امت کے لیے احتیاط: شیعیت کو سیاسی راہ میں نہ بدلیں ۔۔ ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔
امت کے لیے احتیاط: شیعیت کو سیاسی راہ میں نہ بدلیں ۔
ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔
سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک چوتھائی صدی تک ایسی دوستی کی شکل میں رہے کہ ایران اور شیعیت کے خلاف کھلے عام تقریر کرنا سخت جرم سمجھا جانے لگا۔ اس دوران مسجدِ نبوی سے ایسے خطبوں کے بعد امام حذیفی کی “نظربندی”، خطبے کے کیسٹ کا غائب ہونا اور شیعہ مخالف کتابوں کی مکمل بندش سعودی ماحول میں ایک صاف پیغام تھا: دوستی کا حصہ یہ بھی ہے کہ ایران کے خلاف ایک لفظ بھی نہ بول سکیں۔ جب یہ دوستی 2012 کے بعد ٹوٹی تو وہیں سے پھر شیعہ مخالف فتوے اور ادبیات دوبارہ واپس آئے۔
اس کے بعد جو “رافضی رافضی” کا گندا نغمہ چل پڑا، اس کا اصل ہدف ایران کم اور اسلامی تحریکیں زیادہ ہیں۔ “اخوان المسلمین” اور “حماس” سمیت دیگر جماعتوں پر ایران دوستی کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے، گویا اہلِ سنت کے لیے یہ حرام ہو کہ کسی ملک سے مصلحتی تعلق رکھیں، جب کہ وہی علماء ایک چوتھائی صدی تک سعودی حکومت کی اجازت سے شیعیت کے خلاف ایک لفظ تک نہ بول سکے۔ اس کھیل سے اصل مقصد امت کے معصوم ذہنوں کو مسموم کرنا نہیں، بلکہ شیعہ عقیدے کی حقیقی توضیح کرنا ہے، لیکن یہ مقصد اس طرح کے سیاسی چورنے کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا۔
اہلِ سنت کی کسی دینی جماعت کا رافضیت کے ساتھ کوئی دینی اتحاد ممکن ہی نہیں؛ اس لیے جب کوئی گروہ اس طرح کا الزام لگائے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کسی سیاسی مصلحت کا پیشکش ہے، نہ کہ دینی انصاف کی آواز۔ اس گندے کھیل کا خاتمہ فقط اسی وقت ہو سکتا ہے جب امت کے لوگ اسے بطور “سیاسی ابزار” پہچان کر اس کے ہدف بننے سے گریز کریں، نہ کہ یہ الزامات اپنی قومی یا ملکی وابستگیوں کی بنیاد پر بدلیں۔
شیعیت کو سیاسی راہ میں بدلنے سے امت کے لوگ اپنے دشمنوں کے پیروؤں میں بدل جاتے ہیں، جو ایران کے خلاف یا اس کے حق میں سب سے پہلے ہتھیار ہیں۔ جماعتیں جو اسلامی تحریکوں کے ساتھ کام کرتی ہیں، اس الزام کے ذریعے اپنے دشمنوں کے ساتھ متحد ہو جاتی ہیں، جو اصل میں امت کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے امت کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے سیاسی چورنے کو دور رکھیں اور اپنے دینی اصولوں پر مضبوط رہیں، نہ کہ اپنے ملکی یا سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر اسلامی تحریکوں کے خلاف یا حق میں ہو جائیں۔
Comments
Post a Comment