بے لگام رفتار اور خاموش سڑکیں - موٹر ریسنگ میں نوجوان طلبہ کی اموات کا ذمہ دار کون؟۔ - ازقلم : الطاف آمبوری۔


بے لگام رفتار اور خاموش سڑکیں - موٹر ریسنگ میں نوجوان طلبہ کی اموات کا ذمہ دار کون؟
ازقلم  : الطاف آمبوری۔ 

آج کے دور میں موٹر سائیکل نوجوان نسل کے لیے صرف ایک سواری نہیں بلکہ فیشن، شوق اور بعض اوقات اپنی بہادری دکھانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی شوق کئی نوجوان طلبہ کی جان لے رہا ہے۔ شہروں اور قصبوں کی سڑکیں خصوصاً رات کے وقت موٹر ریسنگ کا میدان بن جاتی ہیں جہاں نوجوان اپنی رفتار اور مہارت آزمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً حادثات پیش آتے ہیں اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اموات کا اصل ذمہ دار کون ہے؟

سب سے پہلے خود نوجوانوں کی غیر سنجیدگی اور لاپرواہی اس مسئلے کی بڑی وجہ ہے۔ نوجوانی جوش، جذبات اور مہم جوئی کا زمانہ ہوتا ہے۔ بعض طلبہ بغیر کسی تربیت اور تجربے کے تیز رفتار موٹر سائیکلیں چلاتے ہیں اور سڑکوں کو ریسنگ ٹریک سمجھ لیتے ہیں۔ ہیلمٹ نہ پہننا، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنا اور دوستوں کے سامنے اپنی مہارت دکھانے کی کوشش کرنا اکثر حادثات کا سبب بنتا ہے۔

والدین کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں بہت اہم ہے۔ بعض والدین کم عمر بچوں کو مہنگی اور تیز رفتار موٹر سائیکلیں تو خرید کر دے دیتے ہیں مگر انہیں ذمہ داری اور احتیاط کی تعلیم نہیں دیتے۔ جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو سب سے زیادہ کرب اور صدمہ انہی والدین کو سہنا پڑتا ہے۔ ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب ہنستا کھیلتا بیٹا اچانک خاموش خبر بن جاتا ہے۔ اسپتال کے دروازے پر کھڑے والدین کی بے بسی، ماں کی آہیں اور باپ کی خاموش آنکھیں اس حقیقت کا دردناک منظر پیش کرتی ہیں کہ ایک لمحے کی لاپرواہی پوری زندگی کا غم بن جاتی ہے۔

خاص طور پر ماہِ رمضان میں یہ مسئلہ زیادہ شدت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ افطار کے بعد بعض نوجوان “چائے پینے” یا “دوستوں سے ملنے” کے بہانے دور دراز علاقوں تک موٹر سائیکلوں پر نکل جاتے ہیں۔ رات کی خالی سڑکیں اور دوستوں کا جوش انہیں تیز رفتاری کی طرف لے جاتا ہے۔ اکثر یہی غیر ضروری سفر اور مقابلہ بازی خطرناک حادثات کا سبب بن جاتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک طرف گھروں میں والدین سحری کے لیے اپنے بچوں کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف سڑک پر کوئی حادثہ ان کی امیدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے۔

اس مسئلے میں دوستوں کے دباؤ اور معاشرتی ماحول کا کردار بھی اہم ہے۔ نوجوان اکثر اپنے ساتھیوں کے سامنے خود کو بہادر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دوست اگر تیز رفتار چلاتا ہے تو دوسرا اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں مقابلہ بازی کا یہ رجحان موٹر ریسنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزور عمل داری بھی اس مسئلے کو بڑھاتی ہے۔ اگر ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے، بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف کارروائی ہو اور غیر قانونی ریسنگ کو فوری طور پر روکا جائے تو حادثات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

تعلیمی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں ٹریفک شعور پیدا کریں۔ اسکولوں اور کالجوں میں روڈ سیفٹی کے پروگرام منعقد کیے جائیں اور نوجوانوں کو یہ سمجھایا جائے کہ زندگی اللہ کی امانت ہے جس کی حفاظت ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نوجوان طلبہ کی اموات کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے۔ اس کے ذمہ دار نوجوانوں کی لاپرواہی، والدین کی غفلت، دوستوں کا دباؤ اور قانون کی کمزور عمل داری سب ہیں۔ اگر معاشرہ مل کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور نوجوانوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرے تو بے شک بہت سی قیمتی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سڑکیں دوڑنے کے لیے نہیں بلکہ محفوظ سفر کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لیں تو بہت سے گھروں کے چراغ بجھنے سے بچ سکتے ہیں، اور والدین کو اپنی اولاد کے جنازے اٹھانے کا کربناک لمحہ دیکھنے سے نجات مل سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔