تلنگانہ کی تاریخ کو مٹانے کی کوششیں ناقابل قبول۔بتکماں کے بغیر تلنگانہ تلی کا تصور ادھورا۔ اسمبلی میں کانگریس کی جانب سے نصب کردہ مجسمہ کو مستقبل میں گاندھی بھون منتقل کرنے کا اظہار: کے کویتا۔


حیدرآباد (شعیب) صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے ایک بیان میں کہا کہ جو لوگ تلنگانہ تحریک کا حصہ نہیں رہے وہ آج تلنگانہ کی تاریخ کو مٹانے کی جسارت کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کی تاریخ کی تشکیل میں حصہ نہ لینے والے عناصر عموماً سب سے پہلے تاریخ کو مٹانے یا مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور موجودہ حالات میں بھی یہی روش اختیار کی جا رہی ہے۔انہوں نے ریاستی اسمبلی کے احاطہ میں گورنر شیو پرتاپ شکلا کی جانب سے تلنگانہ تلی کے مجسمہ کی نقاب کشائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت کی جانب سے نصب کردہ یہ مجسمہ تلنگانہ کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کی صحیح نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق بتکماں کے بغیر تلنگانہ تلی کا تصور ادھورا ہے اور ایسا مجسمہ تلنگانہ کی روح اور ثقافتی ورثہ کی حقیقی علامت نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بتکماں ریاست کی ثقافت اور شناخت کی علامت ہے اور تلنگانہ تحریک کے دوران عوام نے جس تلنگانہ تلی کی تصویر کو اپنایا وہ بتکماں کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ تحریک کے دوران قائم کی گئی علامتوں اور شناخت کو تبدیل کرنا یا مٹانے کی کوشش کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو اسمبلی کے احاطہ میں تحریکِ تلنگانہ کی اصل علامت کے طور پر بتکمان کے ساتھ تلنگانہ تلی کا مجسمہ دوبارہ نصب کیا جائے گا، جبکہ موجودہ مجسمہ کو باعزت طریقہ سے انڈین نیشنل کانگریس کے دفتر گاندھی بھون منتقل کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب انہوں نے کھمم ضلع کے ویلوگمٹلا متاثرین کی حمایت میں پہنچنے والے وشاردھن مہاراج کی گرفتاری کی سخت مذمت کی۔ کویتا نے کہا کہ وشاردھن مہاراج کی گرفتاری غیر قانونی ہے اور انہیں مختلف پولیس اسٹیشنوں میں لے جا کر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وشاردھن مہاراج کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔اس موقع پر انہوں نے معروف شاعر اور استاد نندنی سدھاریڈی کو ساہتیہ اکیڈمی کا ایوارڈ ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اعزاز نہ صرف ان کے لئے بلکہ پورے تلنگانہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نندنی سدھاریڈی کی نظموں کے مجموعہ "انیمیش" کو نثری شاعری کے زمرے میں یہ اعزاز ملا ہے۔ کویتا نے امید ظاہر کی کہ ان کے قلم سے آئندہ بھی ایسی ہی معیاری تخلیقات سامنے آتی رہیں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ