شیطان کی چالیں۔ ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
شیطان کی چالیں۔
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
يہ کہانی اس وقت سے شروع ہوتی جب اللہ نے آدم کو بنایا اورکہا اے آدمؑ، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ آدم اور حوا کو ہر طرح کی آزادی دی مگر صرف ایک پابندی لگا دی، کہ اس درخت کے قریب نا جاؤ ۔ عیسائی اور یہودی صرف حوا کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ، ان کی کہانی میں حوا علیہا السلام نے آدم علیہ السلام کو بہکایا اور آدم نے الله کی حکم ادولی کی، اور جنت سے نکالے گئے۔
اسطرح عورتوں کو ذلیل کرتے ہیں ، مگر اسلام عورتوں کو ان الزامات سے بری کرتا ہے ، قرآن کے الفاظ دونوں کو مخاطب کرتے ہیں اور اس میں دوکا صیغہ استعمال کیا گیا ۔
اور اے آدمؑ، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ صرف ایک پابندی عائد کردی گئی، (اس درخت کے قریب ناجاؤ)۔
الله نے انسانوں کو نفس عطا کیا جو تجسس کو جنم دیتا ہے ۔
شیطان کبھی نہیں چاہیے گا کہ یہ بات سمجھوکہ تم سے زبردستی گناہ نہیں کرواتا بلکہ وہ گناہ کو پرکشش اور خوبصورت کر کے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ تمہیں یقین دلاتا ہے کہ یہ عمل گناہ نہیں بلکہ یہ عمل تمہارے فائدے میں ہے اور یہی شیطان کا سب سے مہلک اور خطرناک ہتھیار ہے۔
جیسے بے پردگی اور بے حیائی کو کہتا ہے یہ فیشن ہے یہ جدید دوڑ کی ضرورت ہے اپنی شخصیت کو ظاہر کرنا کوئی گناہ نہیں بلکہ خود اعتمادی ہے اور اس طرح حیا کو پرانی سوچ اور بے حیائی کو نئی سوچ بنا کر پیش کرتا ہے حرام رشتے اور ناجائز تعلقات کو کہتا ہے یہ محبت اور عشق ہے اور عشق دلوں کو جوڑتی ہے اور دلوں کو جوڑنا کوئی جرم نہیں اور اس طرح اس ناجائز تعلق کو ایک رومانوی کہانی بنا کر پیش کرتا ہے حرام کمائی کو کہتا ہے یہ ہوشیاری ہے چونکہ زمانہ چالاک ہے اور سب کر رہے ہیں لہذا تمہیں بھی پیچھے نہیں رہنا چاہیے، اور اس طرح بددیانتی کو کامیابی کے طور پر پیش کرتا ہے غیبت کو کہتا ہے کہ میں برائی نہیں کر رہا اور جھوٹ نہیں بول رہا بلکہ حقیقت کو بیان کر رہا ہوں اور اس طرح زہر کو نصیحت کا لباس دے دیتا ہے ڈراموں فلموں نیدفلیکس اور سوشل میڈیا کو کہتا ہے یہ ریلیکسیشن ہے اور دماغ کے لیے ضروری ہے اور اس طرح انسان کو عبادت کے وقت توجہ نہ دینے کا بہانہ دے دیتا ہے والدین کی نافرمانی کو کہتا ہے کہ یہ میری زندگی ہے اور اپنی زندگی میں مجھے بھی خوشی کا حق ہے اور اس طرح نافرمانی کو خود مختاری کا نام دے دیتا ہے ناشگری کو کہتا ہے کہ میں تو صرف بہتر چیز مانگ رہا ہوں اور بہتر چیز مانگنا ترقی کی علامت ہے اور اس طرح ناشکری کو انسان کا ہدف بنا کر حرام نظروں کو کہتا ہے کہ ایک نظر سے کیا فرق پڑتا ہے خوبصورتیوں کو دیکھنا اور انہیں ایپریشییٹ کرنا کوئی گناہ تو نہیں اور اس طرح نکاح کے سحر کو ذوق اداب دے دیتا ہے اور قران نے اس عظیم جال اس خطرناک اور خوبصورت حربے کو یوں بیان کیا ہے شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوبصورت اور اراستہ کر کے پیش کر دیا اور انہیں سیدھے راستے سے روکا جارہا ہے۔
جب شیطان حوا اور آدم کو بہکا رہا تھا تب اس کے الفاظ غور کرنے کے قابل ہیں۔" وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ ﴿٢١﴾ سورۃ الاعراف
اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔
یہ الفاظ ایسے ہیں جن پر انسان غور کرنے پر مجبور ہو جائے گا ۔ یہ انسانی فطرت ہے، یہی وجہ سے ہم اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑاتے ہیں ۔پہلے شیطان نے کہا الله نے تم کو اس درخت کے پاس جانے سے کیوں منع کیا ہے؟
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ ﴿٢٠﴾۔
پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، "تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔
یہ بہت بڑا لالچ تھا ، کون انسان ایسی ابدی زندگی جینے کا نہیں چاہیے گا۔ اس بات پر آدم اور حواء نے سوچا آزمانے میں کیا حرج ہے ، اس کے بعد جو ہوا اسے صاف الفاظ میں نہیں بیان کیاہے ، بلکہ کہا گیاہے کہ وہ دونوں نے اپنی شرم گاہیں ، درخت کے پتوں سے چھپانے کی کوشش کی۔ بعض مفسرین انجیر کا درخت بتاتے ہیں ، مگر یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں صرف اسلئے کہ اس درخت کے پتے بڑے ہوتے ہیں اور انجیر کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔
الله نے شیاطین اور انسانوں کو وہ قوت عطا کی ہے جس سے ہم لوگوں کو مسحور کر سکتے ہیں، شاعر نے اس کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا ۔ بن گیا رقیب آخرتھا جو رازداں اپنا ۔
یہ اندازِکلام اچھے اچھے انسان کی سوچنے کی حس کو متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اللہ سورۃ الشعراء میں شاعروں کے بارے میں کہتا وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿٢٢٤﴾ رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں.
اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ الفاظ انسان کو یہ بھلا دیتے ہیں کہ اس کو معبود حقیقی نے کیا احکامات دئے ہیں اور ان احکامات کا منبع ہے قرآن کریم ، مگر ہم ان احکامات کو سمجھ نہیں سکے کیونکہ
ہمیں تو صرف یہ کہا گیا کہ بچوں اس کتاب کو صحیح تلفظ سے پڑھو اور یہ بہت بڑا گناہ ہے اگر الفاظ صحیح اداء نہیں ہوے تو معنی بہت بدل جائے گی ۔ غرض طرح طرح کے تاویلیں پیش کی جاتی ہیں، اور کسی بھی طرح سے مسلمانوں کو قرآن سمجھنے سے روک دیا جاتا ہے۔
یہ صاف طور پر قرآن اور الله کی نافرمانی ہے، آخر میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ الله ہم سب کو ہدایت دے اور احکام الٰہی پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
Comments
Post a Comment