افسانچے۔ازقلم : سیدہ تزئین سہیل بنت سیّد نورالغوث نقشبندی۔
افسانچے۔
ازقلم : سیدہ تزئین سہیل بنت سیّد نورالغوث نقشبندی۔
رزق۔
ہم سے تو خطا ہو گئی… تم بہو لانا تو سوچ سمجھ کر لانا۔ کہتے ہیں رزق بہو کے نصیب سے آتا ہے۔ ہمارا حال دیکھ لو، ایک وقت پیٹ بھر جائے تو دوسرے وقت کی فکر دروازے پر کھڑی ملتی ہے۔"
ساجدہ آپا کے الفاظوں میں کڑواہٹ ایسی تھی جیسے ہر جملہ دل پر نشانہ باندھ کر چھوڑا جا رہا ہو۔ بہو سامنے بیٹھی تھی، مگر لحاظ کا پردہ کہیں نہ تھا۔
"تم ٹھہرو، میں ابھی اندر سے آتی ہوں،" وہ بڑبڑاتی ہوئی اٹھیں اور اندر چلی گئیں۔
ان کے جاتے ہی محفل کی فضا کچھ ہلکی ہوئی۔ پاس بیٹھی خاتون نے آہستگی سے بہو کی طرف جھک کر کہا،
"دل چھوٹا نہ کرو بیٹا… برا مت ماننا۔ یہ بتاؤ، تمہارے میاں کیا کرتے ہیں؟"
بہو کے لبوں پر ایک بے جان سی مسکراہٹ آئی، جو اگلے ہی لمحے تلخی میں بدل گئی۔
"کیا کریں گے خالہ… کچھ بھی نہیں۔ بس دن رات گھر کی موبائل کو تکتے رہتے ہیں۔"
--------------------------
سوال۔
سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے بھائی صاحب اب تو یہ دعوے بھی ہونے لگے ہیں کہ مشین مستقبل دکھاے گی ہم ہنس رہے تھے حیران ہو رہے تھے کہ اچانک ایک بزرگ جو خاموشی سے کھڑے ہماری باتیں سن رہے تھے دھیرے سے بول اٹھے بیٹا کیا کوئی ایسی مشین بھی ہے جو ماضی دکھا سکے زیادہ نہیں بس پندرہ بیس سال پہلے کا ہی؟” میں نے نفی میں سر ہلایا
میرے جواب کے ساتھ ہی اُن کے چہرے پر جیسے برسوں کی تھکن اُتر آئی.
جھریوں زدہ چہرے پہ آنسو بہنے لگے وہ پلٹے اور خاموشی سے باہر کی طرف بڑھنے لگے۔
میں نے بے اختیار پکارا،
“چاچا! آخر ایسا کیا دیکھنا تھا آپ کو؟”
میرے سوال نے ان کے قدم روک لیے کچھ دیر وہ خاموش رہے پھر بولے مجھے اپنے بچوں کو دکھانا تھا کہ میں نے ان کے لیے کیا کیا ہے کیسی کیسی مشکلیں اٹھائی ہے جن کا ذکر کبھی زبان پہ نہ آیا لیکن کیوں میں نے پوچھا وہ ۔۔۔۔وہ میرے بچے مجھ سے پوچھتے ابا تم نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے انہوں نے کہا اور آنسو پونچھتے ہوئے باہر نکل گئے۔
-------------------
پرواز۔
الحمدللہ !مجھے پانچویں مرتبہ حج سے بلاوا آیا ہے پھولوں میں لدے خان صاحب نے تفاخر سے کہا تبھی جہاز روانگی کا اعلان ہونے لگا خان صاحب نے الوداعی ہاتھ ہلایا اور جہاز کی طرف چل دیے ادھر خان صاحب کے جہاز نے پرواز بھری اور ادھر خان صاحب کے پڑوس میں یتیم بچے کی روح مسلسل فاقے سے پرواز کر گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment