منشی پریم چند — ادب کا شمسی مینار۔
آداب سیریز کے تحت آئیڈیا پیش کرتا ہے ایک دلکش ادبی شام، جس میں منشی پریم چند کے مزاح اور فن کی رنگا رنگ جھلکیاں بھی ہوں گی اور امرتا پریتم کی زندگی اور عشق کا کرب بھی-
منشی پریم چند — ادب کا شمسی مینار۔
اردو و ہندی فکشن کے بے تاج بادشاہ منشی پریم چند وہ ادیب ہیں جن کی تحریریں انسان دوستی، سماجی شعور اور حقیقت نگاری کا آئینہ ہیں۔ عموماً انہیں سنجیدہ اور اصلاحی ادب کا علمبردار سمجھا جاتا ہے، مگر ان کی کئی کہانیوں میں لطافتِ طبع، نرم مزاح اور انسانی کمزوریوں کا ہلکا پھلکا طنز بھی بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے
انہی رنگوں کو سامنے لاتے ہوئے اتوار 29 مارچ شام 5 بجے شکنتلم اسٹوڈیو میں پریم چند کی تین کہانیاں پیش کی جائیں گی:
"لانچھن" ، "رسک سمپادک اور بڑے گھر کی بیٹی”
پہلی دو کہانیاں اپنے اندر دلکش اور شگفتہ مزاح رکھتی ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ پریم چند صرف سنجیدہ نہیں، بلکہ لطیف مزاح کے بھی نہایت کامیاب خالق تھے۔
امرتا پریتم — عشق، درد اور روحانیت کی شاعرہ
رات ساڑھے سات بجے صادق انصاری کا تحریر کردہ ڈراما "عشق جلے تو جلے" پیش کیا جائے گا، جو برصغیر کی عظیم شاعرہ امرتا پریتم اور امروز کی زندگی کے لازوال رشتے پر مبنی ہے
امرتا پریتم نے محبت، جدائی، عورت کی داخلی کائنات، تقسیمِ ہند کے زخم اور روحانی کیفیتوں کو جس سچائی سے بیان کیا، وہ انہیں اردو اور پنجابی ادب کی انمٹ آواز بنا دیتا ہے۔ اس ڈرامے کے اب تک 100 سے زیادہ شوز ہو چکے ہیں، جو کسی اردو ڈرامے کے لیے باعثِ فخر اور اس کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔
ہدایات و اسٹیج کاری
ان تمام ڈراموں کی ہدایت مجیب خان نے دی ہے، جو اپنے اسٹیج کام میں انسانی جذبات، رشتوں اور احساسات کی ایسی سچی ترجمانی کرتے ہیں کہ کردار دل میں اُتر جاتے ہیں اور ناظر دیر تک ان کے اثر سے باہر نہیں آ پاتا
مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کریں:
📞9821044429
Comments
Post a Comment