درواز و نصیت کی محفل میں ہر منبر سے ہر وقت ہمہ وقت ہر جمعے کے خطبے کا ایک حصہ ضرور اس چیز کا ہوتا ہے کہ جو اللہ نے نازل کیا گیا اس کی اتباع کرو اس کو فالو کرو۔

 اس کی اتباع ہم جب تک نہیں کر سکتے جب تک ہم ان احکامات کو سمجھ تے نہیں، اور اس پر غور فکرنہیں کریں گے جس کا حکم ہے کیونکہ بات صرف سمجھنے کے نہیں ہے تفکر و تدبر کی بھی ہے عقل استعمال کرنے اورغوراورخوص کی بھی ہے۔
 سب اللہ کی احکامات ہیں یہ بات اگرذہن نشین ہو جائے تو ہم ان احکامات کو نہ نظر انداز کرسکیں گے نہ اس پر عمل کرنے سے انکار کر سکیں گے نتیجہ کیا ہوگا یہ صرف رسومات کی پابندی نہیں ہو گی بلکہ یہ اللہ کی اطاعت کهلائی جانے گی، جس کتاب کی اتباع کرنے کا کہا گیا ہے وہ واحد کتاب اکیلی کتاب جو آخری کتاب اتاری گئی ہے ایمان لانے والوں کے لئے نصیحت ہے صدیوں سے بنا سمجھے پڑھ رہے ہیں بنا جانے سن رہے ہیں بنا اتبع کئے، صرف نماز پڑھنے کا ذریعہ بنائے ہوئےہیں۔  
رمضان کی مہینے میں تراویح کا اہتمام کرتے ہیں۔ لہک لہک کر راتوں میں جاگ جاگ کر ثواب بٹورنے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر حاصل جمع زیرو۔ اس کا کیا فائدہ، نا یہ دلوں کو راغب کرنے کا ذریعہ بنے گا اور ناہی اخلاق پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ یہ حال مسلمانوں کی اکثریت کا ہے ۔
مشرق وسطی میں کتنے ملک ہیں ان سب کی زبان عربی ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تو قرآن سمجھتی ہے، مگر میرا تجربہ ہے کہ وہ بھی صرف پڑھتے ہیں بنا غور کیے صرف رٹے رٹائے الفاظ دھراتے ہیں وہ قرآن کو اگر سمجھ کے نہیں پڑھ رہے اور جو سن رہے ہیں تو انہیں نہیں پتا ہم کیا سن رہے ہیں تو یہ تو اتباع والی باتی نہیں۔ 
یہاں میں قصہ بیان کرنا چاہوں گا ۔ سعودی عرب میں جس آفس میں کام کرتا تھا وہاں ٹیلیفون آپریٹر خالص سعودی تھا اس کے مادری زبان عربی تھی ۔ ایک دن کہنے لگا کہ شیطان اللہ کا بہت بڑا عبادت گزار فرشتہ تھا، میں نے کہا یہ غلط ہے۔ کیا تم سورۃ الکہف میں نہیں پڑھا۔ 
 وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ. یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا. 
 یہ کتاب ھدایت ہے نصیحت ہے جس پر ہم ایمان لاچکے ہو تو ہمیں یہ حکم ہے کہ اس کو سمجھیں اور اس کی اتباع کریں اور یہ بات دیکھیں اپنی جگہ میں یہ مکمل ہو جاتی ہے کہ جو تمہاری رب کی طرف سے نازل ہوا اس کو فالو کرو پریکٹس کرو اس کی اتباع کرو لیکن مزید وضاحت اگر دی جاتی ہے آگے تو اس کی ایک اہمیت ہوگی وہ کیا ہے کسی اور سرپرست کا کسی اورکسی چیز کی اتباع نہیں کرنی ہے دراصل صرف قرآن کی اتباع کرنا فرض ہے۔ 
اس کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ آج ہماری اکثریت ایسی ہے وہ اسی دوسری قسم کی اتباع میں نظر آتی ہے دل کے کہنے میں جب ہم چلتے ہیں من مانی زندگی گزار رہے ہیں خواہشات پر بلکہ مجھے اس فہرست کو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے پہلا ہی پوائنٹ سب سے اہم ہے کہ جب ہماری اکثریت قرآن کے احکامات سے واقف ہی نہیں ہے تو وہ ظاہرے کسی اورکو تو فالو کریں گے اور چونکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ نے بندگی کا عنصر رکھا ہے یہ ہمارے اندر بندگی کی صفت میں داخلی طور پر موجود ہے۔ اگرسر صحیح جگہ نہیں جھکا، توکہیں نہیں توکہیں جھکے گا تو وہ شخصیت میں دیکھا جاتا ہے جیسا کہ قرآن میں ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ‎والی بات کہی گئی ہے کہ جن لوگوں کو جن عقابرین کو ہم بہت اپنا سمجھتے ہیں کہ بہت دیندار ہیں یا ان کی کچھ انہوں نے کرامات دیکھ لی ہیں یا کچھ چیزیں پڑھنی ہیں سننی ہیں دل کو چھو گئی ہیں اچھا یہ کیفیت قرآن کے ساتھ بھی ہو سکتی تھی اگر اس کو سمجھ کے پڑھتے ہیں تو یہ بھی ایک دم دل کو چھو جاتا اس سے بھی ہم کنیکٹ ہوسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بچپن سے جیسے ہم اکثر اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ گھٹی میں پلا دیا گیا ہے بچپن سے گھٹی میں کیا پلایا گیا ہے کہ قرآن کو سمجھ کے نہیں پڑھنا یہ کتنی بڑی جسارت ہے یعنی یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ہم بچپن سے بچے کوکیا تربیت دی جارہی ہے۔ اسی چیز کو وہ گھر میں دیکھتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ قرآن کو سمجھ کے نہیں پڑھا جا رہا اس پر گفتگو نہیں ہو رہی نہ وہ عمل میں نظر آتا ہے یہ حقیقت ہے۔ جب کہ حکم دیا جا رہا ہے کہ قرآن کی اتباع کرو ۔
آیت کے آخری حصے میں کہا گیا ہے کہ تم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔
 قرآن دوسری جگہ یہ بتاتا ہے کہ زمین کی اکثریت بھٹکی ہوئی ہے اگر تم ان کے پیچھے چلو گے تو ظاہر ہے کہ تم بھی بھٹک کی جاوگے۔ اکثریت کیوں بھٹکی ہوئی ہے کیونکہ اکثریت جو ہے وہ شیطانی وسوسوں میں اور نفسانی خواہشات میں کیونکہ یہ جو شیاطین ہیں یہ دین دشمن نہیں نظرآتے ہے بظاہر یہ دین دوست نظرآتےہیں کیونکہ یہ ہمیں دین کے نام پر کچھ چیزیں سمجھا دیتے ہیں اور اس ہی میں مشغول رہتےہیں، اور ان چیزوں میں قرآن پر فہم تفکر تدبر سوچنا شامل ہی نہیں ہے بلکہ کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں قرآن سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہیے ہر کوئی نہیں پڑھ سکتا تم بھٹک جائو گے۔
 یہ ساری چیزیں ہمارے معاشرے میں ہیں لیکن اب سوال یہ سوچنے کا میری عقل کیا کہتی ہے میں ایسے کتاب ہدایت ما نتا ہوں کون ہوگا ایسا جو یہ کہے کتاب ہدایت نہیں ہے تو پھر اس ہدایت کو میں سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتا تو یہ سورہ الاعراف کی دونوں آیتیں ہیں جس میں ذکرہ للمومنین بھی کہا گیا یہ حکم ہے کہ اتباع کرنا ہے تو ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ کا حکم ہے اسی طرح جس طرح ان احکامات کا ذکر ہے جن کو ہم اپنی عبادت کے طور پہ کرتے ہیں صوم، صلات، زکاة، حج یہ سب احکامات ہیں یقیناً ہیں ان کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن اس حکم کے ساتھ ہم نے کیا کیا اس پر ہم غور نہیں کریں گے اور اس طرح اور بھی بہت سے احکامات ہیں قرآن کے جو ہمارے ہاں یعنی پریکٹس میں نہیں ہیں کیونکہ ان پر توجہ نہیں دی جائی تو یہ بڑی اہم چیز ہے جس کو ہم سمجھیں اور خاص طور سے اب یہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے جو نزولِ قرآن کا مہینہ ہے اس میں ہم اگر قرآن کے ساتھ حق آداء نہیں کرتے تو یہ زیادتی ہے۔ 
 اگر ہم یہ اہتمام کریں کہ مجھے پورے قرآن کو سمجھ کے پڑھنا ہے اس کے نوٹس بنا لینے ہیں اور ہر سورہ کو جب میں پڑھوں تو اس میں سے اپنی do's and don'ts یعنی کیا کرنے کا حکم اور کس چیز سے منع کیا کہ اس کو تیار کرلوں تاکہ اس کودوہراتا رہو اور اگلے پورے سال اس کے مطابق اپنی زندگی گزارتا رہوں۔ 
پروفیسر مختارفرید 
بھیونڈی 
مہاراشٹرا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ