معروف افسانہ نگار محترمہ جیلانی بانو کا سانحہ ارتحال۔
محترمہ شبینہ فرشوری کے وائس نوٹ سے بزم بنات سے یہ روح فرسا خبر ترسیل کی گئی ہے کہ آج شام شہر حیدرآباد دکن میں اردو کی شہرہ آفاق افسانہ نگار و صاحب طرز ادیبہ محترمہ جیلانی بانو صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہے۔اردو کی باوقار معروف ہستی محترم احمد جلیس،اسٹیشن ڈائریکٹر دوردرشن کیندر بنگلور اور ڈاکٹر افضل محمد وائس چانسلر امبیڈکر یونیورسٹی حیدرآباد کی ہمشیرہ جیلانی بانو صاحبہ کافی عرصے سے علیل تھیں ۔مرحومہ اردو کے معروف ادیب و شاعر جناب علامہ حیرت بدایونی کی صاحبزادی تھیں...ان کے انتقال سے اردو زبان و ادب کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے.. اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کی علمی و ادبی گرانقدر خدمات کو قبول فرمائے، انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے... آمین
الوداع بانو آپا۔۔۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔حق مغفرت کرے۔ آمین
آپ کو بتادیں کہ محترمہ جیلانی بانو صاحبہ سرزمین گلبرگہ شریف تشریف لائی تھیں،یہاں انھوں نے اردو کے معروف استاد پروفیسر ڈاکٹر جلیل تنویر صدر شعبہ اردو، عربی و فارسی گورنمنٹ ڈگری کالج گلبرگہ کے اولین افسانوی مجموعہ حصار کی رسم رونمائی انجام دیاتھے،اس یادگار تقریب رسم اجراکی صدارت اردو کے معروف نقاد پروفیسر ڈاکٹر طیب انصاری نے کی تھی، اس تقریب کا اہتمام انجمن ترقی پسند مصنفین گلبرگہ کی جانب سے شہر کے قدیم تعلیمی ادارہ نیشنل کالج کے غالب ہال میں منعقد ہواتھا....ہمیں اس اہم تقریب میں پہلی مرتبہ محترمہ جیلانی بانو صاحبہ کو دیکھنا کا شرف حاصل ہوا تھا.
Comments
Post a Comment