ماہ ِ رمضان کی خریداری ، اور فراڈ کالس کی بہار۔
بیدر۔ 10مارچ (نامہ نگار ) سوشیل میڈیا پر ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی یوٹیوبر یا سوشیل میڈیا انفلوئنسر یہ بتاتاہے کہ فراڈ کالس سے بچیں۔ فلاں اور فلاں طریقے سے فراڈ کالس آرہے ہیں۔ کئی افراد نے اپنے ہزاروں لاکھوں روپئے کھوئے ہیں۔ سوشیل میڈیا کے ناظرین ہی سمجھتے رہے کہ یہ کوئی ہتھکنڈا ہوگا یوٹیوبر کا جو اپنے ویورس کو بڑھانا چاہتاہے۔ کوئی دوسری باتیں سوچی جاتی ہیں لیکن یہ فراڈکالس اب ماہِ رمضان کی خریداری کے حوالے سے بیدر شہر بھی مبینہ طورپر پہنچ چکی ہیں۔ کہاجارہاہے کہ یہ فراڈ کالس زنانہ کپڑوں کی خریداری سے متعلق آرہی ہیں۔ 15ہزار کاسوٹ دوتین ہزار میں مل رہاہوتو کس کا دل نہیں چاہے گاکہ اس سستے سوٹ کو فوری حاصل کرلیاجائے۔ پہلے رقم ڈالنے کے لئے کہاجارہاہے ، جب رقم اداکردی جاتی ہے تو پھر دوبارہ اتنی ہی رقم مانگی جارہی ہے۔ چوں کہ ایسے کپڑوں کی خریداری کرنے والی چھوٹی عمر کی لڑکیاں ہیں ، رقم کے ڈوب جانے ، فراڈ کے ہونے کی اطلاع اپنے گھروں میں یاپولیس کو نہیں دے رہی ہیں۔ کبھی یوں ہوتاہے کہ ایک لنک بھیج دی جاتی ہے اور کہاجاتاہے کہ 7ہزار کا سوٹ صرف 600روپئے میں دے رہے ہیں۔ اور پھر وہ رقم ہڑپ کرلی جاتی ہے۔ یہ باتیں سماجی کارکن اور نوجوان صنعت کار جناب عامر پاشاہ نے کہی ہیں۔ ان کے مطابق آنگن واڑی کے حوالے سے بھی صرف خواتین کے درمیان خبر ہے کہ ان کا ڈاٹا پوری طرح لیک ہورہاہے ۔ چوں کہ وہ آنگن واڑی میں اپنا آدھارکارڈ اور بینک اسٹیٹ منٹ دئے ہوئے ہوتی ہیں ، ایک کال آتی ہے ،کہاجاتاہے کہ ہم آنگن واڑی سے بول رہے ہیں۔ تمہیں اتنی رقم دی جانے والی ہے ، اس سے پہلے 5یا7ہزار کی رقم ہمارے اس کھاتے میں(اسکینر کے ذریعہ) ڈالیں۔ ادھر سے پوری تفصیلات بولی جاتی ہیں۔ شوہر کا فون نمبر ، یادوسر ں کاکوئی فون نمبر جس کی بناپرخواتین کو بھروسہ ہوجاتاہے اور وہ رقم ڈالنے پر آمادہ ہوجاتی ہیں۔ جیسے ہی رقم ڈالی جاتی ہے، پتہ چلتاہے کہ سب کچھ گل ہوگیاہے۔ جناب عامر پاشاہ نے بتایاکہ بیدر شہر میں تیسرا واقعہ انسٹاگرام کے حوالے سے ہونے کی شکایت معاشرتی سطح پر سننے کومل رہی ہے۔ کم عمر لڑکیاں چوں کہ اپنی کئی تصاویر انسٹاگرام پر شیئر کررہی ہیں،اور ہیکرس ان تصاویر کے حوالے سے ان لڑکیوں کو فون کرکے انھیں مختلف قسم کی دھمکیاں دیتے ہوئے ان سے رقم مانگ رہے ہیں۔ اور خفیہ طورپر لڑکیاں رقم دینے پر مجبور ہیں۔ جناب عامر پاشاہ نے فراڈ کی ماری ہوئی لڑکیوں سے کہاہے کہ ڈریں نہیں، ایساکچھ ہورہاہو تو سب سے پہلے اپنے گھر کے بڑوں کوبتائیں اور پھر سائبرکرائم پولیس تھانہ میں شکایت درج کرائیں۔ توقع ہے کہ پولیس ان فراڈیوں کوفوراً گرفتار کرلے گی۔
Comments
Post a Comment