حمدِ باری تعالیٰ۔۔ ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری جلگاؤں۔
حمدِ باری تعالیٰ۔
ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری جلگاؤں۔
یہ ساعت رحمت انوار اپنے ساتھ لائی ہے
تری بخشش کا سرمایہ لیے یہ رات آئی ہے
مقدس رات میں بس تیری ہی محفل سجائی ہے
تقاضا ہے محبت کا عمل کی یہ کمائی ہے
خزانہ علم و وحدت کا ترے کلمے کی خوشبو ہے
مرے قلبِ حزیں پر جو گرا رحمت کا آنسو ہے
لٹیں گے آج پھر وہ رحمت یذداں کے نذرانے
جو جاگے آج کی شب وہ پیے کوثر کے پیمانے
مچلتے ہیں جو تیرے نام پر ہیں تیرے دیوانے
تو شمعِ نورِ وحدت ہے یہ سب ہیں تیرے پروانے
ملائک بھی ہیں پڑھتے ذکرِ الا اللہ کی تسبیح
ترے ہی نام کی ہے فوقیت اور اس کی ہی ترجیح
دعاؤں کا صلہ ملتا ہے انوارِ الہی سے
کہا کچھ کام چلتا ہے یہ دل کی کج کلاہی سے
ہر اک نعمت میسر ہے یہ تیری بادشاہی سے
کئی تقوے مچلتے ہیں حریمِ صبح گاہی سے
عبادت کا صلہ پھر مانگنے والے کو ملتا ہے
دعاؤں سے سنا ہے عرش کا پایہ بھی ہلتا ہے
بچا یہ آخری عشرہ ہے اس کا فائدہ لے لو
تم اپنے ہی عمل کا خود میں رہ کر جائزہ لے لو
جو گزرا اور قوموں پر تم ان کا ماجرہ لے لو
سبق قرآن سے سیکھو! حضوری واقعہ لے لو
احد احمد میں پردہ میم کا ہے یہ سمجھ لینا
نمازوں سے جڑے رہنا ہر اک لمحہ دعا دینا
گناہوں کا ازالہ ہے ندائے رحمتِ باری
اے ذاکر! منتظر ہے دیکھ لے وہ شانِ غفاری
ترے روزے کی زینت کیا ہے یہ سحری و افطاری
وہاں وہ جامِ کوثر ہے تو کر جنت کی تیاری
برے اعمال بخشے جائیں گے یہ اس کا وعدہ ہے
اے عثماں! فیصلہ کر تو کہ تیرا کیا ارادہ ہے
صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری۔
ہیپی ہوم کالونی
آٹو نگر جلگاؤں ۔
Comments
Post a Comment