اے ذوقؔ! کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا - بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے۔ ازقلم : تنویر احمد تنویر۔
اے ذوقؔ! کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا -
بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے
ازقلم : تنویر احمد تنویر۔
مدتوں بعد آج عالمی شہرت یافتہ ادیب و شاعر، محترم نذیر فتحپوری صاحب سے ان کے دولت کدہ "سائرہ منزل"، سنجے پارک میں، جناب عبدالحمید ہنر کے ہمراہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ نشست نہایت پُر لطف اور علمی و ادبی رنگ لیے ہوئے تھی، جہاں دیر تک ادب، شاعری اور رسائل کی روایت پر سیر حاصل گفتگو جاری رہی۔
نذیر صاحب نے اپنے سہ ماہی رسالہ "اسباق" کے آغاز، اس کے ارتقائی مراحل، اور ان نازک حالات کا ذکر کیا جن میں اسے تقریباً بیالیس برس تک کامیابی سے جاری رکھا گیا۔ انہوں نے ان تمام اہلِ قلم و احباب کا بھی تذکرہ کیا جنہوں نے اس سفر میں ان کا ساتھ دیا۔
اس کے بعد گفتگو کا رخ پونہ کے مرحوم شعرا کی طرف مڑ گیا۔ خاص طور پر رشید اعجاز مرحوم کی شخصیت اور شاعری پر نہایت بصیرت افروز گفتگو ہوئی۔ نذیر صاحب نے ان کے چند اشعار بھی سنائے، جو دل کو بہت بھائے:
دعاء وقت دعاء سب جانتے ہیں
ہماری پہنچ ہے اللہ میاں تک
کشتیوں کا بوجھ ان پہ چپّوؤں کی سختیاں
کتنا بوجھ اٹھا رہی ہیں بن پُلوں کی ندّیاں ،
ڈائری دیکھ کے ملتا ہوں شناساؤں سے
حافظہ جیب میں رکھتا ہوں جدھر جاتا ہوں
(رشید اعجاز )
رباعی اور علمِ عروض پر بھی مفصل تبادلۂ خیال ہوا۔ بعد ازاں اردو کے عظیم شاعر مرزا اسداللہ خان غالب پر طویل اور معنی خیز گفتگو ہوئی۔ ان کی غزلوں کے ساتھ ساتھ ان کے خطوط پر بھی روشنی ڈالی گئی، اور مرحوم کالی داس گپتا رضا صاحب کے ساتھ غالب کے ادبی تعلق کا ذکر بھی نہایت دلچسپ انداز میں کیا گیا۔
اسی دوران راقم نے غالبؔ کی ایک غزل پر اپنی تضمین پیش کی، جس پر نذیر صاحب نے شفقت فرماتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔ اس کے جواب میں نذیر صاحب نے بھی غالبؔ کی زمین میں اپنی ایک شاندار غزل سنائی، جس نے محفل کو چار چاند لگا دیے۔
اس روح پرور ادبی نشست کے ساتھ ساتھ بہترین چائے، شیر خورمہ، سموسے اور چکن سورمہ سے بھی تواضع کی گئی۔ یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک طویل عرصے بعد ایسی با ذوق اور بامقصد محفل نصیب ہوئی ہو۔
محفل اس قدر دل نشیں تھی کہ وہاں سے اٹھنے کو جی ہی نہ چاہتا تھا، مگر وقت کی مجبوری نے رخصت ہونے پر آمادہ کیا۔
اللہ تعالیٰ نذیر فتحپوری صاحب کو صحت و سلامتی کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment