وہ ساعت آگئی۔(نظم)۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
وہ ساعت آگئی۔
(نظم)
ازقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
وہ ساعت آگئی، وہ ساعتِ انوار آگئی
رحمتِ یزداں کی جھولی بھر کے بہار آگئی۔
فضاؤں میں ندا ہے، عرش سے آواز آئی ہے
شبِ رحمت، شبِ مغفرت، شبِ اسرار آئی ہے۔
اٹھو اے بندگانِ حق! یہ لمحے قیمتی پالو
دعا کے ہاتھ اٹھا کر اپنی تقدیریں سنبھالو۔
یہی وہ رات ہے جس کی بشارت تھی زمانوں سے
ہزاروں ماہ سے بہتر، یہ روشن رات شانوں سے۔
فرشتوں کی قطاریں ہیں، زمیں پر نور برستا ہے
ہر اک سجدہ یہاں مقبول، ہر آنسو بھی ہنستا ہے۔
ملائک صف بصف اترے ہیں لے کر رحمتوں کا جام
فضا میں ذکرِ رب ہے اور لبوں پر حمد کا پیغام۔
یہ طاق راتیں ہیں، قسمت کے دریچے کھل رہے ہیں
جہنم سے رہائی کے پروانے بٹ رہے ہیں۔
رزق کی وسعت، عزت و عظمت کے خزانے ہیں
قبولیت کی ساعت میں دعاؤں کے ترانے ہیں۔
مانگ لو جو مانگنا ہے، آج رب سننے کو تیار
درِ رحمت کھلا ہے، فیض بکھرا چار سو ہر بار۔
یہی گھڑیاں ہیں جن میں عرش سے فرمان آتا ہے
جو مانگو بندۂ مومن! تمہیں انعام ملتا ہے۔
جبرئیلِ امیں بھی حکمِ رب کے منتظر ٹھہرے
ملائک بھی دعاؤں کے مقدر لکھنے کو ٹھہرے۔
یہ رات بندگی کی، یہ شب سجدوں کی سوغات
یہی تو ہے سعادت، یہی ایمان کی برکات۔
اٹھو! اپنے گناہوں کی سیاہی دھو کے آؤ
ندامت کے سمندر میں ذرا دل کو بہاؤ۔
خدا کو راضی کرلو، پھر یہ موقع ملے نہ ملے
یہ ساعت پھر زمانے میں دوبارہ ملے نہ ملے۔
قدر دان بنو اس رات کی، اس نور کی قدر کرو
دنیا بھی سنوارو اپنی اور آخرت بھی سرخرو۔
کہتا ہے عقیل خان یہ رازِ بندگی سن لو
شبِ قدر آگئی ہے، رب کو راضی آج کر لو۔
Comments
Post a Comment