راہِ نجات۔۔۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی۔


راہِ نجات۔۔
ازقلم : عقیل خان بیاولی۔
 
شیطانی وسوسوں سے نکل کر، اے دلِ بے قرار
لوٹ آ بارگاہِ رب میں، کر لے سجدۂ اعتراف بار بار۔
یہ لمحہ بھر کی خواہشیں، یہ نفس کی عارضی پکار
صدیوں کے عذاب کے بدلے، کیوں کر لے تو یہ کاروبار؟
دنیا کی چمک دمک فانی، سب سایوں کا اک جال ہے
اصل کامیابی وہی ہے جو رب کی رضا کا سوال ہے۔
احکامِ الٰہی کو تھام لے، یہی زندگی کا وقار ہے
وحدانیت کا اقرار کر، یہی بندگی کا شعار ہے۔
نماز سے دل کو نور ملے، روزہ صبر کا پیغام ہے
زکوٰۃ سے دل پاک ہو، حج عشقِ رب کا مقام ہے۔
حقوقُ العباد بھی یاد رکھ، یہی دین کی پہچان ہے
جو بندوں سے محبت کرے، وہی رب کا مہمان ہے۔
ہر نیکی کو نیکی سمجھ، ہر بدی کو بدی جان لے
نفس کی سرکشی چھوڑ کر، راہِ حق کو پہچان لے۔
خدمتِ خلق کو اپنا لے، یہی اصل عبادت ہے
انسان بن، سراپا بشر بن، یہی رب کی عنایت ہے۔
جو رب کی رضا میں جیتا ہے، وہی اصل میں کامیاب ہے
اس کی دنیا بھی روشن ہے، اس کا عقبیٰ بھی آفتاب ہے۔

 عقیل خان بیاولی، جلگاؤں

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ