جہنم (دوزخ)کی آگ سے نجات۔۔۔ ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
جہنم (دوزخ)کی آگ سے نجات۔۔
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
جہنم یادوزخ کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے ”مرنے کے بعد گناہگاروں کو سزاد ینے جس جگہ انسانوں کو اللہ رکھے گا اس کو جہنم یا دوزخ کہیں گے“اس کی ایک تعریف بری جگہ یاتکلیف دہ جگہ کی بھی ہے۔ ریختہ نے مجازاً آدمی کاپیٹ، معدہ اور بھوک کی وجہ سے شکم کو بھی دوزخ کہاہے۔ تصوف کے حوالے سے نفس امارہ کو کہیں گے۔ طبیعت انسانی کاوہ میلان جو برے کام کی طرف ہوتاہے۔ شر کی جانب مائل کرنے والا نفس، گناہوں پر آمادہ کرنے والے قلب کو نفس امارہ کہاجاتاہے۔ اس تعلق سے کہیں محاورے اردو ادب میں ملتے ہیں۔ استاد ذوق کا ایک شعر ہے ؎
بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مار ا
نہنگ واژدہا وشیر نر کو ماراتو کیامارا
بات کو طول نہ دیتے ہوئے جہنم یا دوزخ کی آگے سے نجات والے ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اسی دوزخ یا جہنم کی بابت مختلف شعراء کے اشعار ذیل میں ہم پیش کریں گے، تاکہ اردوادب کے حوالے سے پتہ چل سکے کہ شعراء نے دوزخ اور جہنم کولے کر اپنے تخیل یااپنے علم وفضل کے گھوڑے کہاں تک دوڑائے ہیں۔ ہم نے عمداً کسی بھی شعر کی تشریح کی کوشش نہیں کی ہے۔ اس لئے کہ بات غیرموثر نہ ہوجائے یاطوالت کے سبب بوریت نہ لدجائے۔ شعر کے ذریعہ راست طورپر اشارہ وکنایہ سے کام نکالنا ضروری سمجھاہے تاکہ قاری کی غوروفکر کی عادت میں پختگی آجائے۔ اب بسم اللہ کرتے ہیں۔ میرتقی میرؔ کہتے ہیں ؎
جائے ہے جی نجات کے غم میں
ایسی جنت گئی جہنم میں
جنت اورجہنم کاایک ساتھ ذکر علامہ اقبال نے بھی کیاہے۔ ان کاوہ جونوری وناری والا مشہور شعر ہے ملاحظہ فرمائیں ؎
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
جگر مرادآبادی نے کہاتھا ؎
آتش عشق وہ جہنم ہے
جس میں فردوس کے نظارے ہیں
احمد ندیم قاسمی کی غزل کامعروف شعر ہے ؎
اے خدا پھر یہ جہنم کا تماشا کیا ہے
تیرا شہکار تو فی النار نہیں ہوسکتا
یہ شہکار عجیب شہکار ہے جس کو انسانوں میں خصوصیت کے ساتھ ”شاعر“ ہونے کاغرہ ہے۔ اس کی سوچ کوکون پکڑے گا، یا اس کی سوچ تک کون پہنچ سکتاہے۔ داغ ؔ دہلوی اپنی ایک غزل کے شعر میں کہتے ہیں ؎
مجھ گنہ گار کوجو بخش دیا
تو جہنم کو کیادِیاتونے
لیجئے اب اِدھر چین نہ اُدھر چین۔ بخشیں، مجھے بخشیں والی دہائی ختم ہوتے ہی سوال کھڑا ہوگیاکہ ”تو جہنم کو کیادِیا تو نے“۔ شبنم شکیل مردہیں یا خاتون پتہ نہیں لیکن ان کایہ شعر دیکھئے گا ؎
خود آگہی کا جہنم بھی ہے قبول مجھے
مگر میں تیری تمنا، ترے سفر میں رہوں
ملک زادہ جاوید کا شعر ہے ؎
جہنم نام لکھوالے گا اپنے
بزرگوں سے جو اونچا بولتاہے
برج نارائن چکبست ؔ کا جہنم سے متعلق شعر ہے ؎
بہت سودا رہا واعظ تجھے نارِ جہنم کا
مزہ سوزِ محبت کابھی کچھ، اے بے خبر جانا
میرؔبیدری کو جو خیال آتاہے جانے کس کاخیال آتاہے؟ ؎
زندگی جئے جاتے ہیں، مگر مر ے یارو
ذکر پر جہنم کے ہی خیال آتا ہے
ہوسکتاہے حضرت واعظ کے علاوہ کسی اور کاخیال ہو۔ ایک اور شعر میں میرؔبیدری کہتے ہیں ؎
حضرت واعظ جہنم میں رہے
اس کی بابت تو نہیں سوچا کبھی
جانے کس شاعر کا شعر ہے لیکن ہے بڑاہی شاندار، وہ شعر کچھ یوں ہے ؎
شیخ جی ہم تو جہنم کے پرندے ٹہرے
آپ کے پاس تو فردوس کی چابی ہوگی
اب ہم دوزخ لفظ کے ساتھ کہے گئے اشعار کی جانب آتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اُردو ادب میں جہنم سے زیادہ ”دوزخ“ لفظ کو لے کر شعر کہے گئے ہیں۔ سب سے پہلے استاد شیخ ابراھیم ذوق ؔکا یہ شعر پڑھئے گا ؎
آگ دوزخ کی بھی ہوجائے گی پانی پانی
جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے
جون ایلیااپنی نظم ”درخت زرد“ میں کہتے ہیں ؎
مرے سینے میں کب سوزندہ ترداغوں کے ہیں تھالے
مگر دوزخ پگھل جائے جومیرے سانس اپنالے
ساحرلدھیانوی کی نظم”وہ صبح کبھی تو آئے گی“ کایہ شعر دیکھئے گا ؎
فاقوں کی چتاؤں پر جس دن انسان نہ جلائے جائیں گے
سپنوں کے دہکتے دوزخ میں ارمان نہ جلائے جائیں گے
آگے کیاہوا پتہ نہیں، بہر حال داغ ؔدہلوی اپناتجربہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں ؎
یہ رنج وعیش ہوئے ہجرووصل میں ہم کو
کہاں ہے دوزخ وجنت کسی کو کیامعلوم
غالب کا مشہور شعر ؎
آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوز غم ہائے نہانی اور ہے
پھر ایک شعرآتش دوزخ کی ترکیب کے ساتھ چچا غالب ہی کاملاحظہ کریں ؎
جلوہ زارآتش دوزخ ہمارا دل سہی
فتنہ ء شور قیامت کس کے آب وگل میں ہے
عرش ؔملسیانی کہتے ہیں ؎
جس میں ہودوزخ کا ڈر، کیالطف اس جینے میں ہے
توبہ کرنے میں کہاں وہ جو مزا پینے میں ہے
پنڈت دیاشنکر نسیم لکھنوی کی حیات کی کشمکش بھی ملاحظہ کرلیں ؎
دوزخ وجنت ہیں اب میری نظر کے سامنے
گھر رقیبوں نے بنایا اس کے گھر کے سامنے
میرانیس ایک مرثیہ میں کہہ رہے ہیں ؎
ہوں گے محشور ترے ساتھ عزا دار تمام
تجھ کو جوروئیں گے آنچ ان پہ ہے دوزخ کی حرام
ایک اور مرثیہ میں کہتے ہیں ؎
موت ہر غول کو برباد کیے جاتی تھی
آگ گھیرے ہوئے دوزخ میں لیے جاتی تھی
ہر ی چند اختر کی فکر اور ان کے خیال کو پڑھیں اور سردھنیں، کہتے ہیں ؎
ملے گی شیخ کوجنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
بس اتنی سی بات ہے جس کے لیے محشر بپاہوگا
فیض احمد فیض ؔ شاعر ہیں تو شیخ سے بیر بھی رکھیں گے ہی۔ اور وہ بیر اس قدر ہے کہ بات دوزخ اور مے تک جاپہنچتی ہے ؎
خیردوزخ میں مے ملے نہ ملے
شیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گی
جناب بیتاب ؔامروہوی واعظ سے کہہ بیٹھے ہیں ؎
تجھ کو واعظ مری دوزخ کا کوئی علم نہیں
مجھ کومعلوم ہے لیکن تری جنت کیا ہے
جگر مرادآبادی کہتے ہیں ؎
اسی کوکہتے ہیں جنت، اسی کودوزخ بھی
وہ زندگی جو حسینوں کے درمیاں گزرے
سراج لکھنوی کہتے ہیں ؎
لیاجنت میں بھی دوزخ کاسہارا ہم نے
آشیاں برق کے تنکوں سے سنوارا ہم نے
عنبرین صلاح الدین بیزار بیٹھی ہیں اور اپنی نظم ”قرۃ العین حیدر“ میں کہہ رہی ہیں ؎
میرے ہونے سے جہاں بھر کو مصیبت کیاہے
کیسے دوزخ کا پتہ مانگتی ہوں اس کے عوض
معراج فیض آبادی ایک اچھے ناظم مشاعرہ گزرے ہیں۔ ان کاشعر ہے ؎
یہ تبسم تو ہے چہروں کی سجاوٹ کے لیے
ورنہ احساس وہ دوزخ ہے کہ جلتے رہیے
عبدالحمید عدم ؔ کی کہانی کچھ یوں ہے ؎
یاردوزخ میں ہیں مقیم عدم ؔ
خلدسے انتقال کرچلیے
سیدمشکور حسین یادؔکی ایک غزل ہے جس کی ردیف ”دوزخ بجھنے لگتی ہے“ ہے، اس غزل کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
الگ کھڑے ہوتے ہیں تو ہر سمت بھڑکتے ہیں شعلے
بزم ِ نیاز سجاتے ہیں تو دوزخ بجھنے لگتی ہے
مرزا غالب فرماتے ہیں ؎
کیوں نہ فردوس میں دوزخ کوملالیں یارب
سیرکے واسطے تھوڑی سی جگہ اور سہی
آزاد ؔ گلاٹی کا یہ شعر کافی گہر امحسوس ہوتاہے ؎
تمہارے جسم کی جنت تومل گئی ہے مگر
میں اپنی روح کی دوزخ کاکیاعلاج کروں
محسن احسان کی غزل کایہ شعر دعائیہ سالگتاہے ؎
مرے وجود کے دوزخ کو سر دکردے گا
اگر وہ ابرِ کرم ہے تو کھل کے برسے گا
اس کے ابرِ کرم کو کھل کر برسنا ہے۔ اِمسال آئے ماہ ِ رمضان کے صرف پانچ دن باقی بچے ہوئے ہیں۔ ان پانچ دِنوں میں دوزخ کی آگ /جہنم سے خلاصی ہوجائے تو ہم نے گویا مرادپالی اور اس طرح پیغمبروں، شہداء، اور ولیوں کی راہ پر چلنے والے کہلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے آباواجدادکو اورخود ہمیں بھی دوزخ کی آگ سے نجات عطافرمائے آمین۔ شبِ قدرکے حصول کا ہم میں ذوق وشوق بیدار ہواور وہ ہزار مہینوں سے بہتر رات ہم سب شعراء، ادیب، نقاد، تاجر، سماجی جہدکار، ٹیچرس، صحافی، داعی ء دین اور سیاست دانوں کو مل جائے۔ آمین
Comments
Post a Comment