دینی درسگاہ معھد انوارالقرآن بیدر کو رمضان المبارک کے موقع پر تعاون کی اپیل۔
بیدر : 3/ مارچ (نامہ نگار)حافظ محمد نذیر احمد شرفی صدر مدرس مدرسہ ہذا کے بموجب بیدر کی قدیم معروف دینی درسگاہ مدرسہ معھد انوارالقرآن عقب درگاہ شریف حضرت سیدنا خواجہ ابو الفیض روبرو منجیراکالج فیض پورہ بیدر علوم اسلامیہ کی دینی و عصری اقامتی درسگاہ ہے۔ جس کو جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے زیر نگرانی چلایا جاتاہے۔جس میں جملہ150طلباء و طالبات علم دین کے زیور سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ہمہ وقتی درسگاہ میں امسا ل سرمایہ کی کمی کے پیش نظر طلبا ء کی تعدا د میں کمی کی گئی ہے۔
درسگاہ میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کے لئے قیام و طعام، لباس، علاج ومعالجہ اور دیگر اہم ضروریات کا باقاعدہ انتظام ہے۔ مدرسہ ہذا سے 40طلباء نے تکمیل حفظ کیاہے،جس میں 10طالبات حفظ قر آن مجید کی تکمیل کی ہے۔ 148طلباء شعبہ قراء ت سے فراغت حاصل کی، 53طلباء نے شعبہ امامت میں فراغت حاصل کی، 7طلباء نے نائب قضائت میں فراغت حاصل کی۔ ان شعبہ جات میں طلباء نے جامعہ نظامیہ سے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔ معھد انوارالقرآن سے فارغ ہونے والے طلباء کی تعداد 215رہی۔ جامعہ ام الوریٰ جس میں طالبات کی تعداد 100 رہی، اور دو مکاتب جس میں طلباء اور طالبات کی تعداد 100سے زائد ہے۔ مدرسہ ہذا کے پاس کوئی ذرائع آمدنی نہیں ہے۔مدرسہ صاحب خیرحضرات کے مالی تعاون عمل سے ہی چل رہاہے۔ مدرسہ میں تعلیم وتربیت نظم و ضبط مسنون طریقہ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اور شعبہ جات ناظرہ مع تجوید، حفظ القرآن الکریم، امامت، مولوی ابتدائی، قضائت اور موذنی کے علاوہ دیگر عصری خصوصی کورسیس کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور آئندہ طلباء کی تعداد میں اضافہ کا منصوبہ، ذاتی زمین و عمارت کا قیام، دارالمبلغین کا قیام، کمپیوٹر کورسیس کا آغاز، کتب خانہ اور عصری علوم کیلئے علیحدہ ٹیچرس کیلئے تقررات کا منصوبہ زیر غور ہے۔ ملت اسلامیہ کے درد مندصاحب خیرحضرات سے' محمد شاہدالرحمن، الحاج محمد عبدالعزیز چنداقادری الشطاری،الحاج محمد غلام دستگیر 'حافظ و قاری مولانا ٹیپو سلطان نظامی امام و خطیب مسجد صغرئ، محمد عبدالکر یم ٹیلر،نے رمضان المبارک کے خصوصی موقع پر چندوں،عطیوں،فطرہ،زکوٰۃ، کے ذریعہ اپنے محبوب و منفرد دینی ادارہ کا فراخدلانہ تعاون کرنے کی پر زور اپیل کی ہے۔ مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی بانی ناظم مدرسہ ہذا کے سیل نمبر,9393448282, 09341075140پر رابطہ پیدا فرمائے، گوگل پے و فون پے پر بھی عطیہ جات جمع کیے جا سکتے ہیں۔۔۔
Comments
Post a Comment