خودثنائی سے خودشناسی تک۔۔ - ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔
خودثنائی سے خودشناسی تک۔
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔
موبائل:9845628595
ڈاکٹر مشتاق احمد سہروردی صاحب پتہ تھاکہ ڈاکٹر ہیں، کچھ یوم قبل جب انھوں نے اپنے دودوستوں کے ساتھ ڈگری لیتے ہوئے اپناسرخ گاؤن واٹس ایپ اور فیس بک پر (دوستوں کے ذریعہ) شو کیاتب ہم پر انکشاف ہواکہ بیدر جیسی حنائی یعنی سرخ زمین میں رہنے سے کوئی ڈاکٹر نہیں بن جاتا، اس کو گلبرگوی سرخ گاؤن پہننے کے لئے گلبرگہ یونیورسٹی میں داخلہ لیناپڑتاہے، پانسات سال چپل اور جوتے گھسنے پڑتے ہیں۔اور اس سے بھی پہلے خود کوڈاکٹر کے نام سے مشہور کرناہوتاہے۔ سوہم تب سے اب تک اسی ادھیڑ بُن میں تھے کہ یہ سب کس طرح ہوگا، کیاآج بھی ممکن ہے؟،اچانک ہی پتہ چلاکہ ڈاکٹر مشتاق احمد سہروری صاحب نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہاتھ میں لینے کے بعد ”خودثنائی“ کے عنوان سے اپنی آتم کتھا لکھی ہے اور کے بی این ٹائمز گلبرگہ میں سرخ چوکٹھے میں سفید حروف سے اپنانام اور عنوان لکھ کر اس”آتم کتھا“ کوشائع بھی کرادیا ہے۔جب کہ اپنی ”عمر شریف“ کے پورے کارنامے سرخ ”فانوس“ کے8کالم میں سیاہی (وہ بھی سیاہ)سے لکھ کر روزنامہ ”کے بی این ٹائمز“گلبرگہ کے قارئین اور ہم جیسے چاہنے والوں کے سامنے پیش کردئے ہیں۔
”خودثنائی“ کا آغاز اسعدثنائی کے دوست ڈاکٹر مشتاق احمدایک عدد شکویٰ سے کرتے ہیں۔اس شکویٰ میں فرحت اللہ بیگ، عصمت چغتائی اور مولوی عبدالحق کو (بہ باطن)یادکرتے ہیں۔ اس توقع پر کہ ایسا ہی کوئی ان پر خاکہ لکھ سکے۔ اجی ڈاکٹر صاحب آپ کے پچھواڑے میں شہر گل و برگ کامعروف خاکہ توڑ خاکہ نگار جناب منظو روقاریرقان کے باوجود ڈھیروں تحریریں لکھ رہے ہیں، اِشارہ کافی تھا۔ کیوں کہ ان جیسا عقلمند ہم نے نہیں دیکھا۔ وہ ہم پربھی کسی رسید کی طرح خاکہ کاٹ چکے ہیں۔ایسے کاٹنے اور لکھنے والوں کے ہوتے ماہ ِ رمضان میں خواہ مخواہ مرحومین کویادکرلیاآپ نے ایسا نہیں کرناچاہیے۔ نفسیات کے مطابق وہ بھی ہم کویاد کرسکتے ہیں، تب کیاہوگا۔ ع۔
خاک میں کیاصورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
کہنے سے کچھ بننے والا تو نہیں۔ اوریہ عصمت چغتائی کو چپکے چیکے بغیر نام کے یاد کرنا ادب کاکون سالحافی عشق ہوسکتاہے؟(بعدرمضان بتلائیے گا)۔
ڈاکٹر صاحب نے لکھاہے کہ اپنے پانی میں ہونے کے لئے یہ خاکہ”خودثنائی“ کے عنوان سے کھینچ ماراہے۔ (واضح رہے کہ لوگ زمین پرہوتے ہیں۔ گویاپانی میں مچھلیوں کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا گزار اہے، سنا ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو ضرور کھاتی ہے لیکن مچھلی مگر مچھ جیسے آنسو نہیں بہاتی اور نہ ہی صنم بے وفا کی طرح مچھلی بے وفا ہوتی ہے)
ڈاکٹر صاحب نے بتایاہے کہ وہ سات بھائی ان سات سہیلیوں کی طرح ہیں جنہوں نے اپنادُکھڑا کسی شاعر اور وہ بھی فلمی شاعر کو سنایا تو اس نے ان سات سہیلیوں پر گانا تحریر کرکے ان سہیلیوں کوامر کردیا۔ ڈاکٹر صاحب خود سمیت ساتوں بھائیوں کو”اکبر“ بھی نہیں کرسکے۔ کیوں کہ اکبر ایک ہوتاہے (اللہ والا بھی،جودہ اور بیربل والابھی)، سات کس طرح ہوسکتے ہیں؟ لگتاہے ڈاکٹر صاحب ریاضی میں پکے ہیں اور غلطی ہونے کو ”دوزخی“ ہونے کی نشانی سمجھتے ہیں۔
جو بچہ دوسروں کی گود میں مزہ سے بیٹھ سکتاہو، اس کی دانشمندی میں کلام نہیں ہوسکتا۔ اور جو بچہ والدہ کو بے چین کرسکتاہے وہی بچہ اپنی والدہ کا سچااور شرارتی بچہ ہوتاہے بھلے ہی اس کی شرارت زمانے کو نظر نہ آتی ہو۔ اجنبیوں کی گود میں اطمینان سے بیٹھنے والاوہ لڑکا جوبڑا ہوکر ڈاکٹر بناتو اس ڈاکٹر نے کہا ”آنکھوں پرسدا عینک سجی رہتی ہے جسم فربہ ہوکر پھیل ساگیاہے“دراصل ڈاکٹر صاحب نے اپنے جسم کو عینک سے دیکھاہے۔ اپنے چاہنے والے 56سالہ یوسف رحیم بیدری کی عینک سے دیکھتے تو اسمارٹ لگتے اور اردو ادب کے ”گووندا“ کہلاتے۔
ڈاکٹر صاحب آگے لکھتے ہیں کہ ”آج بھی دُور کا صاف دکھائی نہیں دیتا، دُور کھڑا دوست یہ سمجھتاہے کہ میں اسے نظر انداز کررہاہوں“ سرکار یہ خوبی آپ کی اپنی نہیں ہے بلکہ شہری وراثت ہے جو ڈاکٹر صاحب کے حصہ میں بھی آئی ہے۔ بقول امجد جاوید (دروغ برگردن ِ راوی) پھلتے پھولتے بڑے بڑے شہروں میں ایسے چھوٹے موٹے واقعات دُوراندیشی کی بناپرسرزد ہوتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر مشتاق احمد سہروردی صاحب نے ”خودثنائی“ میں اپنے تحتانیہ اوروسطانیہ مدرسے کا مختصر لیکن اچھا نقشہ کھینچاہے۔ ہم بھی سرکاری اُردو اسکول تحتانیہ منیارتعلیم (آج کل کانام بوائز) بیدر میں پڑھ چکے ہیں اور وسطانیہ کی تعلیم نورخان تعلیم کے سرکاری اسکول سے حاصل کی۔ ہم میں اور ڈاکٹر مشتاق احمد سہروردی صاحب میں یہ بات قد رِ مشترک کے طورپر ہے کہ ہم بھی کوئلے سے دانت صاف کرکے مدرسہ پہنچتے تھے۔ اور دوپہر میں ”حکما“ کھانے کوملتاتھا جس کوآج کل مڈڈے میل کہاجارہاہے۔ جس کاترجمہ ”دوپہر کاگرم کھانا“جیسے الفاظ سے کیاجاتاہے۔ ہمارے لئے بھی کوئی ٹفن نہیں لاتاتھا۔ ٹفن کے چونچلے تو آج کل کی دین ہیں۔ ہم البتہ بستہ لے کر اسکول جاتے تھے۔ وہ بستہ ابھی بھی نگاہوں میں گھوم رہاہے(علم نفسیات کے بموجب وہ بھی ہمیں یاد کررہاہوگا)ڈاکٹر صاحب نے یاد دِلایاتو یاد آیاکہ ہمارے اسکول میں بھی دعا ہی ہوتی تھی۔ فزیکل ٹیچر کے نام پر وسطانیہ میں البتہ مظہر مولوی صاحب ہوتے تھے،بچوں کی خوب بجاتے تھے۔ ہم کو بجانے کی آرزولئے وہ رب کریم سے شاید پانچ سال پہلے جاملے۔
طلبہ کو اساتذہ ”کوٹتے پیٹتے“تھے تو واقعی بیدر میں بھی والدین اسکول جاکر استفسار نہیں کرتے تھے۔ اس وقت استاد کا درجہ والدین سے بڑا سمجھاجاتاتھا۔یاد آیاکہ ہم بھی الامین ہائی اسکول میں داخل کردئے گئے، جو ممتاز احمد خان کاادارہ تھا، اور بیدر میں الامین کے بانی خاکسارکے خسر جناب عبدالمجید خان صاحب تھے۔ڈاکٹرصاحب نے اپنے ہائی اسکول کی جوتفصیلات دی ہیں وہ ہم بھی دے سکتے ہیں لیکن اس سے بقلم خود خاکہ ”خودثنائی“ کامقصد فوت ہوجانے کاخوف ہے۔ لہٰذا اپنے ذکر ِ ہائی اسکول کو یہیں چھوڑتاہوں۔
ڈاکٹر صاحب نے این سی سی میں داخلے میں ناکامی کاذکرکیاہے۔ اچھالگا۔ میٹرک میں ایک نمبر کم درجہ دوم میں کامیابی ڈاکٹر صاحب نے حاصل کی۔ ہم البتہ الامین ہائی اسکول بید رمیں ٹاپ رہے۔ڈاکٹر صاحب نے سن عیسوی نہیں لکھاہے، ورنہ ہم بھی اپنی کامیابی کا سن عیسوی لکھ دیتے۔ہمارا بھی امتحانی مرکز سرکاری گرلز ہائی اسکول بیدر تھا۔ جب کہ ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب کا دہم جماعت کامرکز گورنمنٹ گرلس ہائی اسکول نزد پولیس گراؤنڈ گلبرگہ ہوتاتو ان کی اور ان کے دوستوں کی جواں مرادیں پوری ہوجاتیں۔
ڈاکٹر صاحب نے 24سال کی عمر میں شادی کرلی۔ اور یہاں انھوں نے ہم سے بازی مارلی۔ ڈاکٹر صاحب کی شادی کے بارے میں راوی (ڈاکٹر) لکھتاہے کہ”ایک خالہ زاد کوہمارے پلے باندھ دیا“ اگر خالہ زادی کو بھی باندھ دیتے تو کیاہوتا؟منہ لگانے کا جواب نہیں ڈاکٹر صاحب۔ اس خود خاک نگاری (خاکہ نہیں) کے وہ جملے جو محررکو شریف اور نہایت شریف بتاتے ہیں وہ یوں ہیں
(۱) کونسلنگ کلاسیس میں ساتھی لڑکے لڑکیاں ہمارا اتنا احترام کرتے جتنا کسی استاد کا کیاجاتاہے۔ یہی احترام ہمیں حصول تعلیم کے سوا اور کچھ کرنے نہیں دیا(پتہ نہیں ڈاکٹر صاحب کیاکرنے کی آرزو کو نہاں رکھے ہوئے تھے)
(۲)لڑکیوں نے تو بالآخر پتہ چلاہی لیاہم پانچ بچوں کے باپ ہیں۔ معمری نے ہمیں پڑھائی میں دل لگانے پر مجبور کیا (البتہ لڑکوں کوپتہ کیوں نہیں چل سکا، اس بابت ڈاکٹر صاحب وضاحت فرمائیں گے ان شاء اللہ)
(۳)صدرجمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ہاتھوں بی اے میں ٹاپ کرکے دوگولڈ میڈل حاصل کرنے پر، میں آج ڈاکٹر صاحب کو مبارک باد دیتاہوں۔
(۴) ہم نے ویسا ہی کیا۔ یکے بعد دیگرے بچوں کی شادیاں کرتے رہے، ابھی آدھی ذمہ داری سے نبر آزما ہی ہوئے تھے کہ ہمارے ایک اور دوست ڈاکٹر منظوردکنی نے ایم اے کرنے کی صلاح دی اور ہم ان کی باتوں میں آگئے اور گلبرگہ یونیورسٹی کے ایم اے میں داخلہ لیا۔ا س طرح پی یوسی کے 22سال بعد بی اے اور بی اے کے 14سال بن باس کے بعد ایم اے کیا(جناب رام بھی اس امرت کال میں ہوتے تو 14سالہ بن باس کے بعدلکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کرلیتے۔کیوں کہ تم چلو ادھر کو ہوا ہو جدھرکی، اس وقت شاید یونیورسٹی نہیں تھی)
(۵)ہماری بیگم کی آرزو ہی رہ گئی کہ وہ بائیک پر ہماری کمر پکڑکے پیچھے بیٹھی رہیں۔ ہم نے انہیں حوصلہ دیاکہ وہ کبھی ہمارے پیچھے نہیں رہیں گی بلکہ ساتھ ساتھ چلیں گی۔ چاہیں بس میں ہوکہ ٹرین میں، آٹو میں ہوکہ کارمیں، ان کی اور ہماری نشست ساتھ ساتھ ہوگی۔ وہ لوگ کم ظرف ہیں جو اپنی بیگم کو ہمیشہ پیچھے رکھتے ہیں (اب ڈاکٹر صاحب کو بھلا کیابتائیں کہ بیگم کے پیچھے رہنے سے کامیاب شوہر کے پیچھے بیگم کاہاتھ ہونے کا دائمی ثبوت ہوتاہے، ڈاکٹر صاحب دورکا دیکھ نہیں پاتے نا، سیدھے آدمی ہیں، اپنی صف میں بیگم کو بھی رکھاہواہے)
(۶)ہرجگہ ہماری سن رسیدی نے (تعلیمی)جدوجہد کوآسان بنادیا(مبارک حضرتِ ڈاکٹر بزرگ۔ بے حد مبارک)
(۷) تجارت کا ذکر بھی خوب ہے ڈاکٹر صاحب۔ یعنی مختلف گھاٹ پر تجار ت کرتے ہوئے اپنی روٹی توے پر اوراپنی ہی چنگیری میں رکھی۔ اللہ تعالیٰ رزق حلال کے حصول کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین
(۸)اچھے کام کو نظر لگ جایاکرتی ہے۔ اس طرح بزم امان اردو کو کسی کی نظر لگ گئی (ڈاکٹر صاحب اردوزبان ہی کو نظر لگ چکی ہے۔یہ توخیر اردو کے ایک معروف شہر کے پانسات محلوں کی تنظیم تھی)
(۹)والدہ بہن بھائی کہتے ہیں مجھ میں غصہ نہیں ہے لیکن یہ بات بیگم سرے سے خارج کرتی ہیں (ڈاکٹر صاحب، ہر بیگم کو اپناشوہر غصیلالگتاہے۔یہاں تک کہ گڑیا بھی گڑے کو غصیلا ہی سمجھتی ہے)
مجموعی طورپر اس خود خاک نگاری سے پتہ چلتاہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دوشریف دوستوں کے درمیان میں پھنس کر ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی۔ پی یوسی کرتے ہی ایک گمنام تاجر بن گئے۔ پھر ایک خالہ زاد (ی) سے وہ بیاہ دئے گئے۔مولانا آزاد سے کم عمر لڑکیوں (لڑکوں کاذکر خاطر خواہ نہیں ہے) کی معیت میں بی اے کیا،دوگولڈمیڈل حاصل کئے۔ پھر نہایت ہی بڑی عمر میں تمام لڑکیوں کے خودساختہ والد بن کر ایم اے کیااور ایم اے میں ٹاپ کرتے ہوئے جملہ تین گولڈ میڈل حاصل کئے۔ پی ایچ ڈی میں کون سا میڈل ملا اس کاذکر چھوڑ گئے۔ مولا ناڈاکٹر محمد کاشف رضا مصباحی کی اسکوٹر پر بیٹھ کر ریسرچ کرنے تک بھی یہی پتہ چلتاہے کہ ڈاکٹر مشتاق احمد سہروری شروع سے پیدل رہے لیکن سوار ی ضرور کی۔ایک جگہ انھوں نے خود سے پوچھاہے کہ ”تم نے زندگی میں کون سا کام وقت پر کیاہے؟“ جواب یہ ہے کہ آپ نے شادی وقت پر کی ہے۔ اوراپنے بچوں کی بھی شادیاں وقت پر کی ہیں۔ دونوں قسم کے بروقت اقدامات کے لئے بندہ مبارک باد پیش کرتاہے اور اس ”خودثنائی“ کے لئے بھی مبارک باد کیوں کہ یہ خودثنائی دراصل خودشناسی تک کاسفر ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ کی ادائیگی اور حج سے فراغت پر بھی روشنی ڈال دیتے تو خودشناسی کو پر لگ جاتے۔
نوٹ:۔ اس مضمون کاآرٹی فیشنل انٹلی جنسی(AI)یعنی مصنوعی ذہانت کے بیمارکردینے والے نادیدہ و طاقتور اوزاروں اور مریضانہ مشینی کارگزاریوں سے کوئی تعلق نہیں ہے الحمد للہ۔
Comments
Post a Comment