انجام بخیر (افسانہ) از قلم: ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ۔


انجام بخیر (افسانہ) 
 از قلم: ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ۔

شہر کے پرانے حصّے میں ایک تنگ گلی تھی جہاں گھروں کی دیواریں ایک دوسرے کے راز جانتی تھیں۔ اُسی گلی میں حمزہ اور سلیم کی دوستی کی مثال دی جاتی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر دوستی کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ ان دونوں جیسا ہوتا۔
مگر مثالیں اکثر آزمائش کے لیے بنتی ہیں۔
حمزہ نرم دل انسان تھا۔ وہ سلیم کو مجبور سمجھ کر اس کے ہر دکھ میں شریک ہوتا۔ کاروبار میں نقصان ہو یا گھر کی الجھن، وہ اپنا وقت، پیسہ اور عزت تک داؤ پر لگا دیتا۔
سلیم ہر بار شکر گزاری کے چند لفظ کہتا، اور حمزہ اُن لفظوں کو سچ مان لیتا۔
ایک دن شہر کی ایک محفل میں باتوں کا رخ اچانک حمزہ کی طرف مڑ گیا۔
لوگوں کی آنکھوں میں حیرت تھی، اور زبانوں پر وہی راز تھے جو اُس نے صرف ایک شخص کو بتائے تھے۔
سلیم خاموش کھڑا تھا —
خاموشی بھی کبھی کبھی سب سے بڑی گواہی ہوتی ہے۔
حمزہ نے اُس لمحے محسوس کیا کہ دوستی کے لباس میں ملبوس دغا سب سے خطرناک زہر ہے۔
وہ گھر آیا تو ماں نے پوچھا،
“بیٹا، کیا ہوا؟ چہرہ اترا ہوا کیوں ہے؟”
وہ مسکرا دیا۔
“کچھ نہیں امّی، بس ایک سبق ملا ہے۔”
اُس رات اُس نے لمبا سجدہ کیا۔
آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، مگر زبان سے بددعا نہ نکلی۔
صرف ایک جملہ:
“یا رب! مجھے انصاف عطا کر، اور اگر میں غلط ہوں تو مجھے سدھار دے۔”
کہتے ہیں مظلوم کی آہ پردوں کو چیرتی ہوئی عرش تک پہنچتی ہے۔
وقت گزرا۔
سلیم کی عادت تھی کہ وہ دوسروں کے راز سن کر محفلوں میں مزہ لیتا۔
آہستہ آہستہ لوگوں نے اُس سے بات کرنا کم کر دیا۔
اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں جڑتا، اور اگر جڑ بھی جائے تو دراڑ باقی رہتی ہے۔
ایک دن سلیم کی اپنی بیٹی کے بارے میں شہر میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔
الفاظ وہی تھے، انداز وہی — بس کردار بدل گئے تھے۔
وہ بے چین ہو کر دروازے بند کرتا، مگر باتیں دیواروں سے ٹکرا کر پھر باہر نکل آتیں۔
اُسے پہلی بار اندازہ ہوا کہ جب راز تماشہ بنے تو دل پر کیا گزرتی ہے۔
وہ سیدھا حمزہ کے گھر پہنچا۔
آنکھوں میں ندامت تھی۔
“مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہیں کمزور سمجھا تھا۔”
حمزہ نے اُسے غور سے دیکھا۔
“میں کمزور نہیں تھا، میں مخلص تھا۔ اور مخلص آدمی کو کمزور سمجھنا سب سے بڑی جہالت ہے۔”
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر حمزہ نے کہا،
“میں تمہیں معاف کرتا ہوں، مگر یاد رکھو — اللہ کی عدالت میں ہر امانت کا حساب ہوگا۔ دوستی بھی ایک امانت تھی۔”
سلیم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس دن شہر نے ایک نیا سبق سیکھا:
جو دوست بن کر دغا دیتا ہے، وہ سب سے پہلے اپنی عزت ہارتا ہے۔
جو استاد کے ساتھ جاہلوں جیسا رویہ رکھتا ہے، اُس کے علم سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
اور جو کسی کو مجبور سمجھ کر سہارا دے کر پھر اُسے ذلیل کرے، اُس کا سہارا خود اُس کے لیے عذاب بن جاتا ہے۔
کہانی کا انجام دنیا میں مکمل نہیں ہوا —
مگر اتنا ضرور ہوا کہ حمزہ کا دل مطمئن تھا۔
کیونکہ وہ جان چکا تھا:
بعض فیصلے زمین پر نہیں، آسمان پر ہوتے ہیں۔
اور وہاں سے آنے والا انصاف دیر سے سہی، مگر کامل ہوتا ہے۔
عرش کے سامنے جب نام پکارے جائیں گے،
تو دغا دینے والے کے پاس الفاظ نہیں ہوں گے —
اور مظلوم کی خاموشی اُس کے حق میں گواہی دے گی۔
انجام بخیر اُن کا ہوتا ہے جو زخمی ہو کر بھی ظلم نہیں کرتے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ