اباجان کی کرسی: خون کے رشتے اور بے وفا موسم۔ ازقلم : رہبر تماپوری۔


اباجان کی کرسی: خون کے رشتے اور بے وفا موسم۔  
ازقلم : رہبر تماپوری۔ 

گھر کے دالان میں رکھی وہ ساگوان کی خالی کرسی آج بھی اپنے مالک کا انتظار کرتی محسوس ہوتی ہے۔ وقت گزرتا گیا، موسم بدلے، اور دالان کی دیواروں پر جمی گرد گہری ہوتی گئی، لیکن اس کرسی کی خاموشی میں ایک ایسا نوحہ چھپا ہے جو ہر آنے جانے والے کو سنائی دیتا ہے۔ یہ کرسی اس وقت کی گواہ ہے جب اس گھر کی چھت تلے محبتوں کا پہرہ تھا اور اباجان اس خاندان کے واحد نگہبان تھے۔ ان کا وجود ایک ایسے شجرِ سایہ دار کی مانند تھا جس نے دھوپ خود سہی، مگر اپنے بھائیوں، بہنوں اور اولاد کو ہمیشہ ٹھنڈی چھاؤں میں رکھا۔
اباجان کی زندگی کا مقصد صرف مال و دولت بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ رشتوں کی آبیاری کرنے والے ایک مخلص باغبان تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی کے بہترین ایام اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش اور ان کے مستقبل کو سنوارنے میں صرف کر دیے۔ ان کے کاروبار کی بنیاد دیانت اور اخلاق پر تھی۔ شہر کے بازار میں ان کی زبان کسی تحریری معاہدے سے زیادہ معتبر سمجھی جاتی تھی۔ دوستوں کا حلقہ ہو یا کاروباری حریف، ہر شخص ان کی شرافت کی گواہی دیتا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے، "بیٹا! یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، یہاں اصل کامیابی وہ نہیں جو تم تجوریوں میں بھرتے ہو، بلکہ وہ ہے جو تم کسی کے دکھ بانٹ کر حاصل کرتے ہو۔" انہوں نے اپنے بھائیوں کو باپ بن کر پالا اور بہنوں کی شادیوں کے لیے اپنی ضرورتوں کی قربانی دی۔ ہمیں یاد ہے کہ وہ اپنی قمیص پر پیوند لگا لیتے تھے تاکہ بھائیوں کے لباس پر کوئی شکن نہ آئے۔
پھر وہ وقت آیا جب آزمائش نے اس گھر کا رخ کیا۔ رمضان المبارک کا پہلا چاند نظر آتے ہی اباجان کی طبیعت کچھ ایسی بگڑی کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بستر سے لگ گئے۔ وہ ہاتھ جو کبھی دوسروں کی دستگیری کرتے تھے، اب خود لرزنے لگے۔ ہم نے شہر کے بڑے بڑے ڈاکٹروں کی منتیں کیں، نظامِ صحت کی ہر چوکھٹ پر دستک دی، لیکن صحیح علاج نہ مل پانے کی وجہ سے ان کی حالت دن بدن ابتر ہوتی گئی۔ طب کی بے حسی اور مہنگی دواؤں کے بے اثر ہونے نے ہمیں اس حقیقت کے قریب کر دیا کہ اب وہ سایہ رخصت ہونے والا ہے۔ ڈاکٹروں نے جب اپنی بے بسی کا اعتراف کر لیا، تو انہیں گھر منتقل کر دیا گیا۔ وہ پورا مہینہ ہمارے لیے ایک کربناک سفر تھا۔ ان کے جسم کے زخموں کی مرہم پٹی کرتے ہوئے ہماری روحیں تڑپ جاتی تھیں، مگر ان کے لبوں پر ہمیشہ وہی صبر اور وہی دعا رہتی: "اللہ سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے"۔ عید کا چاند نظر آیا، فضا میں مسرتوں کا شور تھا، مگر عین اسی لمحے اباجان نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور ہمیں ہمیشہ کے لیے یتیم کر گئے۔ ان کی رحلت نے نہ صرف ہمیں باپ سے محروم کیا، بلکہ ان تمام رشتوں کا اصل چہرہ بھی دکھا دیا جن کے لیے اباجان نے اپنا لہو جلایا تھا۔
اباجان کی تدفین کے چند ہی روز بعد، گھر کا ماحول یکسر بدل گیا۔ وہ بھائی اور بہنیں جو کل تک اباجان کی سخاوت کے گن گاتے تھے، اب شکاریوں کی طرح جائیداد پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ ایک شام جب ہم اباجان کی خالی کرسی کو دیکھ کر اپنی اداسی بانٹ رہے تھے، بڑے چچا اور پھوپھیوں نے ہمیں بلا کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ان کے لہجوں میں وہ مٹھاس نہیں تھی جو اباجان کی زندگی میں ہوا کرتی تھی، بلکہ وہاں ایک ایسی سرد مہری تھی جو خون کے رشتوں کو منجمد کر رہی تھی۔ انہوں نے صاف کہہ دیا، "تمہارے باپ نے جو کچھ کمایا، وہ دراصل اس خاندان کی مشترکہ پونجی تھی، اب جبکہ وہ نہیں رہے، تو اس جائیداد پر ہمارا حق مقدم ہے۔ تم یتیموں کے پاس اب کچھ نہیں، بہتر ہے کہ اپنی اوقات میں رہو۔"
ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ رشتہ دار جو اباجان کے ہوتے ہوئے ہمارے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے، اب ہمیں جائیداد سے بے دخل کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ ان کی بے حسی اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے یہ سوچنا بھی گوارا نہ کیا کہ ان بچوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ "جس سے ہمارا تعلق تھا، وہ تو چلا گیا، اب تم سے ہمارا کیا رشتہ؟" یہ الفاظ کسی خنجر کی طرح ہماری روح میں پیوست ہو گئے۔ وہ بھول گئے کہ یہ وہی بھائی تھا جس نے ان کی شادیاں کیں، ان کے بچوں کی فیسیں بھریں اور انہیں معاشرے میں مقام دلانے کے لیے اپنی زندگی تیاگ دی۔
لیکن اس کٹھن وقت میں بھی، اباجان کی دی ہوئی دینی اور اخلاقی تربیت نے ہمیں ٹوٹنے نہیں دیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ان رشتوں کی بے رخی پر خاموش رہیں گے اور اپنے باپ کے وقار کو آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ہم نے صفر سے زندگی کا آغاز کیا، وہی سچائی اور وہی کھرے معاملات اپنائے جو اباجان کی پہچان تھے۔
کچھ عرصہ گزرا تو وقت نے ایک اور پلٹا کھایا۔ وہی بھائی اور بہنیں جو اباجان کی اولاد کو بے سہارا چھوڑ کر اپنی خوشیوں میں مگن تھے، قدرت کے احتساب کا شکار ہونے لگے۔ کسی کو بیماری نے گھیرا تو کسی کو کاروبار میں ایسا نقصان ہوا کہ وہ سڑک پر آگئے۔ تب انہیں احساس ہوا کہ بھائی کے بچوں کے ساتھ کیا گیا غیر منصفانہ سلوک ان کے لیے وبال بن گیا ہے۔ انہیں یاد آیا کہ اباجان نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا تھا، اور انہوں نے اپنے ہی یتیم بھتیجوں کا حق مار کر اپنی عاقبت خراب کر لی ہے۔
ایک دن بڑے چچا، شکستہ قدموں کے ساتھ گھر آئے اور اباجان کی اسی خالی کرسی کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں پچھتاوا تھا اور لہجے میں وہ غرور ختم ہو چکا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ "بھائی کے جانے کے بعد ہماری مدد کرنا ہمارا فرض تھا، مگر ہم نے لالچ میں آ کر اپنی جڑیں خود کاٹ دیں"۔ ہم نے انہیں معاف کر دیا، کیونکہ اباجان نے ہمیں یہی سکھایا تھا کہ "بدلے کی آگ انسان کو جلا دیتی ہے، مگر درگزر اسے کندن بنا دیتا ہے"۔ آج وہ خالی کرسی ہمیں ایک عظیم سبق دیتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ باپ کی جدائی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ہے، اور اپنوں کی بے حسی اس زخم کو مزید گہرا کر دیتی ہے، لیکن جو اولاد اپنے باپ کے سیدھے معاملات اور بلند اخلاق کو تھام لیتی ہے، اللہ اس کے لیے بند راستے بھی کھول دیتا ہے۔ رشتہ داروں کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بھائی کے جانے کے بعد اس کے بچوں کا سہارا بننا ہی ان کی اپنی بقا اور نیک نامی کا ذریعہ ہے۔ باپ کا سایہ تو رخصت ہو سکتا ہے، مگر اس کی دی ہوئی نصیحتیں اور دعا ہمیشہ ایک روشن مینار کی طرح راستہ دکھاتی رہتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ