شبِ قدر – رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کی عظیم رات۔۔ - مضمون نگار : حافظ و قاری مولانا محمد رفیق پٹیل نظامی۔
شبِ قدر – رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کی عظیم رات۔
مضمون نگار: حافظ و قاری مولانا محمد رفیق پٹیل نظامی۔
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس مبارک مہینے کی سب سے عظیم اور بابرکت رات شبِ قدر ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے بھی بہتر قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: “لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ” یعنی شبِ قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس ایک رات میں کی جانے والی عبادت، ذکر و اذکار، تلاوت قرآن اور دعائیں ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی زیادہ اجر و ثواب کا باعث بنتی ہیں۔
شبِ قدر کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اسی مبارک رات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر قرآن کریم کا نزول شروع فرمایا۔ قرآن مجید انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور کامیابی کا ضامن ہے، اسی لیے اس رات کو ہدایت اور رحمت کی رات کہا جاتا ہے۔ اس رات میں فرشتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم سے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور صبح صادق تک یہ رات سراسر سلامتی اور برکت کا پیغام دیتی ہے۔
احادیث مبارکہ میں بھی شبِ قدر کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ شبِ قدر میں عبادت کرے گا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ آپ ﷺ راتوں کو جاگ کر نماز پڑھتے، قرآن کی تلاوت کرتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی عبادت کے لیے بیدار کرتے تھے۔
علمائے کرام کے مطابق شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یعنی اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں رات میں اس کے ہونے کی زیادہ امید ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پورے آخری عشرے میں عبادت، دعا، ذکر اور توبہ و استغفار کا خاص اہتمام کریں تاکہ اس عظیم رات کی برکتیں حاصل کرسکیں۔
شبِ قدر دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک عظیم انعام اور موقع ہے۔ یہ رات ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے، اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ اس رات میں مانگی گئی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس رات کو غفلت میں ضائع نہ کرے بلکہ عبادت، دعا، ذکر اور تلاوت قرآن میں گزارے۔
آج کے دور میں جبکہ انسان مختلف پریشانیوں اور آزمائشوں میں گھرا ہوا ہے، شبِ قدر ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا پیغام دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مبارک رات میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے، اپنے ملک اور پوری امت مسلمہ کے لیے دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور ہدایت طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ قدر کی قدر و منزلت کو سمجھنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment