یہ کیسی عید ہے۔ - ازقلم : ڈاکٹرفرزانہ فرحت ۔ لندن
ڈاکٹرفرزانہ فرحت
۔ لندن -
یہ کیسی عید ہے
فضا میں آگ کے شعلوں کا رقص جاری ہے
زمیں پہ کیسی خدایا تباہ کاری ہے
ہلالِ عید ہے نکلا لہو لہو ہو کر
لہو کی آج زمیں پر بھی آبیاری ہے
وہ شب کہ جس میں مسرت کے ساز بجتے تھے
اسی میں موت کا منظر ہے سوگواری ہے
نہ جانے عید کی خوشیوں کا رنگ کیا ہوگا
دلوں پہ جب کہ قیامت کا خوف طاری ہے
میں کس طرح سے لکھوں گیت آج فرحت~ کے
جہاں غمی ہے اداسی ہے آہ و زاری ہے
Comments
Post a Comment