عید الفطر مسرتوں کا پیغام۔۔ ازقلم : ڈاکٹر سروش الرحمٰن خان۔ (یونانی میڈیکل آفیسر و سابق صدر یونانی ڈاکٹرس ایسوسیشن اکولہ)
عید الفطر مسرتوں کا پیغام۔
ازقلم : ڈاکٹر سروش الرحمٰن خان۔
(یونانی میڈیکل آفیسر و سابق صدر یونانی ڈاکٹرس ایسوسیشن اکولہ)
عید الفطر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاحبِ ایمان کے لیے ایک عظیم انعام ہے، جو ماہِ رمضان کی عبادتوں اور ریاضتوں کے صلے میں عطا کیا جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں عید الفطر کو 'یوم الجائزہ' یعنی انعام کا دن قرار دیا گیا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ سال میں دو دن کھیل کود کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔"
عید الفطر اس بات کا اعلان ہے کہ بندے نے اپنے رب کے حکم پر ماہِ مبارک کے تقاضے پورے کیے، اور اب وہ خوشی کے لبادے میں رب کا شکر بجا لا رہا ہے۔
اس دن کی فضیلت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب صاحبِ ثروت مسلمان ' صدقہء فطر' کے ذریعے غریبوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں۔ یہ عمل روزوں کی کوتاہیوں کا کفارہ بھی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی کا ذریعہ بھی۔
نمازِ عید کے لیے میدانوں اور عید گاہوں میں مسلمانوں کا اکٹھا ہونا امت کی وحدت اور مساوات کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔
لیکن اس سال جب ہم عید کی خوشیاں منا رہے ہیں، تو عالمِ اسلام کے مختلف خطوں کی صورتحال دل کو رنجیدہ اور روح کو بے چین کر رہی ہے۔ عید کا پیغام صرف نئے لباس اور لذیذ پکوانوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ نام ہے اخوت، ہمدردی اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کا۔
آج جب دنیا عید کی خوشیاں منا رہی ہے، غزہ کے مسلمان ملبے کے ڈھیروں پر نمازِ عید ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ وہاں عید کی خوشیاں بارود کے دھوئیں اور اپنوں کے جنازوں کے سائے میں ڈھل چکی ہیں۔ غزہ کے مسلمانوں نے صبر و استقامت کی وہ مثال قائم کی ہے جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہماری عید کی خوشیاں ان مظلوموں کی پکار سننے سے عاری تو نہیں؟ غزہ کا پیغام عالمِ اسلام کے لیے یہ ہے کہ حقیقی عید آزادی اور عزتِ نفس کی بحالی ہے۔
ایران کی عوام اس وقت جنگ، سخت بین الاقوامی پابندیوں اور جیو پولیٹیکل دباؤ کے باوجود اپنی روایات اور دینی اقدار کو تھامے ہوئے ہیں۔ وہاں کی عید اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ، معاشی مشکلات اور بیرونی دباؤ کے باوجود ایمان کی حرارت کو کم نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ایرانی مسلمانوں کے حالات ہمیں سکھاتے ہیں کہ متحد ہو کر ہی مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
وہیں بھارت میں رہنے والے کروڑوں مسلمان ایک مخصوص سماجی اور سیاسی ماحول سے گزر رہے ہیں، جہاں انہیں اپنی دینی شناخت اور حقوق کے تحفظ کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کے لیے عید کا دن اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑے رہنے اور صبر و حکمت کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کا نام ہے۔ بھارتی مسلمانوں کی ثابت قدمی عالمِ اسلام کے لیے دعا اور یکجہتی کی متقاضی ہے۔
آج کا مسلمان کہیں معاشی بدحالی کا شکار ہے تو کہیں سیاسی عدم استحکام کا۔ پوری امتِ مسلمہ کرب کی کیفیت میں ہے۔ اس تناظر میں عید الفطر ہمیں سبق دیتی ہے کہ
اپنی خوشیوں اور دعاؤں میں غزہ، فلسطین اور مظلوم مسلمانوں کو سرفہرست رکھیں۔
اس عید پر اسراف سے بچیں اور وہ رقم ان بہن بھائیوں کی مدد کے لیے کھرچ کریں جو ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔
فرقہ واریت اور فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک "جسدِ واحد" بننے کی کوشش کریں۔
یہی عید الفطر کا اصل پیغام ہے۔ اللہ ہی ہمارا حامی و ناصر ہو
Comments
Post a Comment